پایان نامه ارشد درباره علامه طباطبائی، شهید مطهری، حوزه علمیه، نهج البلاغه

دانلود پایان نامه ارشد

در بر دارد ناچار تغییر یافته و نفی خواهد شد. علامه چهار تا اشکال بر این نظریه وارد کرده است.
شهید در بخش آخر این مقاله از مفهوم حرکت عمومی توضیح می دهد و نظریه های مختلف را درباره قوه نقل کرده بررسی می کند از بحث مذبور شهید به شهادت می رسد و فرصت به شرح متن های بعدی این کتاب پیدا نمی کند و تا آخر کتاب فقط متن کتاب علامه ذکر شده است.
علامه از حرکت توسطیه و قطعیه تعریف می کند. و دخالت زمان را در حوادث مادیه بررسی کرده نتیجه می گیرد: 1) زمان مقدار حرکت است. 2) به شماره حرکات موجوده جهان می توانیم زمان فرض کنیم. 3) زمان ساخته وجود سیال جهان بوده. 4) یکی از اسباب سنجش سرعت و بطئو حرکات زمان است. 5) زمان آغاز و فرجام ندارد.
در خاتمه این مقاله علامه چهار توضیح را بیان می کندک در توضیح اول شش چیزی را که در حرکت لازم است بیان می کند مبداء، منتهی، مسافت، موضوع، فاعل و زمان. و در توضح دوم مفهوم جهش را از زبان سائنسدانان بیان کرده نظر فلسفه را درباره آن بیان می کند و در توضح سوم تقسیم حرکت را از ناحیه علت فاعلی بیان می کند و در توضیح چهارم خلاصه مقاله را بیان نموده است.
در مقاله یازدهم: از حدوث و قدم بحث می کند. و مسائلی که در این مقاله بیان شده است مندرجه ذیل اند. 1) صفاتی خارجی بنام تقدم و تاخر و معیت داریم. 2) هر تقدم و تاخر مشتمل بر ملاک است. 3) هر تقدم و تاخری از جنس خود معیت ندارد. 4) هر تاخری در مرتبه متقدم خود معدوم ا ست. 5) حدوث تقدم و تاخر یک نوع تقدم وتاخر می باشد. 6) طبیعی کائنات حادث علی است. 7) طبیعی کائنات حادث زمانی نیست.
مقاله دوازدهم درباره وحدت و کثرت است.و مسائلی در این مقاله بحث شده است:
1) وحدت و کثرت در خارج داریم. 2) وحدت و کثرت منقسم می شوند به شخصی و کلی، بسیط و مرکب. 3) یکی از خواص کثرت غیریت است. 4) هر فعلیتی فعلیتهای دیگر را از خود می راند. 5) وحدت و حدت کثیر محال است. 6) غیریت منقسم است به ذاتی و عرضی. 7) تقابل را فلاسفه به چهار قسم تقسیم کرده اند.
و مقاله سیزدهم دربارة مهیت و جوهر و عرض است. و مسائلی در این مقاله ذکر شده است مندرجه ذیل است. 1) ما در خارج مهیات زیادی داریم. 2) در مهیات نیز ترکیب پیدا می شود. 3) ترکیب مهیات به واسطه جنس و فصل است. 4) اجناس نهایةًبه اجناس عالی منتهی می شوند. 5) اجناس عالی به واسطه فصولی نوعیت پیدا می کنند. 6) مهیت با انضمام فصل اخیر تمام می شود. 7) جنس بی فصل و فصل بی جنس نمی شود. 8) مهیت منقسم می شود به جوهر و عرض و هر دو در خارج موجودند. 9) جوهر چهار نوع کلی دارد. 10) عرض به سه قسم کلی منقسم می شود.

عرض مترجم
1. اس کتاب کے ترجمه میںمنمندرجه ذیل نکات کا لحاظ کیا گیا هے
2. حد الامکان مطالب کو ساده اور عام فهم بنانے کی کوشش کی گئی هے ۔
3. چونکه کتاب دو حصے ،متن علامه اور شهید مطهری کے حاشیے پر مشتمل هے لهذا ترجمه میں علامه کے متن کو جلی خط کرکے جبکه شهید مطهری کے حاشیه کو معمولی اندازمیں پیش کیا گیا هے۔
4. فلسفی اصطلاحات کی جهاں کهیں ضرورت محسوس هوئی توضیح دی گئی هے۔
5. وه توضیحات جو مترجم کی طرف سے دی گئی هے اس کے آخر میں {} کے اندر جهاں مترجم لکھا گیا هے ۔
6. مقدمه مترجم میں مصنف اور حاشیه نگار دونوں کے مختصر حالات زندگی درج هوئی هے۔ یه چیز دو وجوهات کی بنا پر انجام پائی هے ایک یه که خود کتاب دو حصے پر مشتمل تھی اور دونوں حصے اهمیت کے اعتبارسے ایک دوسرے سے کم نهیں هیں لهذا ایک کو دوسرے پر ترجیح نهیں دیا جا سکتا تھا، دوسری بات یه که مصنف اور حاشیه نگار دونوں کی شخصیت اردو دان طبقے میں تقریبا ناشناخته هے اور اس کتاب کے ترجمه کی وجوهات میں سے ایک ان دو شخصیات کا تعارف بھی هے اس بنا پر ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف شامل کیا هے۔
7. کتاب کی معرفی کے حوالے سے پوری کتاب کا مختصر خاکه بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب کی اسی جلد کابھی مختصر تعارف پیش کیا هے تاکه قارئین جهاں اس جلد کے ساتھ آگاه هوں وهاں پوری کتاب کے بارے میں بھی کسی حد تک آشنا هو سکیں۔
8. اردو زبان میں اس موضوع پر منابع کی کمی کے باعث اصطلاحات کا دقیق ترجمه یا متبادل اصطلااح پیدا کرنا بهت هی مشکل اور طاقت فرسا کام هے۔ اس بنا پر قارئین محترم سے خالصانه گزارش کی جاتی هے که کتاب کو مزید بهتر بنانے کی خاطر اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاه فرمائیں۔
9. جامعة المصطفی العالمیه کے مسئولین سے بھی ایک گزارش هے که اردو زبان طالب علموں کو تحقیق پایانی، پایان نامه حتی رساله دکتری تک اردو میں لکھنے پر ملزم کیا جائے ۔

فهرست مطالب

مقدمه مترجم 1
مؤلف 1
حسب و نسب اور پیدایش 1
شادی اور اولاًد 2
دوران تحصیل و تدریس 2
وفات 6
علمی سفر نامه 2
نجف اشرف میں 2
تبریز میں 3
قم میں 3
تهران میں علمی جلسات 3
علامه کے اساتید 4
علامه کے شاگرد 4
علامه کے علمی آثار 4
تفسیر المیزان 5
علامه طباطبائی کے بارے میں لکھے گئے آثار 5
استاد شهید مرتضی مطهری کا تعارف 6
ابتدائی تعلیم 7
قم کی طرف سفر 7
در س نهج البلاغه 7
امام خمینی(رح) کے دروس 8
علامه طباطبائی کے حضور 8
علمی اور تبلیغی فعالیتیں 9
ازدواجی زندگی 9
کتاب حاضر کا درس 10
یونیورسٹی میں معلمی 10
ثقافتی فعالیتیں 11
سیاسی فعالیتیں 12
شهادت 13
روحی تبدیلی 13
شهید کے علمی آثار 13
کتاب حاضر 15
مقاله نمبر 10:قوه و فعل ، امکان و فعلیت 18
اشکال 46
جواب 48
حرکت کیا هے؟ حرکت کے وقت کیا چیز انجام پاتی هے اور حاصل هوتی هے؟ 62
حرکت کےمفهوم کی وسعت 70
حرکت اورارتقاء 72
کائنات میں تکامل کا تجربه 80
طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون 85
مقدمه 85
آیا “شدن” هستی اور نیستی سے مرکب هے؟ 96
طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون 105
اعتراضات 111
عمومی حرکت کے مفهوم کی وضاحت 122
اب همیں حرکت عمومی کی کس طرح وضاحت کرنی چاهئے؟ 143
حرکت میں کھینچاؤ (امتداد) 144
زمان اور حرکت 145
خاتمه 149
توضیح نمبر 1 149
توضیح نمبر 2 151
جهش کے بارے فلسفه کا نظریه 152
توضیح نمبر 3 153
توضیح نمبر 4 153
اس مقاله میں ثابت هونے والے مسائل مندرجه ذیل هیں : 154
مقاله نمبر 11:حدوث و قدم 157
تقدم، تأخر اور معیت(پهلے، بعد میں اور ساتھ) 158
حدوث اور قدم 161
حدوث و قدم کے مفهوم میں وسعت 162
آیا تمام کائنات کے بارے میں کیا کهه سکتے هیں؟ 162
اس مقالے میں بیان هونے والے مسائل مندرجه ذیل هیں: 163
مقاله نمبر 12:وحدت و کثرت 165
وحدت اور کثرت کی تقسیم 167
تقسیم نمبر 1 167
تقسیم نمبر 2 167
وحد ت اور کثرت کے احکام 168
وحدت کی خصوصیات 168
کثرت کی خصوصیات 168
تقابل اور اس کی اقسام 169
مقاله نمبر 13:ماهیت، جوهر اور عرض 172
ماهیت 173
ماهیت کی قسمیں 174
جوهر اور عرض 176
سائنسی تجربه کیا کهتا هے؟ 177
جواب 179
جوهر کی قسمیں 180
عرض کی اقسام 183
اس مقالے میں ثابت هونے والے مسائل : 184

مقدمه مترجم
کتاب کے مطالب کو قارئین کی نظر کرم سے گذارنے سے پهلے دو چیزوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا هوں تاکه کتاب کے مطالب کے ساتھ قارئین کی دلچسپی میں دوچندان اضافه هو۔ ان میں سے ایک، عالم اسلام کے دو عظیم مفکر اس کتاب کے مصنف علامه محمد حسین طباطبائی اور اس کے اوپر حاشیه لکھنے والی شخصیت شهید مرتضی مطهری کی مختصر حالات زندگی اور دوسری چیز خود اس کتاب کا مختصر تعارف تاکه قارئین کو معلوم هو که وه کس کتاب کا مطالعه کرنے جارهے هیں۔
مؤلف
سید محمد حسین طباطبائی جوعلامه طباطبایی کے نام سے معروف هیں چودهویں صدی هجری کے بڑےمفسر، فلسفی، متکلم، اصولی، فقیه، عارف، اسلام شناس اور فکری اور مذهبی لحاظ سے ایران کے بااثر علماء میں شمار هوتے هیں۔ انهوں نے تفسیرمیں المیزان، فلسفه میں بدایة الحکمة و نهایة الحکمة اور کتاب حاضر یعنی “فلسفه کے اصول اور حقیقت پسندانه نقطه نظر” تحریر فرمایا هے۔
انهوں نے حوزه علمیه قم میں فقه اور اصول کے روایتی درسوں کے بجائے تفسیر کا درس شروع کیا اور ان کا یه کام حوزه میں تفسیر کے دروس میں رونق بخشنے کا سبب بنا۔ ان کی تفسیری روش “تفسیر قرآن به قرآن” یعنی قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر تھی۔ فلسفه کے دروس کی چھٹیوں کے دوران اپنے خاص شاگردوں کی خصوصی کلاسیں ترتیب دے کر ملا صدرا کے فلسفیانه نظریات تدریس کرتے تھے۔ اس کے بعد فلسفه کے اکثر اساتید ان کے هی شاگرد رهےهیں۔
ان کے شاگردوں میں شهید مرتضی مطهری، آیت الله جوادی آملی، آیت الله مصباح یزدی اور شهید بهشتی کو ایران میں چودویں صدی هجری کے بااثر اور مشهور شیعه علماء میں شمار کئے جاتے هیں۔ هانری کرین کے ساتھ علامه کی نشست و برخاست یورپ میں مکتب تشیع کی معرفی کا سبب بنا۔
حسب و نسب اور پیدایش
علامه طباطبائی 1321 هجری(1903ء) ذی الحجه کی آخری تاریخ کو تبریز کے شهر شادآباد میں ایک اهل علم گھرانے میں پیدا هوئے۔ ان کے اجداد 14 پشتوں تک تبریز کے سائنسدانوں اور علماء میں سے تھے۔ ان کے پدری اجداد امام حسن مجتبی( اور حضرت اسماعیل(کی نسل میں سے تھے اور مادری اجداد حضرت امام حسین( کی نسل سے تھے۔ 5 سال کی عمر میں ماں اور9 سال کی عمر میں باپ کے سائے سے محروم هوگئے۔
شادی اور اولاد
آپ کی زوجه کا نام قمر السادات مهدوی طباطبائی سادات کےگھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور علامه طباطبائی کی ترقی، معنوی ارتقاء اور سیر و سلوک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سے 3 بچے متولد هوئے لیکن تینوں بچپنے میں هی نجف اشرف میں فوت هوگئے۔ایک دن قاضی طباطبائی جو ان کی زوجه کے رشته دار تھے ان کے گھر آئے اور انهیں تسلی دیتے هوئے کها که اس دفعه جو بچه هوگا وه بیٹا اور وه زنده بھی رهے گا اس کا نام عبد الباقی رکھیں ۔ علامه اس وقت تک زوجه کے حامله هونے سے باخبر نهیں تھے اسلئے حیران هوگئے لیکن آخر کار اس عارف کی پیشن گوئی درست ثابت هو گئی اور خدا وندعالم نے اس شادی کا ثمره عبدالباقی اور نجمه سادات کی شکل میں انهیں عطا کیا ۔ 1344 هجری شمسی (1965ء)میں ان کی زوجه اس دنیا سے کوچ کر گئی اور کچھ مدت کے بعد علامه نے خانم منصوره سے شادی کی۔
دوران تحصیل و تدریس
علامه طباطبائی نے قرآن کریم کی تعلیم کے بعد 6 سال کی مدت میں گلستان اور بوستان وغیره کا درس مکمل کیا ۔ ادبیات سیکھنے کے بعد میرزا علی نقی کے هاں خوش نویسی سیکھی ۔ اس کے بعد تبریز کے مدرسه طالبیه میں داخله لیا اور ادبیات عرب، علوم نقلی اورفقه و اصول میں مشغول هو گئے اور 1297 سے لے کر 1304 هجری شمسی(1918ء سے1925ء) تک دوسرے اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کیں۔
علمی سفر نامه
نجف اشرف میں
اپنے محل پیدایش تبریز میں پهلا علمی مرتبه کامل کرنے کے بعد 1304 هجری شمسی (1925ء) میں نجف اشرف کی طرف روانه هوئے اور نجف کے حوزه علمیه میں جو اس وقت تشیع کا علمی مرکز تھا مختلف اسلامی علوم میں اپنی علمی پیاس بجھانے میں مصروف هوگئے۔ فقه اور اصول کو نائینی، کمپانی جیسے اساتید جبکه فلسفه کو سید حسین بادکوبی کے هاں جو خود علی مدرس صاحب کے شاگرد تھے پڑھا۔ ریاضی کے لئے سید ابوالقاسم خوانساری اور اخلاقی دورس کے لئے حاجی میرزا علی قاضی جو علمی حکمت اور عرفان میں بلند علمی درجے پر فائز تھے، کے پاس شاگردی کی۔ علامه طباطبائی نے اپنے آپ کو فقه و اصول کے روایتی دوروس تک محدود نهیں رکھا بلکه انهوں نے ادبیات، فقه و اصول کے علاوه ریاضیات کا ایک دوره ، فلسفه و کلام اور عرفان و تفسیر کے علوم میں بھی

پایان نامه
Previous Entries دانلود پایان نامه درباره نفت وگاز، امتیازنامه، ایالات متحده آمریکا، ایالات متحده Next Entries پایان نامه ارشد درباره شهید مطهری، امام خمینی، علامه طباطبائی، انقلاب اسلامی