پایان نامه ارشد درباره فلسفه اولی، تقسیم کار

دانلود پایان نامه ارشد

یعنی جب تک شئ دوسری شئ کی نسبت جسے کمال ثانی کهتے هیں حالت بالقوه نه رکھتی هو حرکت نهیں کر سکتی ۔ اس بنا پر حرکت طلب هے مطلوب نهیں هے۔ دوسرے لفظوں میں حرکت ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل هونا هے لیکن حالات میں سے ایک حالت نهیں هے۔ فرض کریں هم اسکو حالت مان لیں تو باقی تمام حالات سے یه تفاوت رکھتی هے که یه کسی دوسرے حالت تک پهنچنے کے لئے وسیله هے ۔
پس جب بھی هم حرکت کو اس عنوان سے دیکھیں گے تو اپنے سے باهر ایک فعلیت کو لازمی طور پر رکھتی هے پس محال هے خود حرکت موجوه قووں کی فعلیت کا ملاک قرار پائے۔ اسی طرح هے هر وه چیز – خواه عرض هو یا جوهر- جس کا وجود حرکت کے مساوی هے ۔

مخصوصا بنی نوع انسان کی طولانی اور تاریخی زندگی میں تحقیق اور دور حاضر کا انسان اور ابتدائی انسان کے درمیان موازنه کرنے سے یه حقیقت مزید واضح هوجاتی هے۔(1)

پس همیشه وه فعلیت جس کابالقوه شئ خواهاں هے ماورائے حرکت ایک واقعیت هے که جس تک پهنچنا حرکت کا انجام هے اور متحرک شئ حرکت کو اس تک پهنچنے کا وسیله قرار دیتی هے اور وهی هے متحرک کی غایت اور مقصد اور وهی هے شئ متحرک کا واقعی اور حقیقی کمال (کمال ثانی)۔ پس هر حرکت اور تکامل اپنی حرکت سے باهر ایک غایت کی تلاش میں هے ۔
(1) آخری صدیوں میں بهت زیاده مورد توجه قرار پانےوالے مسائل میں سے ایک انسانی معاشرے کا تکامل هے۔ جس طرح ایک فرد رشد و نمو کرتا هے اور تکامل پاتا هے معاشره بھی رشد کرتا اور تکامل پاتا هے ۔معاشرے کا رشد ،تکامل اور یه که انسانی تکامل یافته زندگی شروع سے هی اس حالت میں نهیں تھی جس حالت میں آج هے، ایک ایسا مطلب هے جو قدیم زمانے سے توجه کا مرکز رها هے ۔ ابن خلدون35 نے اپنی کتاب تاریخ کے مقدمے کے مختلف ابواب میں اس بات کا ادعا کیاهے که شهری اور مدنی زندگی بدوی اور وحشیانه زندگی سے وجود میں آئی هے۔ انهوں نے اپنے خاص اصول کے مطابق بدوی زندگی سے شهری زندگی کی طرف منتقل هونے کے قوانین اور وه ارتقاء اور ترقی جو بعدکے ادوار میں پیدا هوتی هے یهاں تک که بڑھاپا اور پھر موت تک منتهی هوتی هے، کو ذکر کیا هے۔
جدید علماء نے انسانی زندگی کو معاشی لحاظ سے شکاری، زراعتی، تجارتی اور صنعتی ادوار میں اور معاشرتی اعتبارسے اشتراکیه اولیه ، برده داری، سرمایه داری اور اشتراکیت (Socialism سوشلیزم) اور وسیله اور ابزار کے لحاظ سے پتھر ، لوهے ، ایٹم اور فضا کے دور میں تقسیم کئے هیں۔حکومت وغیره کے لحاظ سے دوسری تقسیمات بھی ممکن هے۔ بهر حال قدر مسلم یه هے که انسانی معاشرتی زندگی حیوانات مانند شهد کی مکھی ، چیونٹی اور دیمک کے معاشرتی زندگی سے ترقیافته(متطوّر) هے۔هربرت اسپنسر کهتا هے:
لیکن یه جاننا چاهئے که اس وسیع وعریض کائنات کی نسبت ان تجربات کے موارد اس قدرمختصر اور ناچیزهیں که همارا خیال اس کا اندازه لگانے سے قاصر هے۔اس بنا پر ایسے تجربات کو ایک فلسفیانہ حقیقت کاسرچشمہ اور کائنات میں موجود ارتقائی سلسلے کی مانند قرار نهیں دیاجاسکتا۔(1) اس کےعلاوہ اس تجربے کااکثرحصہ اجتماعی ترقی کاموضوع ہے جوفلسفہ کی بحث سےخارج ہے۔

“شهری زندگی کی تهذیب انسانی جسم کی طرح هے۔ زندگی کے مختلف وظائف کی انجام دهی کے لئے مخصوص وسائل اور ابزار رکھتی هے جو ابتداء میں ساده اور غیر متنوع هیں لیکن آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں پیچیدگیاں پیدا هوتی هیں اور ان کے باهمی وابستگی بڑھ جاتی هے اور یه حالت ایک طولانی مدت میں رونما هوتی هے۔ابتداء میں ایک مختصر گھرانه تشکیل پاتا هے جس کی زندگی کے امور مختصر اور ساده هوا کرتےہیں۔ پھر آهسته آهسته آبادی بڑھ جاتی هے جس کے نتیجے میں گاؤں، دیهات، شهریں، ممالک، قومیتیں اور بڑی بڑی حکومتیں وجود میں آتی هیں اور چھوٹے چھوٹے پیشے اور بزنس بڑے بڑے کاروبار اور صنعتوں میں تبدیل هوتے هیں۔36
(1) یعنی اگر هم تکامل کو پوری کائنات کے لئے ایک عمومی اصل کی صورت میں قبول کرناچاهیں تو اس کا واحد راسته یه هے که فلسفه کلی اور علم وجود کےراستےسے وارد هوجائیں جیسا که اس مقاله میں اسی راستے کو طے کیا گیا هے۔ لیکن اگر فلسفه اولی کو اس بهانے سے که ایک 100% تعقلی بحث هے اور صرف وهی نظریه قابل قبول هے جس کی بنیاد سائنس اورسائنسی تجربات اور تجسسات کے اوپر رکھی گئی هو، چھوڑ دیں تو ضروری هے که همیشه کے لئے اس اصل سے ایک عمومی اور فلسفی اصل هونے سے چشم پوشی کریں۔ کیونکه انسانی تجربات اور آزمائشیں ان موارد کے بارے میں جنهیں وه وسعت دنیا چاهتے هیں، اس قدر کم اور ناچیزهیں که قابل تصور نهیں هیں ۔ هم ایک چھوٹے سیارے “زمین” پر زندگی گزار رهے هیں جوتمام کائنات کی نسبت ایک ایسا ذره هے جس کی کوئی حیثیت نهیں هے۔ هم اس زمین پر موجود مخلوقات کے بارے میں تجربات انجام دیتے هیں وه بھی چند معدود افراد کے ساتھ محدود هے۔اگر اس بات پر بنا رکھی جائے که همارے فکری الهامات صرف حواس اور حسی آزمائشوں پر منحصر هے تو کیسے ممکن هے هم اپنی معلومات کے دائرے کو زمان اور مکان کے لحاظ سے بے نهایت تک وسعت دیں؟!
یورپ کے بعض فلاسفرز نے فلسفه اور علم کلی سے مکمل روگردانی کی هے اور دوسری طرف سے اپنی فلسفی پیاس کو علوم حسی کی محدود محصولات یا پیدوار سے نه بجھا سکیں تو اس فکرمیں پڑگئے که علوم کی تولیدات سے کلی اور عمومی فلسفه کو ایجاد کریں۔ ان فلاسفرز میں سے ایک هربرت اسپنسرهے وه کهتا هے :
“معرفت کے تین درجے هیں: پهلا درجه ایسی معرفت هے جو غیر منسجم یعنی پراکنده اور جزئی هے جیساکه وه معرفت جوعوام رکھتی هیں۔ دوسرا درجه وه معرفت هے جو نیم منسجم هے اوروہ علوم اور فنون هیں جیسے نباتیات، بیالوجی، جغرافیا ، نجوم اور اس کے مانند دوسرے علوم و فنون ۔ تیسرا درجه جو اعلی درجے کی معرفت هے جو مکمل طور پر منسجم هے وه فلسفه هے”37
پل فولکیه38 اپنی کتاب فلسفه عمومی یا مابعد الطبیعه جس کاترجمه ڈاکٹر یحیی مهدوی نے کیا هے ، میں کهتا هے:
“اسپنسر کی نظر میں ارتقاء(تطور) سے مراد ایسی تغیرات هیں جس میں چند هم جنس امور غیر هم جنس امور میں یا ایسے امور جن میں عدم مشابهت کمتر هو ایسے امور میں جن میں عدم مشابهت زیاده هو، تبدیل هو جاتے هیں ۔ اس ارتقاء کا وقوع اور حصول بھی دو مرحلوں کا تابع هے۔ پهلا مرحله “فرق” یا “تفصیل” هے اور دوسرا مرحله “جمع “ یا “اجمال” هے۔ مثلا غیر متفرق پروتوپلازم یعنی ایک ایسا هم جنس جس کے اجزاء ایک دوسرے سے متصل نه هو اس ممالیه جانور میں جو ایک دوسرے سے متصل لیکن متعدد اعضاء سے وجود میں آکر ارتقاء حاصل کرتا هے ۔ اسی طرح ایک معاشرے کو اسوقت “ترقی یافته ” کهه سکتے هیں جب اس معاشرے کے اعضاء ایک ابتدائی معاشرے کی نسبت آپس میں اختلاف رکھنے کے ساتھ ایک دوسرے سے متصل اور پیوسته بھی هوں۔ (مثلا تقسیم کار کے لحاظ سے) آپس میں زیاده پیوستگی بھی رکھتے هیں۔ نا پیوستگی ابتدائی کی طرف بازگشت کو “انحلال” یا “اضمحلال” یا “جمع اور اجمال کے فسخ ”کا نام دیتے هیں۔ اور اسی هم جنس امر کی طرف رجعی حرکت کو بیان کرنے کے لئے استاد لالینڈ (Laland) نے “انطوائی ارتقاء” کی تعبیر کی تجویز دی هے۔39
اسپنسر کے عقیدے میں جب بھی چند سائنسی قوانین کسی کلی قاعدے کے تحت آجائیں تو اس قاعدے کا “فلسفی قاعده” نام رکھنا ضروری هے۔
ڈارون کے تکاملی اصول جو ڈائرکٹ تجربے سے حاصل شده ہے اور سائنسی اور حیاتیاتی هے، کا هربرت اسپنسر کے تکاملی اصول جوسائنسی محصولات سے کچھ کلی اسنباطات کا ایک سلسله هے ، سے موازنه کرنے سے اسپنسر کے ادعا کا مفهوم واضح هو جاتا هے۔ حقیقت یه هے که جس طرح اصول فلسفه کی جلد دوم کے حاشیے میں بیان هوا انسان کے فکری الهامات کوان چیزوں کے ساتھ جو حس اور تجربے سے حاصل هوتے هیں، محدود کرنے کا لازمه یه هے که هم نه صرف فلسفه سے محروم هوتے هیں بلکه علم یعنی وه چیز جسے اسپنسر “معرفت کے دوسرے مرحلے” کا نام دیتا هے سے بھی محروم هوجاتے هیں۔ تفصیل کے لئے وهاں رجوع کریں۔
خود هربرت اسپنسر اس بات کی طرف متوجه هوا هے که زمینی محدود تجربات کا ایک غیر تجربی قاعدے کو بنیاد بنائے بغیر پوری کائنات کی طرف وسعت دینا ایک بیهوده کام کے سوا کچھ نهیں هے۔وه کهتا هے که:
“یه حکم جو هم کائنات کے امور اور اس کے تکاملی سلسلوں پر کرتے هیں همارے تجربوں اور مشاهدات کے بل بوتے پر هے اور صرف اس حد تک صحیح هے جس کا مشاهده اور تجربه ممکن هو یعنی اس جهاں کے بارے میں هے که جس میں هم زندگی گزارتے هیں جو هماری حس اور شهود میں آسکتی هے، اور گذشته اور آئنده کی کچھ مدت کے لئے که جس پر هماری حس اور تعقل قرائن اور شواهد کے ذریعے تسلط پیدا کرسکتے هیں۔ 40

طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون
مقدمه 41
جدلیاتی ماده پرستی کے حامی طبیعت کے ارتقاء کو ایک خاص بنیاد پر توجیه کرتے هیں اور اس کا نام “ طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون” رکھتے هیں۔ضروری هے که (Dialectic) کی تاریخ یعنی اس کلمے کے ظهور کے آغاز سے لیکر انسویں صدی میں ماده پرستوں کی اصطلاحات میں اس کی استعمال اور هیگل42 اور مارکس43 کے جدلیاتی قانون کے بارے میں تھوڑی بهت گفتگو کریں پھر “طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون” کو تکامل کی توجیه کے جهت سے جانچ پڑتال کریں۔
(Dialectic) یونان قدیم کا ایک کلمه هے ۔ پل فولکیه ڈیالیکٹک مگزین میں کهتا هے:
“ڈیالیکٹک کا کلمه اصل میں ایک یونانی کلمے سے مشتق هوا هے جس کے دو اصلی معنی “کلمه “ یا “گفتار” اور “دلیل” هیں۔ یه دو معنی کلمه ڈیالیکٹک میں موجود هے ۔ اس کلمےکاپہلا حصہ “ڈیا” مقابله اور معارضه کا معنی دیتا هے اس لحاظ سے ڈیالیکٹک کا مفهوم کلمات، دلائل کے رد و بدل ، گفتگو اور مباحثے کا معنی دیتا هے۔
جب هم ڈیالیکٹک کے کلمے کو مصدر کی صورت میں استعمال کرتے هیں تو اس کا معنی مذاکره ، مکالمه اور مجادله کرنا هے۔ جب هم اس کو صفت کی صورت میں استعمال کریں تو اس کا معنی وه چیز هے جو مباحثه خصوصاً مجادلے سے مربوط هے جو دو افراد کے درمیان میں هوتا هے۔اور جب اسم کی صورت میں استعمال هوتا هے تو اس سے مراد مباحثه اور مجادله کا فن هے۔
کهتے هیں سقراط44 اور افلاطون کے دور سے پهلے یه کلمه ان استدلالات کے بارے میں استعمال هوتا تھا جس کا مقصد مقابل کی دلیل کو باطل کرنا هوتا تھا(مجادله) نه که حقیقت کو درک کرنے کی کوشش کرنا۔ سوفسطائیوں نے یهاں تک که اس کلمے کو بلاغت اور مشاجره جس میں حقیقت سے کوئی سروکار نهیں هے اور جس کا هدف غلبه حاصل کرنا هے ، کے معنی میں استعمال کیا هے۔لیکن سقراط اور افلاطون کے کلمات میں یه کلمه مثبت مفهوم رکھتا هے۔سقراط اور افلاطون نے فکری اور عقلی روشوں کو اختیار کرتے هوئے حقائق کی تبیین کا نام -جن کا هدف حقیقت کا انکشاف اور یقین حاصل کرنا هے صرف مجادله اور مقابل پر جیت حاصل کرنا نهیں هے- ڈیالیکٹک رکھا هے ۔ لیکن ارسطو نے دوباره کلمه ڈیالیکٹک کو فن “جدل” کے مورد میں جس کا هدف مقابل پر غلبه حاصل کرنا هے،استعمال کیا هے۔ برهان کے مورد میں جس کا هدف حقیقت کا انکشاف اور یقین کا حصول هے تحلیل (Analytic)کی لغت سے استفاده کیا هے ۔ ارسطو کے بعد بھی انسویں صدی تک یه کلمه کبھی ایسی اصطلاح میں جو ارسطو ئی اصطلاح کے نزدیک هے اور کبھی اس کے اصطلاح سے عام معنی میں جو اثباتی اور برهانی روشوں کو بھی شامل کرتی هے استعمال هوتا رها هے اور ایک لمبی کهانی کی صورت اختیار کر گیا هے۔بهرحال هیگل کے زمانے ( 1770-1831 ) تک ڈیالیکٹک کا کلمه مفهوم جمع ضدین یا نقیضین کو شامل نہیں کرتا تھا کیونکه اصل اجتماع ضدین اور نقیضین کو مسلم فرض کیا جاتا تھا اور بحث و گفتگو کا مورد نهیں تھا۔
هیگل نے اپنی اصطلاحات میں “تناقض” کو ڈیالیکٹک کے مفهوم میں داخل کیا۔ هیگل کی نظر میں تناقض فکر اور موجودات کی بنیادی شرط هے اور اس کی نظر میں ڈیالیکٹک ایک ایسی لهر هے جو تمام هستی کو گھیر لیتی هے۔جدلیاتی فکر، طبیعت اور تناقض اس لهر کی بنیادی شرط هے۔اس لحاظ سے ڈیالکٹک نے ایک جدید

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره اصالت الوجود، حرکت طبیعی، حرکت جوهری Next Entries پایان نامه ارشد درباره نفس الامر