پایان نامه ارشد درباره ناسازگاری، عالم ماده

دانلود پایان نامه ارشد

مفهوم کو حاصل کیاهے اور اس کی تاریخ قدیم اور جدید میں تقسیم هوجاتی هے اور ان دو ادوار کے مشخص هونے سے امتناع ضدین کا قبول کرنا اور نه کرنا بھی مشخص هو جاتا هے ۔
پل فولکیه اپنی جدلیاتی مگزین میں کهتا هے :
“ڈیالیکٹک قدیم 45اور جدید میں فرق ان دونوں کا اصل” اجتماع ضدین” کے ساتھ آمنا سامنا هونےکے طریقے میں هے ۔ڈیالیکٹک قدیم کی بنا پر اصل “اجتماع ضدین” تمام اشیاء اور ذهن کا قانون هے ۔ ممکن نهیں هے که ایک چیز ایک هی وقت میں موجود بھی هو اور معدوم بھی ۔ اگر انسان کی فکر پے در پے دو متناقض عبارت کی تصدیق کرنے پر مجبور هو جائے تو یقیتا ان میں سے ایک غلط هے۔ اس کے برعکس جدید ڈیالیکٹک اشیاء کے درمیان ضدیت کی قائل هے اور کهتے هیں که اشیاء جس وقت موجود هیں معدوم بھی هیں۔ اس ضدیت کو موجودات کی فعالیت کی اساس اور بنیاد گردانتے هیں اور کهتے هیں که اس ضدیت کے بغیر اشیاء ساکن اور بے حرکت رهتے هیں۔اسی وجه سے جب انسان دو متناقض عبارت کی تصدیق پر مجبور هو جاتا هے تو یه تصور نهیں کرنا چاهئے که اشتباه سے دوچار هوا هے ۔ البته اس ضدیت کو حل کرنا ضروری هے لیکن ضدین میں سے کسی ایک کا بھی انکار نهیں کرنا چاهئے”۔46
جدید ڈیالیکٹک کے مطابق جو اپنے اندر جمع نقیضین اور ضدین کا مفهوم رکھتی هے دو نکتوں کو فکر اور اندیشے میں رکھنا ضروری هے۔ تاکه همارا طرز فکر جدلیاتی هو جائے۔ اول یه که هم جان لیں که هر چیز هے اور نهیں بھی۔ دوسرا یه که هم جان لیں که اشیاء کا یهی اندورنی اور واقعی تناقض یعنی اشیاء در عین اینکه هیں اور نهیں هیں اور اشیاءکا یهی وجود اور عدم کو ایک ساتھ رکھنا ان کی حرکت اور تکامل کی بنیاد هے۔ اگر یه اندورنی اور واقعی تضاد موجود نه هوتا تو حرکت اور تکامل بھی نه هوتا۔
هم اس بارے میں که آیا وه تناقض جسے جدید جدلیاتی منکرین قبول کرتے هیں وهی تناقض هے جس کاقدیم جدلیاتی اورقدیم منطق اور فلسفه کے ماهرین انکار کرتے هیں یا نهیں ؟ اسی طرح اس بارے میں جسے جدید جدلیاتی “اجتماع نقیضین اور ضدین “ کا نام دیتے هیں حکمت اور اسلامی فلسفه اسے کیا نام دیتا هے۔ آیا وه اسے قبول کرتے هیں یا نهیں؟ بعد میں گفتگو کریں گے۔ ابتداء میں لازم هےهیگل کی جدلیات اور مارکس کی جدلیات – جو هیگل کی جدلیات کا پیداوار هے-کو اس چیز کے مطابق جسے مارکس کے پیروکار کهتے هیں، تشریح کریں پھر اس کے بارے میں اپنے نظریےکوپیش کریں گے۔
هیگل کا جدلیاتی نظریه تین بنیادی ارکان رکھتا هے:
1 – تمام چیزیں فکر اور مادہ سے اعم تغییر ، تحول اور حرکت میں هے۔
2 –فکر اور موجودات کی بنیادی شرط تناقض اور ناسازگاری هے۔ اور یهی تناقض اور ناسازگاری موجودات کی فعالیت اور حرکت کی اساس اور بنیاد هے۔دوسرے لفظوں میں حرکتوں اور جنبشوں کی جڑ اشیاء میں موجود تناقض اور ناسازگاری هے۔
3 – اشیاء کی تکاملی حرکت ایک ضد سے دوسری ضد کی طرف عبور کرنے کی بنیاد پر هے اس کے بعد دو ضدوں کا عالی مرحله میں ترکیب اور متحد هونا هے۔ دوسرے لفظوں میں حرکت اور تغییر مثلث کے قانون کے مطابق “اثبات، نفی، نفی در نفی” یا موضوع، ضد موضوع، ترکیب” کی صورت اختیار کرتا هے۔
پل فولکیه کهتا هے:
“اشیاء کے وجود کا ذهنی متناقض ترکیب کو هیگل جدلیات کهتا هے۔ جدلیاتی روش تین مرحلوں پر مشتمل هے جسے عام طور پر”موضوع، ضد موضوع، ترکیب” کا نام دیا جاتا هے (تز، اینٹی تز، سنتز) لیکن هیگل ان تین مرحلوں کو “تصدیق، نفی، نفی در نفی) کا نام دیتا هے۔”47
پھر پل فولکیه کهتا هے:
“هیگل نے مثلث کے قانون”موضوع، ضد موضوع و ترکیب” کو ایجاد نهیں کیا هے۔ان کے هم عصر فیچته48 اور سکیلنگ49 نے بھی اپنے ماوراء الطبیعی نظریات کو اسی بنیاد پر رکھی هے۔50 لیکن هیگل نے اس اصل سے زیاده استفاده کیا ہے اور اسے واقعیت کی توجیه کا تنها وسیله جانتا تھا اور پھراسے جدلیات کا نام دیا یهی سبب بنا که یه کلمه معاصرین کی نظر میں ذهن سے دور دکھائی دیا کیونکه اب تک جدلیات سے مراد فن اثبات اور فن انکار51 تھا جن میں سے هر ایک عدم اجتماع ضدین کے اصل پر موقوف هے ۔ لیکن هیگل نے جدلیات کو “اجتماع ضدین” کی صورت میں لے آیا هے۔ “52
هیگل کی جدلیات فلسفیانہ نظر هونے کےساتھ ساتھ ایک منطقی نظر بھی هے یعنی اشیاء کی واقعیت اور ماهیت کی توجیه اور توصیف کرنے کے ساتھ فکر کے قانون کو بھی بیان کرتی هے۔ هیگل معتقد هے که جو چیز ذهن میں هے واقع میں بھی هے اور جو چیز واقع میں هے ذهن میں بھی هے۔ یعنی وه ذهن اور واقعیت کے درمیان ایک قسم کی تطابق کا معتقد هے۔هیگل کهتا هے:
“اندیشه اور فکر اس لحاظ سے جدلیاتی هے که جدلیات واقعیات کی توصیف کرتی هے”
کارل مارکس نے هیگل کے جدلیاتی اصول کو مثلث “اثبات، نفی ، نفی در نفی”کی صورت میں قبول کیا هے۔ لیکن وه اس کے فلسفی مبنا کو قبول نهیں کرتا هے ۔ مارکس اور اس کے پیروکاروں کی نظر میں هیگل کا فلسفه ایک تصوراتی(Idiealistic) فلسفه هے، اصطلاحاً “معنوی فلسفه” هے ۔ کیونکه وه “مثال مطلق” کا قائل هے اور مادے کو اس کی ایک تجلی جانتے هیں لیکن مارکس کا فلسفه ایک مادی فلسفه هے جو اصالت ماده کا قائل هے۔53
پل فولکیه کهتا هے که:
“هیگل کے عقیدے میں واقعیت کا جدلیاتی تحول جسے هم مادی کهتے هیں مثال مطلق کا صرف ایک پهلو هے جو خارجی دنیا تک سرایت کر گیا هے۔ لیکن اس کے برعکس مارکس کےعقیده میں مادی دنیا روح سے مستقل وجود رکھتی هے اور تصدیق اور نفی کے مراحل جو، عارضی ترکیبات جو عالم وجود کے تحول کے مختلف مراحل میں نظر آتا هے، تک منتهی هوتے هیں ، خود ماده میں رونما ہوتے هیں۔ 54
پل فولکیه، مارکس کی کتاب “سرمایه “کے مقدمے سے اس طرح نقل کرتا هے:
“میری جدلیاتی روش نه صرف مبناء اور اساس کے لحاظ سے هیگل کی روش سے اختلاف رکھتا هے بلکه کبھی مکمل طور پر اس کے برعکس هے ۔ عالم فکر جو مثال کے عنوان کے تحت ایک مستقل جهاں تصور کیا جاتا هے هیگل کے عقیدے میں واقعیت کا خالق هے اور واقعیت صرف اندیشه اور فکر کا خارجی ظهور هے۔ لیکن میرے عقیدے میں عالم فکر انسانی ضمیر میں عالم ماده کا تعبیر هے …۔ یه غلطی جس کا هیگل مرتکب هوا هے ، البته اس بات سے مانع نهیں هے که هم هیگل کو پهلا فلسفی مانیں جس نے جدلیات کو عمیق آگاهی کےساتھ کامل صورت میں بیان کیا هے۔ اس نے حرکت اور تحول کی مختلف اقسام کی تشریح کی هے لیکن اس نے اس حرکت کی الٹی تعریف کی هے۔ همیں چاهئےکه اس کی واقعی اور عقلانی حقیقت کے انکشاف کی خاطر هیگل کے فلسفے کو معکوس کریں۔”55
مارکس کے شاگرد اور مرید اینگلز (Engels) کهتا هے که:
“هیگل کا سسٹم سر کے بل کھڑا تھا هم نے اسے پاوں پر کھڑا کر دیا هے”56
اسٹالن (Staline) جدلیاتی مادیت اور تاریخی مادیت کے کتابچے میں کهتا هے:
“جدلیاتی مادیت کو اس سبب سے یه نام دیا جاتا هے که مادی اشیاء پر اس کی توجه اورتحقیق کا طریقه، اور ان کی معرفت کا راسته جدلیاتی هے ۔ لیکن مادی اشیاء کے بارے میں اس کی تفسیر اور استنباط اور ان اشیاء کے بارے میں اس کا نظریه “مادی” هے۔ مارکس اور اینگلز اپنی جدلیاتی روش کو بیان کرنے کے لئے عموما هیگل سے ایک فلسفی کی مانند جس نے جدلیات کے بنیادی خصائل کو ضابطه مند کیا هے ، استناد کرتے هیں۔ لیکن یه گمان نهیں کرنا چاهئے که مارکس اوراینگلز کی جدلیات هو بهو هیگل کی طرح هے۔ حقیقت میں مارکس اور اینگلز نے هیگل کی جدلیات کا مغز اور هسته معقول کو لیا هے اور اس کے تصوراتی خول کو دور پھینکا هے۔ پھر جدلیات کو زیاده توسیع اور وسعت دی هے اور اسے جدید سائنس کی صورت میں لایا هے…۔ مارکس اور اینگلز معمولا اپنے مادیت کو بیان کرتےهوئے فوئرباچ (Feuerbach) سے بھی ایک ایسے فلسفی کی طرح جس نے مادیت کے مسلمه حقوق کو زنده کیا هے، استناد کرتے هیں۔ لیکن یه گمان نهیں کرنا چاهئے که مارکس اور اینگلز کی مادیت هو بهو فوئرباچ کے مادیت کی طرح هے۔ حقیقت میں مارکس اور اینگلز نے مادیت کے اصلی مغز اور هسته کو لیا هے اور اس کے تصوراتی اور مذهبی اور اخلاقی اضافات کو دور پھینکتے هوئے اس کی مادیت کو وسعت دیا هے اور مادیت کے سائنسی اور فلسفی نظریے تک پهنچے هیں”57
مارکس اور هیگل کے جدلیات کی درمیان تفاوت اور ان کے مکمل برعکس هونےکے بارے میں مارکس اور اس کے پیروکاروں کے ان تمام ادعاووں کے باوجود دقت کرنے سے معلوم هوتا هے که ان کی جدلیات میں کوئی فرق نهیں هے البته مارکس اور هیگل کے فلسفه میں تفاوت ضرور هے۔ جسے هیگل “جدل” کهتا هے ذهن اور واقعیت میں قانون مثلث “تز، اینٹی تز، سنتز” کے مطابق اشیاء کی حرکت کےسوا کچھ بھی نهیں هے۔ لیکن یه که آیا اصالت مادے کے ساتھ هے یا کسی اور چیز کےساتھ ، هیگل کی جدلیات کے مفهوم میں داخل نهیں هے۔ بنیادی طور پر مارکس اور اینگلز نے جو کام کیا هے وه یه هے که اٹھارویں صدی میں مادی فلسفه کو هیگل کی جدلیاتی روش کے ساتھ مخلوط کیا هے۔ فلسفی جهت سے مادی فلاسفرز کے اور طرز تفکر کی جهت سے –دوسرے لفظوں میں منطقی جهت سے- هیگل کی پیروی کیا هے۔جدلیاتی مادیت سے مراد جدلیاتی طرز تفکر کی بنیاد پر مادی فلسفه هے۔مادی فلسفه جو که مادی آئیڈیالوجی هے، کوئی ضروری نهیں هے که طرز تفکر جدلیاتی رکھتا هو ۔ جس طرح ایک مادی آئیڈیالوجی هے جدلیاتی تفکر کے ساتھ ۔ مارکس اور اینگلز نے فلسفی مادیت میں نه کسی چیز کو بڑھایا هے نه جدلیاتی منطق میں ۔ جو چیز دنیا میں مارکس کے نام پر مشهور هے تاریخی مادیت هے – جو ایک قسم کی تاریخ کی تفسیر هے۔ اقتصاد کے عامل کوتاریخ کے اصلی عامل اور حقیقی محرک کے عنوان اور شناخت کی بنیاد پر – نه “فلسفی مادیت” که جو مادی دنیاکی تفسیر هے اور نه جدلیاتی طرز تفکر پر جو ایک قسم کی طرز تفکر شمار هوتی هے۔
پل فولکیه کهتا هے :
“مارکس کی مادیت زیاده تر تاریخی وضاحت کی پهلو رکھتی هے اور بهت کم فلسفی نظریے کی صورت اختیار کرتی هے ۔ اس بنا پر ایک قسم کی تاریخی مادیت هے۔ مارکس همیشه اجتماعی اور سیاسی مطالعے میں مصروف رهے هیں۔ اور بهت کم ماوراء الطبیعه حکمت کے مورد علاقه مسائل کے حل کی فکر میں رها هے۔ وه چاهتا تھا که بشری تحولات کے بڑے قوانین سے واقف هوں۔ اس جهت سے وه اس بنیادی انکشاف میں کامیاب بھی هوا جس طرح آج تک یه تصور کیا جاتا تھا که افکار ، کائنات پر حاکم نهیں هیں بلکه اس کے برعکس افکار اقتصادی شرائط اور نتیجةً مادے کا تابع هیں اور یهی ماده هے جو تاریخ کی توجیه کرتا هے۔ اقتصادیات جو مادی فوائد حاصل کرنے کے لئے تمام تر انسانی کاوشوں کا سرچشمه هے انسانوں کے درمیان روابط کا بنیادی اصل هے۔” 58
مارکس کے بعد اس کے پیروکاروں نے بعض اصولوں کو “جدلیات کےارکان” کے عنوان سے ذکر کیا هے ساتھ هی انهوں نے مارکسیسی جدلیاتی اصولوں میں کچھ تبدیلیاں بھی کی هیں لیکن ان اصولوں کا هیگل کی طرح کارل مارکس نےبھی نام نهیں لیا هے۔
اسٹالن59 اپنی کتاب جدلیاتی مادیت اور تاریخی مادیت میں لکھتا هے که:
“مارکسیسی جدلیاتی روش مندرجه ذیل خصوصیات کی حامل هے:
الف)جدلیات طبیعت اشیاء اور موجودات کو جو ایک دوسرے کے ساتھ رابطه رکھتے هیں اور ابزار کے طور پر ایک دوسرے سے وابسته اور مشروط ہیں مختلف اصناف کا مجموعه سمجھتے هیں۔ جدلیاتی روش معتقد هے که طبیعت میں کوئی بھی موجود تنها اور اپنے اطراف میں موجود دوسرے موجودات کے ساتھ موجود روابط کو ملاحظه کئے بغیر قابل شناخت نهیں هے۔60 (اصل پیوند و تاثیر متقابل اشیاء)
ب) جدلیات طبیعت کو متحرک، پے در پے تحولات کی حالت میں اور همیشه تکامل اور ترقی کی طرف گامزن سمجھتی هے طبیعت میں هر لمحه اور همیشه ایک چیز وجود آکر تکامل پاتی هے اور ایک چیز متلاشی هو کر ختم هو جاتی هے۔اسی بنا پر جدلیاتی روش اس بات کو ضروری سمجھتا هے کی موجودات کو نه صرف متقابل اور مشروط مناسبات کی جهت سے دیکھا جائے بلکه تغییر ، تکامل، پیدائش اور زوال کی جهت سے بھی مورد نظر قرار دیں…۔ اینگلز کهتا هے که “جدلیات اشیاء اور ان کے ذهنی انعکاسات کو اصولی طور پر متقابل اورباهمی روابط ، حرکت اور ان کے، وجود میں

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره اصالت الوجود، حرکت طبیعی، حرکت جوهری Next Entries پایان نامه ارشد درباره نفس الامر