پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے

دانلود پایان نامه ارشد

نامی میں اور نامی، حیوان اور غیر حیوان میں اور حیوان، انسان اور غیر انسان میں تقسیم هوتا هے۔ قدماء کے نزدیک یه تقسیمات اشیاء کی ذات اور ماهیت سے مربوط هے یعنی جس طرح جوهر کی ماهیت اعراض میں سے هر ایک کی ماهیت کا غیر هے اسی طرح جسمانی جوهر کی ماهیت عقلانی جوهر کی ماهیت سے متفاوت هے۔ البته جسمانی اور عقلانی جوهر ماهیت کے ایک جز ءمیں ایک دوسرے کے ساتھ وحدت رکھتے هیں ۔ اسی طرح جسم نامی کی ماهیت ، جسم غیر نامی کی ماهیت سے متفاوت هے اور اسی طرح…
قدماء کے نزدیک مختلف الذات والماهیت جوهری انواع خارج میں وجود رکھتے هیں۔ منطق میں معروف بحث “کلیات خمس”(جنس ، نوع، فصل، عرض خاص اور عرض عام) اس فلسفی طرز تفکر کی بنیاد پر هے۔ اور اسی طرح رسم تام اور رسم ناقص کے مقابلے میں حد تام اور حد ناقص کا مسئله تعریفات کی بحث میں اسی بنیاد پر هے۔
لیکن اگر کوئی جوهر اور عرض کا منکر هوجائے یا جواهر کے ایک دوسرے سے اختلاف کو ذاتی اور ماهوی نه سمجھیں تو اس صورت میں خواسته یا ناخواسته جنس ، فصل اور نوع جو ان دونوں سے مرکب هوتا هے کی بحث کے لئے کوئی جگه باقی نهیں رهتی جس طرح حدِتام اور ناقص کے لئے کوئی جگه باقی نهیں رهتی ۔

پس حرکت عمومی(کائنات کا وجود مساوی هے توانائی کے اور جو بھی هے صرف حرکت هے) کا نظریه یا فرضیه پیش هونے کے بعد سائنسی مسائل کے مفاهیم دوسرے لفظوں میں “قضیه” کے مفهوم (منطقی اصطلاح میں حمل) میں جدید تحول پیدا هوا جس سے طرز تفکر بالکل بدل گیا۔

اسی طرح فلسفه کی معروف بحث “ماده اور صورت ”کے لئے بھی کوئی جگه نهیں رهتی اس تفاوت کے ساتھ که “ماده اور صورت” کی بحث ماهوی اختلافات کے نظریے کی بنیاد پر هے جبکه کلیات حدود اور تعریفا ت کی بحث اس مسئلے کی فرع اور نتیجه هے۔
اب هم کهیں گے ممکن هے کوئی اشیاء کے ماهوی اختلافات کا منکر هو اورکهے که کس دلیل کی بنیاد پر خارج میں موجود مختلف اشیاء ذات اور ماهیت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی هیں ؟ کیا چیز مانع بنتی هے که یه تمام ایک ذات اور ایک ماهیت هوں اور ان کے اختلافات سطحی اور عارضی هوں؟ صرف نام کا اختلاف که ایک جماد ، دوسرا نبات اور تیسرا حیوان هے دلیل نهیں بن سکتا که یه آپس میں ذات اور ماهیت کے لحاظ سے مختلف هوں۔ تمام اشیاء مادی اجزاء کے ایک سلسلے سے تشکیل پاتے هیں اور ان کی ماهیت کو اسی مادے کے اجزاء جو هر ایک میں موجود هیں تشکیل دیتے هیں ۔ ان کے درمیان پایا جانے والا اختلاف جسمانی ساخت اور بناوٹ کی کیفیت میں هے ۔ بدیهی هے که ساخت کی کیفیت میں اختلاف سبب نهیں بنتا هے که ایک هی چیز سے تشکیل پانے والی اشیاء کے اختلافات ماهوی اور ذاتی هوں۔ جس طرح شهر کی هر عمارت ایک خاص شکل اور ترکیب رکھتی هے اور ایک معین هدف کے لئے مفید هے اور هر ایک خاص نام رکھتی هیں۔ ایک مدرسه هے، دوسری مارکیٹ، تیسری گیراج ، چوتھی مسجد اور پانچویں حمّام … حالانکه ان میں سے هر ایک اینٹ ، پتھر ، لوها، سیمنٹ، چونااور مٹی وغیره کا مجموعه هے ۔ مختلف مشینیریاں مانند موٹرکار، هوائی جهاز، فولاد کا کارخانه اور اسلحے کی فیکٹری وغیره جو سب کے سب مختلف بناوٹوں اور ترکیبوں کے باوجود مختلف دھات کا ایک مجموعه هے ۔ ان عمارتوں اور مشینوں کے اختلافات صرف اور صرف بناوٹ، ترتیب ، شکل اور هدف میں هے جو ان سے مقصود هے ۔ کبھی بھی کسی نے یه دعوا نهیں کیا هے که یه تمام عمارتیں اور مشینیں ماهیت ، ذات اور نوعیت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف هیں۔

مثلا پهلی والی مثال میں “انسان کھانا کھاتا هے” کا مفهوم یه هے که هم خواص کے مجموعے یا واضح الفاظ میں حرکات کے مجموعے کو جو واقع میں یکساں هیں وضعی اور قرادادی بنیاد پر “انسان” نام رکھتے هیں اور اس کے بعد اس مذکوره مجموعے کی بعض خواص اور حرکات کو ایک جوهری ذات قرار دیتے هوئے “کھانے” (بعض دیگر خواص اور حرکات) کو اس کا خاصه شمار کرتے هیں ۔

وه موجودات جنهیں هم مختلف ماهیات خیال کرتے هیں اور جن کے اختلافات کو ذاتی اور نوعی گمان کرتے هیں اور انهیں مختلف انواع اور اجناس کی صورت میں تقسیم بندی کرتے هیں، بھی مادی ذرات کا ایک مجموعه هے جو آپس میں مل کر ایک خاص شکل اور نظم کو تشکیل دیتے هیں جسے هم جماد، نبات، حیوان اور انسان کا نام دیتے هیں۔ اصطلاحا اگر ان میں سے هر ایک کے بارے میں “ما هو؟” کے ذریعے سوال کیا جائے تو جواب یه هوگا که :“فلان نظم اور فلان مکانیزم کے ساتھ ذرات کا ایک مجموعه هے”۔
یه نظریه طویل تاریخ رکھتا هے۔ ڈیماکریٹس اور اس کے استاد لوسیبوس جو اجسام کو کچھ ذرات سے مرکب سمجھتے تھے اور اسی طرح ایپی کیورس 98 اس جهت سے ڈیماکریٹس کی پیروی کرتے تھے موجودات کے بارے میں ان کا نظریه بسیط عناصر سے لے کر مرکبات تک هو بهو یهی هے۔ ڈیماکریٹس کهتا هے:
“صحت اور حقیقت رکھنے والی چیز صرف ذرات اور خلاء هیں”99
بو علی سینا نےمنطق شفا میں مختلف جگهوں پر مختلف مناسبتوں سے ڈیماکریٹس کے نظریے کو نقل کیا هے۔ عصر حاضر کے علماء نے بھی اس کے بارے میں ان کے اقوال کو زیاده صراحت کے ساتھ نقل کیا هے ۔

دوسری مثال اوردیگر تمام موارد میں بھی صورتحال اسی جیسی هے۔

یعنی ڈیماکریٹس کا نظریه صرف اس بات کی طرف متوجه نهیں هے که اجسام محسوسه جس طرح دکھائی دیتے هیں متصل اور پیوسته نهیں هیں بلکه اشیاء کے ماهوی اور ذاتی اختلافات کے نه هونے کی طرف بھی متوجه هے۔ انیسویں صدی کے بعد جب جدید سائنسدانوں نے (Atomism) کی تائید کیں تو ڈیماکریٹس کے نظریے کو دونوں پهلوں سے تائید حاصل هو گئی جس کی بنیاد پر یه ثابت کرنے کی کوشش کی گئی هے ۔ جسم محسوس ذرات کا مجموعه هے اور اشیاء کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سطحی اور ذرات کی نظم ، تالیف اور ترکیب سے وابسته هے۔
البته اشیاء کے ذاتی اور ماهوی اختلافات کے انکار کا نظریه ، ایک طرف Atomism کا نظریه اور دوسری طرف جسم کے اجزاء کی ناپیوستگی سے وابسته نهیں هے۔ ممکن هے کوئی اجسام کے اتصال اور پیوستگی کے نظریے کا حامی هونے کے ساتھ ساتھ اشیاء کے ذاتی اور نوعی اختلافات کا منکر هو۔ بو علی سینا ارسطو سے نقل کرتے هوئے ایک قدیم یونانی شخص ، انطیقون کا نام لیتے هیں جو Atomism کا نظریے کے حامی نه هونے کے باوجود ماهوی اور ذاتی اختلافات کا منکر تھا۔ بنابراین Atomism کی حمایت کا لازمه اشیاء کے ذاتی اور ماهوی اختلافات کا انکار نهیں هے چنانچه بعد میں اس مطلب کی مزید وضاحت هوگی۔
قرون جدیدمیں Atomism کا نظریه پیدا هونے سے پهلے اشیاء کے ماهوی اور ذاتی اختلافات کے انکار کا نظریه پیدا هوا ۔ ڈیکارٹ100 اس نظریے کے حامیوں میں سے هے وه صرف انسان کو اس کلی قاعدے سے استثناء کرتا هے ۔ اس کے عقیدے میں انسان جسم اورجان کا مجموعه هے ۔
اسی بنا پر جوهر ، عرض، ماهیت ، نوع ، ذات ، صفت اور ان جیسی دوسری چیزوں کے مفاهیم تبدیل هوتے هیں جس کے نتیجے میں قضایا کے مفهوم کی حالت بھی تبدیل هوتی هیں۔

انسان کا جسم دوسرے تمام اجسام جیسے جماد، نبات اور حیوان کی طرح ایک مشین هے اور بس۔ لیکن انسان کی روح بدن سے سوفیصد مختلف ایک جوهر هے ۔ ڈیکارٹ باوجود اس کے که کائنات کو ایک مشین کی شکل میں توجیه کرتا هے اور اشیاء کے ماهوی اور ذاتی اختلافات کے انکار کی بنیاد پر ، انسانی روح کے مجرد هونے کا حامی هے،اور خداوند کے وجود کو بھی قبول کرتا هے اور اس پر ایمان رکھتا هے۔ ڈیکارٹ اپنے اسی طرز تفکر کی بنیاد جسم اور روح کے درمیان مکمل طور پر دوئیت اور ثنویت کا قائل هے ۔ اور ان کے درمیان فاصلے کو زمین اور آسمان کے درمیان موجود فاصلے سے بھی زیاده سمجھتا هے ۔ ڈیکارٹ کے بعد مغربی فلسفه میں روح کے مسئله میں دوئت کا پهلو حاکم رها اور یه خود ناگوار مشکلات کا باعث بنا۔
ڈیکارٹ نے منهائے انسان کائنات کو جتنا هونا چاهئے تھا اس سے زیاده هم شکل ، همسان ، هم جنس اور مشابه تصور کیا اور انهیں ایک دوسرے کے نزدیک فرض کیا ۔ اس جهت سے ڈیماکریٹس کے قریب هو گئے لیکن ڈیکارٹ نے انسان کو کائنا ت سے حد سے زیاده دور کیا اور اسے کائنات کا ناهم جنس قرار دیا اس جهت سے ارسطو سے گزر کر افلاطون کے نزدیک هوا۔
مرحوم فروغی101، کتاب سیر حکمت در اوپا کے جلد اول میں کهتا هے:

وهی حمل جسے هم عام حالت میں (صفت کا ذات یا جوهر کے لئے ثبوت ) سمجھتے هیں ان سائنسدانوں کے نزدیک اس کا معنی یه هے که خواص کے مجموعے کو ایک اکائی فرض کر کے اس کی بعض اجزاء کو بعض پر حمل کریں۔

“عالَم جسمانی کی حقیقت اورکیفیت کو بیان کرنے کے لئے ڈیکارٹ انهی دو امر یعنی بُعد اور حرکت کو کافی سمجھتا هے خصوصا اپنی ایک تحریر میں اس فقره کی تصریح کرتے هوئے کهتا هے:”بُعد اور حرکت کو اگر میرے هاتھ دیا جائے تو میں کائنات کو بناؤں گا” اس طرح طبیعیات (فیزکس) علم حرکات(میکانیک) میں تبدیل هوگا اور اس کے مباحث ریاضی کے مسائل میں بدل جائیں گے”۔
یهاں تک که ڈیکارٹ کے زبانی کهتا هے که:
“کلی طور پر عالم جسمانی ایک امر اور مختلف اجسام ایک کل کے اجزاء ہیں۔ دوسرے لفظوں میں هر جسم فضائے نامحدود کا ایک محدود حصه هے اور اجسام کا ایک دوسرے سے اختلاف صرف ان کی شکل اور حالت میں هے۔ جسمانی تحولات اور عوارض جیسا کہ گرمی، روشنی، بھاری پن، جاذبه ، دافعه اور تمام فطری آثار اجسام کی حرکات کا نتیجه هے۔ اور حرکت نقل مکانی کے علاوه کچھ نهیں هے اور نقل مکانی ، اجزاء اور اجسام کی ایک دوسرے کی نسبت وضع اورحالت کا بدلنا هے102”پھر کهتا هے:
“جاندار اجسام بھی بے جان اجسام کے قواعد کا تابع هیں ۔ جان رکھنا جسم کی خصوصیات بُعد اور حرکت پر کسی اضافی امر کا لازمه نهیں هے اور جانور صرف مشین اور مشینری هے لیکن کامل مشین هے جسے نهایت هی دقت اور ظرافت کے ساتھ تیار کی گئی هے ۔ چنانچه انسان کے بنائی گئی مشینریاں اس کے مقابلے میں بهت هی ضعیف اور ناقص هیں لیکن دونوں کی نوعیت ایک جیسی هے یهاں تک که انسان کا بدن بھی یهی صفت رکھتا هے اور مشین کے سوا کچھ نهیں هے۔ صرف یه که انسان روح اور جان رکھتا هے جو اس کی حس، شعور اور تعقل کا موجب بنتا هے اور بدن سے هٹ کر ایک اضافی
اسی طرح اس کائنات کے تمام موجودات اور حوادثات ان سائنسدانوں کے نزدیک ترکیب، تجزیه ، اجتماعی اور انفرادی حالت میں منظر عام پر آتے هیں۔ البته غفلت نهیں برتنی چاهئے که حرکت عمومی بھی وهی حرکت مکانی هے۔

چیز هے اور جسم سے کلی طور پر متبائن هے اور جسم کے حیوانی کاموں میں اسےکوئی دخالت حاصل نهیں هے”۔ 103 نیز کهتا هے :
“جانور روح نهیں رکھتے اس لئے حس، شعور اور تعقل بھی نهیں رکھتے اور ان کی حرکات مشینوں کی طرح هے ۔ چنانچه اگر انسان کےعقل اور شعور سے صرف نظر کریں تو اس کی حیاتی حرکات بھی جانورں کی حرکات کی طرح مشینی حرکات هیں ۔ لهذا معرفة الحیات بھی طبیعی حکمت کا ایک شعبه اور علم حرکات کے قواعد کا تابع هے”۔ 104
اس طرز تفکر کے لوازم اور آثار میں سے ایک یه هے که مختلف علوم مخصوصا طبیعی علوم یعنی وه علوم جن کا موضوع اس کائنات کے انواع میں سے ایک هے ، ایک علم میں بدل جائے۔ قدماء کے نزدیک اشیاء اور انواع کے ذاتی اور نوعی اختلافات کی وجه سے هر نوع کے عوارض دوسرے نوع کے عوارض سے مختلف اور متبائن جانے جاتے هیں اورقهراً ان میں سے کسی ایک کے ساتھ تعلق رکھنے والا علم دوسرے علم کے ساتھ جو دوسرے نوع کے عوارض ذاتی سے بحث کرتا هے ، مختلف اور متبائین هے۔ مثلا جس دلیل کی بنا پر “نبات “ اور “حیوان” مختلف اور متبائن هیں ان میں سے هر ایک کے ساتھ مربوط علم بھی مختلف اور متبائن هے ۔لیکن اگر فرض کریں کائنات میں مختلف انواع وجود نهیں رکھتے تو قهراً متبائن اور متغایر آثار اور عوارض بھی دیکھنے کو نهیں ملے گا اور جو چیز اصیل هے مادی جسم هے اور صرف مادی جسم کی تنہاطبیعی خاصیت حرکت هے اور تمام اختلافات مشینی نظم کا اختلاف اور ذرات کی مکانی حرکتوں کانوعی اختلاف کی طرف پلٹتے هیں قهراً تمام علوم علم حرکات کی قسم

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره رضایت مندی، اصل تناقض Next Entries پایان نامه ارشد درباره قانون علیت