پایان نامه ارشد درباره ویلیام جیمز، علت فاعلی

دانلود پایان نامه ارشد

میں سے هوجائیں گے جن سے فیزکس میں بحث کی جاتی هے۔ کیمسٹری، حیاتیات اور نفسیات وغیره فیزکس کے علم حرکات کا جزء نهیں هیں۔
گذشته بیان میں غور کرنے سے واضح هوتا هے که اس نظریه پر اس طرح اشکال نهیں کیا جا سکتا که “جهانِ هستی کا حرکت کے مساوی هونا اس بات کا لازمه هے که حرکت بغیر متحرک کے وجود میں آجائےبلکه حرکت بغیر متحرک کے کوئی مفهوم نهیں رکھتی هے”۔

دوسرا مسئله یه که “اسلوبیات”105 کی نگاه سے بھی یه طرز تفکر بهت سارے آثار کا حامل ہے ۔ جدید علماء، قدماء کے برعکس علوم کے اختلافات کو صرف ان علوم کے موضوعات کی ذات اور عوارض میں اختلافات کے دریچے سے نگاه کرتے هیں ۔ دوسرے لفظوں میں صرف معلومات کے ذاتی اختلافات کے دریچے سے نهیں دیکھتے هیں۔ جدید علماء نے ایک اور اختلاف کا کھوج لگایا هے اور وه، تحقیق کے طرز میں اختلاف هے ۔ لیکن اگر تمام طبیعی علوم کو علم الحرکات کے اندر شامل تصور کریں تو کوئی چاره نهیں هے که ان سب میں طرز تحقیق کوبھی ایک هی جان لیں۔ یهی وجه هے که یورپ میں اس بحث نے ایک جنجالی صورت اختیار کی هے اور ڈیکارٹ کے بعد والے سائنسدانوں نے اس کے بارے میں نفی اور اثبات میں بهت زیاده گفتگو کی هے۔ مجموعی طور پر آج تمام طبیعی علوم کو علم حرکات کا حصه قرار دینے والا ڈیکارٹی نظریے کو کوئی مقبولیت حاصل نهیں هے۔
ڈیماکریٹس کے اس طرز تفکر کی جو کائنات کی ساخت کو مشینی ساخت سے تعبیر کرتا هے، ڈیکارٹ کے بعد پیروی کی گئی ۔ ڈیکارٹ کے بعد کچھ لوگ پیدا هوئے جنهوں نے یه دعوا کیا که کائنات کی بنیاد ماده اور حرکت هے ان کا کهنا تھا که اگر ماده اور حرکت کو ان کی هاتھ دیا جائے تو وه کائنات کو بنا سکتے هیں اس تفاوت کے ساتھ که انهوں نے انسان کو بھی اس کلی قانون سے استثناء نهیں کیا ۔ اس طرز تفکر کو عموما “(Mechanism) کها جاتا هے۔ یه خود ایک طرز تفکر هے بهتر هے اس پر غورو فکر اور دقت کی جائے۔
لیکن بعد میں اس فلسفه کے لئے کچھ امتیازات اور خصوصیات معین هوئیں جس نے اس کے چهرے کو بدل دیا۔ بعض نے یه گمان کیا که “میکانیزم” سوفیصد ایک مادی فلسفه هےجو خالق کےانکار کا مساوی هے ، اسی وجه سے ڈیماکریٹس اور ان کے همفکروں کو ماده پرست کهتے هیں۔
کیونکه مذکوره نظریے کی بنا پر “متحرک” اور “حرکت “ کا فرض دوسری تعبیر میں “ذات” اور “صفت” یا “جوهر” اور “عرض” اصطلاح اور قرارداد کے سوا کچھ نهیں هے۔

کچھ لوگ فلسفه اور اصل ضرورت علّی اورمعلولی کے درمیان موجود دوطرفه اور مضبوط رشتے کا قائل هیں اس طرح که میکانیزم کو ڈیٹرمینزم(Determinism) (اصل ضرورت علّی ومعلولی)کے اور ڈیٹرمینزم کو میکانیزم کے مساوی گمان کرتے هیں اور کبھی میکانیزم کو فینالیزم(Finalism) (اصل علت غائی) کے مد مقابل قرار دیتے هیں اور کبھی اسے اصل قوه اور فعل-جو که اس مقاله کا موضوع بحث هے- کی ضد فرض کرتےهیں اور کهتے هیں که ارسطو نے اصل قوه اور فعل کو فلسفه میکانیزم کے مقابلےمیں بیان کیا هے۔حال هی میں میکانیزم کی طرف بازگشت اور رجعیت خواسته یا ناخواسته قوه اور فعل کے قانون کو اپنے تمام متفرعات کے ساتھ ختم کردیتا هے ۔ میکانیزم کو زندہ کرنا قوه اور فعل کے پیکر پر کاری ضرب هے۔
مرحوم فروغی نے “سیر حکمت در اروپا” کی دوسری جلد میں لایب نیز (Ldibniz)کےفلسفه کی بحث کے مقدمه میں فلسفے کے اصلی مسائل کی طرف اشاره کیاهے جو ابتداء سے مفکرین اور اندیشمندوں کی توجه کا مرکز رهے هیں۔ جیسا که اصل علیت ، اصل تغییر اور ثبات یعنی کسی حالت کے ثابت اور پائیدا ر نه هونے کے ساتھ ساتھ دوام اور بقاء بھی درکار هے اور اصل وحدت اور کثرت ، یعنی موجودات کے زیاده اور بے شمار هونے کے ساتھ ان کی وحدت اور یگانگی سے غافل نهیں هو سکتے هیں۔اوردیگر یه که وجود حقیقی کیا هے؟اسی طرح علتیں کهاں سے سرچشمه لیتی هیں اور ان کی انتهاء کیا هے؟ آیا موجود محسوس پر منحصر هے یا غیر محسوس بھی هے؟ اور یه که انسان کے لئے شعور کیسے حاصل هوتا هے؟ آیا انسان مجبور هے یا مختار؟
اس مقدماتی گفتگو کے بعد مرحوم فروغی کهتا هے
“سرانجام کائنات کے موجودات کے باب میں محققین کے درمیان دو بنیادی نظریے معروف هوئے: پهلا یه که کائنات کے تمام موجودات بهت باریک جسمانی اجزاء سے مرکب هیں اور وه اجزاء “ملاء” کو تشکیل دیتے هیں اور ان کے درمیان موجود فاصلے خالی هیں اور اس “خلاء” میں انجام پانے والی اس “ملاء” کی حرکات اور ان اجزاء کا مختلف شکل اور اندازے میں جمع اور پراکنده هونا، ان تمام آثار اور حالات کے کون و فساد اور ظهور و بروز کا سبب بنتا هے۔ اس نظریے کے حامیوں کے علمبردار
هاں یه سوال پیش آتا هے که جهانِ هستی میں اختلافات اور تضادات دیکھنے میں آتے هیں اس بنا پر دو راستوں میں سے ایک کو اپنانا ضروری هے:

ڈیماکریٹس اور اپی کیورس تھے جنهیں “ماده پرست” کهتے هیں ۔ دوسرا نظریه یه هے که جسم ایک متصل اکائی هےجو بالفعل اجزاء نهیں رکھتا اور خلاء محال هے اور کائنات کے امور کا محورقوه اورفعل هے ۔ کون و فساد اور تغییر و تحول کی چار علتیں هیں:ماده، صورت، فاعل اور غایت۔ موجودات کی دو قسمیں هیں: یا جوهر هیں یعنی قائم بالذات هیں یا عرض هیں جن کا وجود جوهر سے وابسته هے۔ جسمانی جوهر ایک ماده هے جس نے جسم کی شکل اختیار کی هے اور صورت جسمیه وهی ابعاد ثلاثه یعنی لمبائی، چوڑائی اور گهرائی هے۔ جسم ایسا جنس هے جو مختلف انواع رکھتاهے اور ان کا اختلاف صورت نوعیه کی وجه سے هے اور کون و فساد اور تغییر و تبدل ان میں سے بعض کے ساتھ مخصوص هے جنهیں “عنصر” کا نام دیا گیا هے۔ دوسرا نظریه جس کے حامیوں کو “دیندار”(روحیان) یا “خدا پرست”(الهیان) کها جاتا هے ، کے بیان کو ارسطو نے مکمل کیا هے اور دو هزار سال تک اکثر سائنسدانوں نے ان کی پیروی اور اس نظریےکی کلیات سے موافقت کی هیں ۔ ان کا اختلاف صرف جزئیات میں تھا اور اس فلسفے کو یورپ میں ایک ایسی شکل دی گئی تھی جسے اسکولاسٹک106 کہا جاتا ہے-107
مرحوم فروغی ان تمام نظریات کو افلاک وغیره کے باب میں موجود دوسرے نظریات کے ساتھ ایک رائے یا نظریه ،جس کے اجزاء آپس میں متصل اور پهلے نظریے کے مدمقابل هے، قرار دیتا هے ۔ پھر کهتا هے:
“صورتحال اسی طرح کی تھی یهاں تک که یورپ میں آهسته آهسته کچھ نئے نظریات پیدا هوئے اور سرانجام فرانس کے ڈیکارٹ نے متقدمین کے فلسفے کو مکمل طور پر باطل خیال کیا اور ڈیماکریٹس اور یپی کیورس کے نظریه کا بھی منکر هوا۔ اسی طرح قوه اور فعل اور ارسطو کی چاروں علتوں کو ترک کرکے ایک جدید خاکه تیار کیا”108
یا کهیں که یه کثرت اور اختلافات کائنات کے سطحی ظهور میں خودنمائی کرتے هوئے سراب کی مانند دلفریب شکلیں پیدا کرتے هیں اور تحلیل و تجزیه کے ذریعے تدریجا ختم هوتے هیں اور آخر کار یکساں عمومی حرکت میں تبدیل هو کر صفر کے مساوی هو جاتے هیں۔

اس وقت ڈیکارٹ کے خاکے کی طرف اشاره کرتے هوئے کهتا هے:
“ان اصولوں میں سے ایک یه هے که کائنات میں ذات باری کے علاوه دو قسم کے جوهر هیں : ایک “جسم” جس کی حقیقت بُعد هے دوسرا “روح” جس کی حقیقت فکر یا علم هے اور کائنات کے امور کا محور جسم اور اس کی حرکت هے -کائنات میں حرکت کی مقدار معین اور ثابت هے کم اور زیاده نهیں هوتی ۔ تمام طبیعی آثار جو بُعد اور حرکت کا نتیجه هیں ریاضی کے اصول اور قواعد بن جاتے هیں اور ان آثارکی معرفت کے لئے ان قواعد اور اصول کے علاوه کسی چیز کی طرف محتاج نهیں هیں۔ پوری کائنات ایک کارخانے اور مشین کی طرح هے جس کے پهیے خدا کی دی هوئی حرکت کے ذریعے حرکت میں هیں اور خود کوئی قوت یا تصرف نهیں رکھتے هیں۔ اور خداوند عالم نے اسی طرح مقرر فرمایا هے”109
فروغی سیرحکمت در اروپا، کی تیسری جلد میں ویلیام جیمز 110 کےفلسفه کو بیان کرتے ہوئے ماده پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان اختلاف کی طرف اشاره کرنے کے بعد “لازمی تذکرات” کے عنوان کے تحت مدعی هوتا هے که:
یه بات خارجی اختلافات کی تکذیب کا لازمه هونے کے ساتھ بیهوده دعوا “هر چیز ، هر چیز هے” کا بھی متضمن هے جو ایک حقیقی سوفسٹ کی باتوں سے بھی زیاده ناشائسته اور غیر منصفانه هے۔

“ اثباتی فلسفه (اگست کانٹ111 کا انٹی پازیٹویزم) کے ظهور اور ریاضی اور طبیعی علوم میں تیزی سے آنے والی ترقی انیسویں صدی کے آخر میں هربرت اسپنسر (Spenser) کے ترکیبی فلسفے تک منتهی هوا۔ اس بات پر بنارکھتے هوئے که مطلق حقیقت قابل شناخت نهیں هے اور جو چیز قابل شناخت هے وه کائنا ت کے عوارض اور حوادث هیں جو طبیعی اور مضبوط قوانین اور احکام کے تحت هیں، اس وقت ان احکام، قوانین اور اصول کی اس ترتیب سے تشریح کرتا هے:
1 – علیت کا قاعده، هر چیز کسی علت کا معلول هے، پر مبنی هے ۔
2 – مادے کی بقاء کا اصل اور یه که کوئی موجود معدوم اور کوئی معدوم موجود نهیں هو سکتا۔
3 – توانائی کی بقاء کا اصل : نه صرف مادے کی مقدار ثابت هے بلکه توانائی اور طاقت کی مقدار بھی ثابت هے اور کم اور زیاده نهیں هوتی۔
4 – علّی اور معلولی ضرورت اور یه که کائنات کےامور مضبوط اور حتمی قوانین کے مطابق جاری هیں جس سے تخلف ممکن نهیں هے۔اس وقت کهتا هے:
“ان قواعد اور اصول کا کلی نتیجه یه هے که یه کائنات ایک مشینی کارخانه هے اور مشینی کائنات کے تصور کو مثلاً ایک کپڑے کے کارخانے سےتشبیه دے سکتے هیں، جس کے لئے معین مقدار میں کپاس اور اون تیار کیا جاتا هے اور یه کپاس اور اون مشینوں کی خوراک بن جاتی هیں اور ایک معین قواعد اور اصل علیت کے مطابق ان میں کچھ تبدیلیاں رونما هوکر مصنوعات کی شکل اختیار کرتی هیں۔ اس کے بعد یه کپڑے اور مصنوعات استعمال کی وجه سے گھس جاتےهیں اور دھاگے کپاس بن جاتے هیں اور دوباره مشینوں کی خوراک بن جاتے هیں ۔ یهی کیفیت همیشه چکر لگاتی هے اور جاری رهتی هے ۔ نه اس پر کسی چیز کا اضافه هوتا هے اور نه اس سے کوئی چیز کم هوتی ہے۔ اس کا جاری رهنا معین قوانین کے مطابق لازمی اور واجب هے جس میں کوئی اختیار درکار نهیں هے۔ ضمنا هربرت اسپنسر خود ناقابل شناخت اشیاء کے وجود کا قائل تھا اوران امور باطنی پر اعتقاد کا راسته بن نهیں کیا تھا۔ دیگ سے زیاده چمچہ گرم طبیعت کے حامل ماده پرستی کی طرف تمایل رکھنے والے افراد اس بات سے استفاده کرتے هوئے علت فاعلی یا قوت خلاقیت سے انکار کرسکتے تھے-112
یا یه کهیں که یه اختلافات ، خود حرکت عمومی کے پیکر میں موجود اختلافات کے ساتھ مستند هیں۔مانند تیز رفتاری اور سست رفتاری میں اختلاف اور جهت میں اختلاف وغیره ۔

پھر کهتا هے: مشینی کائنات کے تصور سے جو نتائج لے سکتے هیں یه هیں که کائنات کے امور کا محور اصل علیت هے نه اصل غائیت ، یعنی هم محتاج نهیں هیں که حوادث کے حدوث اور طبیعی امور کے جاری هونے کے لئے کوئی غایت فرض کریں اور کائنات کے امور میں کسی حکمت کے قائل هو جائیں کیونکه ہم طبیعت کی مشین کے پهیوں کی گردش کو اصل علیت کی بنا پر توجیه کرتے هیں۔113
یهاں پر چند بحثیں هیں: پهلی یه که آیا کائنات کو میکانیزم اور مشینی فرض کرنا جدید فلسفه اور حکمت کی نگاه سے ایک قطعی اور یقینی امر هے یا اس کے مخالف بھی هیں؟ ضروری هے که هم کهیں که یه نه صرف ایک یقینی امر نهیں هے بلکه اس فلسفه کی شکست یقینی هے۔ماده پرست ابتداء میں اس فلسفے سے چپک گئے تھے لیکن بعد میں اسے چھوڑنے پر مجبور هو گئے ۔ یورپ کے سائنسدانوں اور فلاسفرز کے درمیان خصوصا حیاتیات کی نگاه سے یه مطلب تقریبا یقینی هے که کائنات کو میکانیکی طور پر توجیه اور تفسیر نهیں کر سکتےهیں۔ آج کل کوئی بھی یه دعوا نهیں کرتا هے که “ماده اور حرکت کو مجھے دیں میں کائنات بناؤنگا” ۔ لائبنیز 114 ان فلاسفرز میں سے ایک هے جو بهت جلد اس نتیجے تک پهنچا که کائنات اتنی آسانی سے نهیں بنی هے بُعد اور حرکت کے علاوه اس کائنات میں ایک اور حقیقت بھی هےاگرچه وه خود چاهتے تھے که کائنات کو ڈینامیزم (Dinamism) کی بنیاد پر توجیه کرکے اس مشکل کو حل کرائے لیکن حل نهیں کر سکے۔

س صورت میں سوال منتقل هوتا هے ان اختلافات کی طرف

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے Next Entries پایان نامه ارشد درباره حرکت جوهری، علت فاعلی، واجب الوجود