پایان نامه ارشد درباره علامه طباطبائی، شهید مطهری، امام خمینی، نهج البلاغه

دانلود پایان نامه ارشد

اجتهاد کے درجے تک علم حاصل کیا۔
تبریز میں
علامه طباطبائی نجف اشرف میں تحصیل کے دوران معیشت میں تنگی اور تبریز سے اپنی زمینوں کے اجارے جو مقرر کئے هوئے تھے کے نه پهنچنے کی وجه سے ایران لوٹنے پر مجبور هوگئے اور 10 سال تک تبریز اپنے آبائی گاوں شادآباد میں زراعت میں مشغول رهے۔ اس دوران کوئی علمی فعالیت جیسے تحصیل یا تدریس کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بات نظر نهیں آتی لیکن کچھ کتابیں اور رساله جات علامه طباطبائی کے اس دور کے فکری ماحصل هیں جو انهوں نے تبریز میں لکھے هیں۔
قم میں
تبریز سے باهر ایران کے دوسرے شهروں کے حوزه جات میں علامه طباطبائی کی شهرت اس وقت هوئی جب انهوں نے دوسری جنگ عظیم کے سیاسی حوادث کی وجه سے تبریز سے قم کی طرف هجرت کی۔ علامه طباطبائی 1325 هجری شمسی(1946ء) میں قم میں مقیم هوئے اور کسی شور و شرابے کے بغیر تفسیر اور فلسفے کے دروس کا آغاز کیا۔
حوزه علمیه قم میں علامه طباطبائی کا بڑا علمی کارنامه علوم عقلی کا احیاء اور تفسیر قرآن کریم تھا ۔ انهوں نے بتدریج حکمت کے اعلی دروس جیسے کتاب شفا اور اسفار کو رواج دیا ۔ هر روز زیاده سے زیاده با صلاحیت اور شوق و اشتیاق رکھنے والے لوگ ان کے دروس کی طرف مائل هوتے گئے یهاں تک که آخری سالوں میں ان کے فلسفے کے دروس میں سینکڑوں شاگرد شرکت کرتے تھے اور گذشته کئی دهائیوں سے بهت سارے سائنسدان حضرات جو آج کل خود فلسفه کے اساتید میں شمار هوتے هیں ان کے زیر سایه ان علوم میں اجتهاد کے درجے تک نائل هوئے هیں۔
تهران میں علمی جلسات
قم میں سکونت کے دوران علامه طباطبائی کی فعالیتوں میں سے ایک تهران میں علمی اور فلسفی نشستوں میں شرکت تھی۔ یه جلسات هانری کرین، سید حسن نصر اور داریوش شایگان وغیره کے ساتھ علامه طباطبائی کی زیر صدارت فلسفه، عرفان، ادیان اور اسلام شناسی کے بارے میں انجام پاتے تھے۔ تهران میں پے در پے سفر کے دوران انهوں نے فلسفه اور معارف اسلامی کے شائقین سے ملاقات کیں اور بعض اوقات دین اور حکمت کے مخالفین کے ساتھ بھی نشست و برخاست رکھتے تھے ۔
هانری کربن کے ساتھ علامه طباطبائی کے جلسات( 20سال 1378 سے 1399 هجری قمری)(1958ء سے1978ء) تک هر موسم خزاں میں کئی فاضل اور سائنسدانحضرات کے حضور انجام پاتے تھے جن میں دین اور فلسفه کے بنیادی اور حیاتی مسائل پر بحث هوتی تھی۔ سید حسن نصر کے بقول ایسے جلسات اس قدر بلند و بالا درجے اور اس قدر وسیع و عریض افق کے ساتھ بے نظیر تھے یهاں تک که یه دعوا کرسکتے هیں که قرون وسطی جهاں سے عیسایت اور دین مبین اسلام کا فکری اور معنوی رابطه منقطع هوا تھا کبھی اسلامی شرق اور غرب کے ساتھ ایسا رابطه برقرار نهیں هوا هے۔
علامه کے اساتید
علامه نے اپنے تحصیل کے دوران مندرجه ذیل اساتید سے کسب فیض کیا هے:
1.
آیت اللهسید علی قاضی طباطبایی
2.
آیت الله سید ابوالقاسم خوانساری
3.
آیت الله مرتضی طالقانی
4.
آیت الله محمد حسین غروی اصفهانی
5.
آیت الله سید ابوالحسن اصفهانی
6.
آیت الله میرزا حسین نائینی
7.
آیت الله سید حسین بادکوبه‌ ای
8.
آیت الله حجت کوه کمری
علامه کے شاگرد
جنهوں نے علامه سے کسب فیض کیا هے وه مندرجه ذیل هیں:
1.
سید عزالدین حسینی زنجانی
2.
آیت اللهعلی قدوسی
3.
محمد محمدی گیلانی
4.
شهید مرتضی مطهری
5.
یحیی انصاری شیرازی
6.
آیت اللهفاضل لنکرانی
7.
آیت الله جوادی آملی
8.
شهید سید محمد حسینی بهشتی
9.
آیت الله منتظری
10.
شهید محمد مفتح
11.
آیت الله شبیری زنجانی
12.
شهید محمد جواد باهنر
13.
آیت الله مصباح یزدی
14.
آیت الله موسوی اردبیلی
15.
آیت اللهجعفر سبحانی
16.
آیت الله نوری همدانی
17.
آیت الله ابراهیمی دینانی
18.
آیت اللهابوطالب تجلیل
19.
آیت الله حسن زاده آملی
20.
آیت اللهسید موسی صدر
21.
آیت الله طهرانی
22.
آیت اللهباقرموحد ابطحی
23.
آیت اللهابراهیم امینی
24.
آیت الله موحد ابطحی
25.
آیت الله آشتیانی
26.
آیت الله روحانی
27.
آیت اللهمکارم شیرازی
28.
آیت اللهاحمدی میانجی
29.
آیت اللهاحمد احمدی
30.
آیت اللهعباس ایزدی
31.
آیت الله خرم‌آبادی
32.
آیت اللهصادقی تهرانی
33.

علامه کے علمی آثار
علامه نے بهت سارے علمی آثار باقی چھوڑے هیں جن میں سے کچھ مندرجه ذیل هیں:
1.
تفسیر المیزان
2.
رساله در صفات
3.
اصول فلسفه و روش رئالیسم
4.
رساله در افعال
5.
اسفار پر حاشیه
6.
سنن النبی (ص)
7.
رساله در برهان
8.
رساله در نبوت و مقامات
9.
کربن کے ساتھ انٹرویوو
10.
رساله در اعتبارات
11.
رساله در وسائط
12.
رساله در ترکیب
13.
الانسان قبل الدنیا
14.
رساله در تحلیل
15.
الانسان فی الدنیا
16.
رساله در مغالطه
17.
الانسان بعد الدنیا
18.
منظومه در رسم خط نستعلیق
19.
کفایة الاصول پر حاشیه
20.
شیعه در اسلام
21.
رساله در قوه و فعل
22.
قرآن در اسلام
23.
رساله در اثبات ذات
24.
رساله در ولایت
25.
رساله در مشتقات
26.
رساله در نبوت
27.
متعدد مقالات جو مختلف نشریوں میں منتشر هوئے هیں۔
28.
حکومت اسلامی پر ایک رساله، جو فارسی ، عربی اور جرمنی میں منتشر هواهے۔
تفسیر المیزان
علامه طباطبائی نے 1374 هجری قمری(1954ء) میں تفسیر المیزان لکھنا شروع کیا اور 1392 هجری قمری(1972ء) میں اسے 20 جلدوں میں عربی زبان میں مکمل کیا۔ اس تفسیر میں “قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر” کی روش سے استفاده کیا هے ۔ اس میں علامه نے آیات کی تفسیر اور لغوی بحث کے علاوه مختلف جگهوں پر مختلف مناسبتوں سے تاریخی، روائی، کلامی ، فلسفی، سائنسی اور اجتماعی حوالے سے بھی بحث کی هے۔
سید محمد باقر موسوی همدانی نے اس اثر کا فارسی میں دو طرح سے ترجمه کیا هے، ابتداء میں 40 جلدوں میں اس کے بعد 20 جلدوں میں۔
علامه طباطبائی کے بارے میں لکھے گئے آثار
علامه طباطبائی کی وفات کے بعد متعدد سیمینار آپ کی زندگی پر مطالعے کے حوالے سے برگزار هوئے هیں۔ ان میں سے اهم ترین سیمینار“میزان حکمت”کے عنوان سے 1383 هجری شمسی(2004ء) میں منعقد هوا جس کا اهتمام ایران کے ایک ٹی وی ادارے نے کیا تھا۔
شیعه علماء کی شخصیت پر”حدیث سرو” کے نام سے ٹی وی پر ایک مستند ڈاکومنٹری ریلیز هوئی جس کا ایک حصه علامه طباطبائی کی زندگی سے مختص تھا۔
آپ کی زندگی پر مختلف کتابیں لکھی گئی هیں ان میں سے بعض صرف یاد نامه هیں اور علمی مقالات پر مشتمل هیں جبکه بعض علامه کی زندگی پر لکھی گئی هیں جو مندرجه ذیل هیں:
1- یادیں اور یادگاریں، تحریرعلی تاجدینی
2- مهر تابان، تحریر سید محمد حسین طهرانی
3-محبت کے دئے، تحریر سید علی تهرانی
4-شناخت نامه علامه طباطبایی، ترتیب و پیش کش، مهدی مهریزی اور هادی ربانی
5-جان بخش گھونٹیں، تحریر غلام رضا گلی زواره
6- شمس الوحی تبری‍زی، تحریر آیت الله جوادی آملی
اسکے علاوه ایران میں بهت ساری علمی مراکز علامه طباطبائی کے نام سے منسوب هیں جن میں سے اهم ترین تهران میں علامه طباطبائی یونیورسٹی هے۔
وفات
علامه طباطبائی 24 آبان ماه 1360 هجری شمسی(15 نومبر 1981ء) بروز اتوار صبح 9 بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور اگلے دن مسجد امام حسن العسکری( سے حرم حضرت معصومه (س) قم تک ان کے جنازے کی تشییع هوئی ۔ ان کی نماز جنازه آیت الله محمد رضا گلپائگانی نے پڑھائی پھر حضرت معصومه (س) کے حرم میں مسجد بالا سر میں دفن هوئے۔

استاد شهید مرتضی مطهری کا تعارف
شهید مرتضی مطهری۱۲۹۸- ۱۳۵۸ ه۔ش(1919ء -1979ء) چودهویں صدی کے شیعه فقیه، فلسفی، متفکر ،قلم کار اور علامه طباطبائی اور امام خمینی(رح) کے شاگردوں میں سے تھے۔ ان کا شمار اپنے دور میں ایران کے موثرترین شیعه علماء میں هوتا تھا۔ انهوں نے ایران میں مارکسیزم(Marxism) کے تفکرات سے جوانوں کو دور رکھنے میں نهایت هی اهم کردار ادا کیا۔ ایران میں ان کی تاریخ شهادت کو ٹیچر ڈے کے طور پر منایا جاتا هے۔1
ابتدائی تعلیم
شهید مرتضی مطهری بچپن سے هی بهت هوشیار تھے پانچ سال کی عمر سے کتاب کے ساتھ عشق و محبت ان میں نمایاں تھی۔ مرتضی مطهری باره سال کی عمر تک اپنے والد گرامی کے هاں مقدمات تک کی تعلیم حاصل کی کچھ مدت کے بعد مشهد مقدس میں مدرسه ابدالخان میں اپنے بھائی کے همراه دو سال تک دینی علوم کے حصول میں مشغول هوئے۔2
قم کی طرف سفر
1315 ه۔ش (1936ء) میں شهید مطهری نے مزید تعلیم کے حصول کے لئےقم کی طرف روانه هوئے ۔ قم میں طالب علمی کےدوران شهید نے مکاسب و کفایه کو آیت الله سید محمد محقق یزدی جو میر داماد کے نام سے معروف هے کے پاس پڑھی۔ ایک سال آیت الله حجت کوه قمری (موسس مدرسه حجتیه ) کے درس خارج میں شرکت کی۔ اس کے علاوه آیات عظام سید صدرالدین صدر، محمد تقی خوانساری، گلپایگانی، احمد خوانساری اور نجفی مرعشی سے بھی کسب فیض کیا۔ 1323 ه۔ش (1944ء) میں آیت لله بروجردی قم تشریف لاتے هیں اور شهید دس سال تک ان کےفقه و اصول کے دروس میں شرکت کرتے هیں۔ اسی دوران فلسفه کے دورس میرزا مهدی آشتیانی سے حاصل کئے۔3
در س نهج البلاغه
1320 ه۔ش (1942ء) شهید مطهری گرمیوں کے موسم میں معمولاً قم سے اصفهان چلے جاتے تھے وهاں حاج علی آقا شیرازی جو که نهج البلاغه کے مدرس تھے سے آشنا هوتے هیں اور اصفهان اقامت کے دوران ان سے بهت استفاده کرتے هیں۔ اس عظیم شخصیت نے جسے شهید مطهری عالم ربانی کے نام سے یاد کرتے هیں شهید پر گهرے اثرات چھوڑے هیں۔ بقول شهید مطهری حاج میرزا علی آقا شیرازی مجسم نهج البلاغه تھےاور نهج البلاغه کے موعظے ان کے رگ و خون میں رچ بس گئے تھے۔4
امام خمینی(رح) کے دروس
طلبگی کے آغاز سے هی شهید مطهری امام خمینی کے درس اخلاق جو جمعرات اور جمعه کو هوتے تھے میں شرکت کرتے تھے۔ بعد میں حوزه کے بزرگ علماء کے اصرار پر امام خمینی نے درس خارج شروع کیا۔ یه درس ابتداء میں خصوصی طور پر امام خود اپنے کمرے میں دیا کرتے تھے لیکن تھوڑی مدت کے بعد شرکت کرنے والوں کی کثرت کی وجه سے مسجد بالاسر حرم مطهر حضرت معصومه(س) اور آخر کار مسجد سلماسی میں منتقل کیا گیا۔ یه درس 12 سال تک جاری رها ۔
شهید مطهری نے فلسفه کے دروس کو بھی امام خمینی (رح) کے منظومے سے شروع کیا۔ امام خمینی (ح)کی روش یه تھی که جب تک کسی طالب کا امتحان نهیں لیتے اسے فلسفه نهیں پڑھاتے تھے کیونکه امام معتقد تھے که اگر کسی طالب علم میں استعداد نه هو اور فلسفه پڑھے تو وه گمراه هوسکتا هے۔5
علامه طباطبائی کے حضور
علامه طباطبائی 1324ه۔ش (1945ء)کو قم تشریف لاتے هیں اور ایک عام طالب علم کی طرح زندگی بسر کرتے هیں۔ اکثر نماز جماعت میں آیت الله خوانساری کی اقتداء کرتے تھے اور چونکه آخری صفوں میں بیٹھتے تھے کبھی کبھار چٹائی نه هونے کی وجه سے اپنی عبا بچھاکر نماز پڑھتے تھے۔ آپ کی ساده زیستی نے لوگوں میں آپ کو ایک متقی عالم دین کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا اور اکثر لوگ ان کے فضائل سے باخبر نهیں تھے۔ ایک دن میرزا جواد آقا خندق آبادی شهید مطهری کے پاس آکر کهتے هیں که علامه طباطبائی ایک فاضل عالم دین هیں انهوں نے کتاب شفا کا درس شروع کیا هے آپ بھی شرکت کریں۔ شهید مطهری کهتے هیں که کتاب شفا کی تدریس هر کسی کا کام نهیں هےگمان نهیں کرتا که وه بھی شفا پڑھا سکتے هوں۔ آقای خندق آبادی زبردستی شهید مطهری کو کلاس میں لے جاتے هیں اور اسی پهلے درس میں هی شهید مطهری علامه طباطبائی کے درس و بحث کے عاشق هوجاتے هیں۔6
علامه 1329 سے 1332 ه۔ش (1950ء -1953ء) کے دوران الهیات شفا پڑھاتے تھے ۔ اس درس میں آقای منتظری ، بهشتی اور واعظزاده خراسانی شرکت کرتے تھے ۔ بقول ایک فاضل کے جب بھی شهید مطهری ان کلاسوں میں شرکت کرتے تھے آپ خود ان کلاسوں کے محور بن جاتے تھے۔ علامه کسی مطلب کو 5 منٹ میں بیان کرتے تھے تو شهید مطهری کم از کم 20 منٹ اس کی تفصیل بیان کرنے میں لگاتے تھے۔ ان ک

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره علامه طباطبائی، شهید مطهری، حوزه علمیه، نهج البلاغه Next Entries پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی