پایان نامه ارشد درباره عالم مجردات

دانلود پایان نامه ارشد

طرح هر اخذی امر موجود هے لیکن منشاء اخذ کے وجود سے۔ پس زید اور نابینائی کے درمیان رابطه موجود اور معدوم کے درمیان رابطه کی طرح نهیں هے بلکه موجود حقیقی اور موجود اخذی کے درمیان رابطے کی طرح هے اور جو چیز محال هے وه رابطه هے جو موجود اوراس معدوم کے درمیان هے جو وجود کے اقسام میں سے کسی بھی قسم میں موجود کی نسبت کا ظرف نهیں هے۔
2 – مذکوره امکان ایک وجودی صفت اور نسبت هے ۔
3 –وجودی نسبت کے بالفعل هونے کے لئے ضروری هے که دونوں طرف بھی فعلا وجود رکھتے هوں۔
هماری بحث بند گلی میں محبوس هوجائے گی ۔ کیونکه بعد کی فعلیت جو که آثار خارجی کا منشاء هے اپنے ظرف اور خارجی پیدایش سے پهلے خارج میں موجود نهیں هے حالانکه اس کا امکان مادے میں موجود اور بالفعل هے۔ (1)
پس ناچار ان تین نظریوں میں سے ایک میں اشکال هے یا توضیح طلب هے ۔ البته پهلے دو نظریوں میں اعتراض کی گنجائش باقی نهیں رهتی یه نهیں کها جاسکتا هے که ماده بعد کی صورتوں کا امکان نهیں رکھتا اور یه بھی نهیں کها جا سکتا که یه امکان موجود نهیں هے صرف خیالی هے۔ورنه لازم آتا هے که اس مادی دنیا میس پیش آنے والی تدریجی تغییراتی حقیقت اور هویت کا انکار کریں۔ لیکن اگر تیسرےنظریه میں ذرا دقت کریں تو معلوم هوگا که وه فعلیت جس کی طرف مادے کی نسبت دی جاتی هے اور ماده جس کا امکان رکھتا هے خود تنها نهیں هے بلکه دوسری فعلیتیں بھی اس کے شانه بشانه اور اس کے عرض میں هیں جن سے متحد هو کر مادے میں دوسری صورتیں قبول کرنے کی صلاحیت پیدا هو جاتی هے اور اگر عرض میں هونے کی صورت میں ممکن هے تمام فعلیتوں میں سے صرف ایک موجود هوں اور باقی نیستی سے دچار هوجائیں۔

(1) اشکال کا خلاصه یه هے که اگر هم کهیں که امکان ایک وجودی نسبت هے اور یه نسبت همیشه خود شی سے پهلے وجود رکھتی هے تو لازم آتا هے که موجود (مادے کا وجود) اور معدوم (وه فعلیت جو ابھی معدوم هے اور آئنده وجود میں آئیگی) کے درمیان نسبت برقرار هوجائے حالانکه موجود اور معدوم کے درمیان نسبت محال هے۔ بعینه اس بات کی طرح هے که اگر هم کهیں که ایک رسی هے جس کا ایک سرا ابھی میرے هاتھ میں هے اور دوسرا سرا کسی دوسرے کے هاتھ میں هے جو سو سال بعد پیدا هوگا۔پس یه جو کها جاتا هے که هر آئنده ایک خاص گذشته اور هر گذشته ایک خاص آئنده سے مربوط هے صحیح نهیں هے کائنات میں اگر کوئی رابطه هے تو ان موجودات کے درمیان هے جو ایک هی زمانے میں موجود هوں۔

مثلا سیب کا ماده جو سیب کے بیچ میں هے سیب بن سکتا هے اور (جل کر) راکھ اور (کھانے کے ذریعے ) غذا کا جز اور هزاروں دوسری چیزوں میں بدل سکتا ہے اگرچه خارج میں وقوع کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ان فعلیتوں میں سے صرف ایک کے تحقق کا جامه اوڑھ سکتا هے۔
یهاں سے واضح هوجاتا هے که مادے کی طرف نسبت دی جانے والی فعلیت صرف وهی فعلیت نهیں هے جو وجود میں آئی هے اور آثار خارجیه کا منشاء بن گئی هے کیونکه یه فرض نظریه اول کے باطل هونے کا سبب بن سکتا هے کیونکه دوسرے مفروضه امکانات جھوٹے اور خیالی نهیں هیں ورنه یه فرض دوسرے نظریے کے غلط هونے کا بھی باعث بنے گا کیونکه یه تمام فعلیتیں جن کی نسبت مادے کی طرف بالقوه دی جاتی هیں ایک قسم کی وجودی فعلیت رکھتی هیں۔(1) البته نہ ایسی فعلیت جو آثار کے مرتب هونے کا باعث بنتی هو۔

(1) بطور خلاصه اس اعتراض کا جواب یه هے که گذشته اور آئنده کے درمیان نسبت، موجود اور معدوم کے ما بین نسبت کی طرح نهیں هے؛ بلکه موجود اور موجود کے مابین نسبت کی طرح هے ؛ یعنی اصل کلی (موجود اور معدوم کے درمیان نسبت کا محال هونا)مورد قبول هے لیکن همارے مورد نظر مسئله میں صورتحال اس طرح نهیں هے کیونکه آئنده گذشته میں اور لاحق سابق میں اور فعلیت قوه کے ضمن میں موجود هے۔یه جو هم کهتے هیں که آئنده گذشته میں اور گذشته کے ساتھ موجود هے ممکن هے دو طریقوں سے قابل بیان هو جس میں سے ایک مودر قبول نه هو اور دوسرا مورد قبول هو۔
اول : یه جو کهتے هیں که آئنده ابھی اور بالفعل موجود هے گذشته حاضر اور آئنده تمام کے تمام مجموعاً ایک ساتھ موجود هیں۔ صرف زمان کا پرده ان کے درمیان حائل هے ۔ جب هم آئنده تک پهنچ جاتے هیں توحقیقت میں همارے اور آئنده کے درمیان سے زمان کا مانع رفع هوجاتا هے۔ زمان اس جهت سے مکان کی طرح هے۔ هم جهاں بھی هوں مثلا تهران میں یقیناً دوسری جگهیں مثلا اصفهان اور شیراز هماری نسبت معدوم هیں لیکن جیسے هی هم سفر کے ذریعے اصفهان یا شیراز پهنچ جاتے هیں، ان کی طرف نسبت موجود پائیں گے۔ لیکن جس وقت هم تهران میں تھے اصفهان اور شیراز ان لوگوں کی نسبت جو تهران میں موجود هیں معدوم اور وهیں کے لوگوں کی نسبت موجود هیں۔

اس بیان سے واضح هوجاتا هے که ماده کے اندرکسی فعلیت کا امکان رکھنےکی حقیقت یه هے که فعلیت ماده میں ایک قسم کاوجودی ثبوت رکھتی هے جو ابھی بعد کی فعلیت کے آثار خارجی کا حامل نهیں ہے اور جب ماده اپنی ارتقائی حرکت کو طے کرنے کے بعد تمام فعلیت کو حاصل کرتا هے تو آثار خارجی کو بھی ظاهر کرتا هے۔ مثلا سیب کی فعلیت سیب کے بیچ میں ایک بے اثر وجود رکھتی هے۔ دوسری بے اثر فعلیتوں کے وجود کے ساتھ جس کا یہ بیچ امکان رکھتاهے جب بیچ اپنی ارتقائی حرکت کوطےکرنے کے بعد سیب کی فعلیت کے راستے میں داخل هو کر فعالیت شروع کرتا هے۔ جس کے نتیجه میں آهسته آهسته دوسرے امکانات کوخود سے دور کرتا هے اور ایک سیب کے درخت میں بدل جاتا هے۔ پھر سیب بن جاتا هے اور سیب کے خارجی آثار اس پرنمودار هوتے هیں اور ایک خاص جسامت ، وزن ، رنگ اور بو کا مالک بن جاتا هے۔

معدوم کا همارے لئے نسبی هونا اس معنی میں هے که همارے وجود کی محدودیت اس مکان سے جهاں هم هیں (مثلا تهران) همارے آنکھوں کے سامنے پرده ڈال دیتی هے جیسے هی هم مسافرت کریں اور اس پردے کو هٹائیں اصفهان یا شیراز سے نسبی معدومیت ختم هوجائے گی۔
زمان کے اعتبار سے بھی هم عینا یهی محدودیت رکھتے هیں۔ جس زمانے میں هم هیں اس زمان کے ماوراء کو مشاهده نهیں کرسکتے هیں۔جس طرح هم مکان کے اعتبار سے محدود هیں اور مکان کے صرف مختصر حصے کو گھیر لیتے هیں زمان کے اعتبارسے بھی محدود هیں اور صرف زمان کے ایک حصے میں واقع هوسکتے هیں اور اسی کو پر کر سکتے هیں۔ زمان کا وه حصه جسے هم گھیر لیتے هیں هماری آنکھوں پر پرده ڈال دیتا هے که هم گذشته اور آئنده کو معدوم خیال کریں؛ لیکن واقع میں نه گذشته معدوم هے اور نه آئنده ۔ زمان کا گزر ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف مسافرت کرنے کی طرح هے جو پردے کو هماری آنکھوں سے هٹاتا هے اور هم خود کو ایک ایسے آئنده سے جسے هم معدوم خیال کرتے تھے روبرو دیکھتے هیں؛ اس تفاوت کے ساتھ که هم مکان میں حرکت اورمسافرت کے ذریعےمکانی پردے کو هٹاتے هیں اور اپنے آپ کو دوسرے مکان تک پهنچاتے هیں لیکن زمان میں یه خود زمان هے جو اپنی کند اور سریع حرکت کے ذریعے هماری آنکھوں سےپردے کو دور کرتا هے اور لمحہ به لمحه همیں ایک جدید واقعیت سے روبرو کرتا هے ۔
ممکن هے هم نتیجه نمبر 4 کی تعبیر کو بدل کر اس طرح بیان کریں : ماده ایک فعلیت کے پیدا کرنےکے ساتھ امکان کو فعلیت میں بدل دیتا هے۔

حاجی سبزواری24 اسفار کی تعلیقات اور حاشیے میں بعض حکماء سے (میرداماد25) نقل کرتے هیں که زمان اور زمانیات کی نسبت ماوراء زمان موجودات (عالم مجردات) کی طرف بلکل ویسی هے جس طرح کی نسبت هماری مکان اور مکانیات سے هے ۔ وه امور جو زمان کے تسلسل میں متفرق هیں دھری وجود کے اعتبار سے ایک ساتھ هیں؛ انسانوں کی مثال جب زمان کے ظرف میں قرار پاتے هیں تو موجودات فوق زمان کی نسبت اس چیونٹی کی مانند هے جومختلف رنگوں کی لکڑی یا رسی پر حرکت کرتی هے ۔ چیونٹی جب رسی کے هر حصے پر جو خاص رنگ رکھتی هے قرار پاتی هے وجودی محدودیت کی وجه سے دوسرے حصوں کو نهیں دیکھ پاتی اور درک نهیں کرسکتی هے لهذا وه حصے اس کی نسبت مخفی اور معدوم هیں یهاں تک که دوسرے حصے تک جو دوسرا رنگ رکھتا هے پهنچ جائے وهاں پھر وجودی محدودیت کی وجه سے تمام کائنات کو اس حصے کے رنگ میں دیکھتی هے۔ وه رنگ جس سے وه گزر گئی هے اور وه رنگ جس تک اس کو بعد میں پهنچنا هے اس کے لئے معدوم هے۔ لیکن انسان اوپر سے چیونٹی کی تمام حرکت کےتسلسل کو دیکھتا هے اور ان تمام حصوں کوایک ہی وقت میں ایک هی ساتھ مختلف رنگوں میں دیکھتا هے لهذا انسان کے لئے ان حصوں میں سے کوئی بھی معدوم نهیں هے۔ یهی فرق زمان اور دھر میں هے۔ زمانیات کی معدومیت ایک دوسرےکی نسبت نسبی هے۔

گذشته بیان سے ایک اور نتیجه بھی لے سکتے هیں وه یه که “امکان اور فعلیت کے درمیان فاصله تصور نهیں کیا جا سکتا” کیونکه امکان اور فعلیت مجموعاً ایک هی شئ کو تشکیل دیتے هیں اور ایک هی شئ کے درمیان فاصله کا پیدا هونا(خواه وجودی هو یا عدمی) اس کی وحدت اور شخصیت کو ختم کردیتاهے۔

آئنده کا زمان حال میں موجود هونے کے متعلق یه ایک قسم کابیان هے ۔ هم بعد میں اس کے بارے میں گفتگو کریں گے که یه مطلب جو معمولاً عصر حاضر میں“ زمان کاچوتھابُعد(بعد رابع) ”کے عنوان سے تبیین هوتا هے، صحیح نهیں هے۔ البته میرداماد کے نظریے کے متعلق بھی جوکه ایک صحیح نظریه هے گفتگو کریں گے۔ بهر حال اس مقاله میں آئنده کے معدوم نه هونے اور زمان حال میں موجود هونے سے مراد زمان کا بُعد چهارم هونا نهیں هے ۔
دوسرا بیان یه که آئنده حال میں موجود هے لیکن اس معنی میں که حال آئنده کے وجود کے مراتب میں سے ایک مرتبه هے۔ گذشته حال اور آئنده مجموعاً ایک متصل شئ کو تشکیل دیتے هیں بلکل اس اتصال کی مانند هے جو جسم پر حاکم هے۔ یه بات اپنی جگه پر ثابت شده هے که جسم کی حقیقت بُعد اور اتصال هے۔ (اس مطلب کے بارے میں که آیاسائنسی جدیدنظریات اس بحث کے فلسفی اهداف کے ساتھ اختلاف رکھتے هیں یا نهیں عنقریب متن اور حاشیه میں اس سے بحث هو گی) متصل شئ کی خصوصیت یه هے اس کے اجزاء کی کثرت اور تعدد حقیقی نهیں هے بلکه اعتباری هے؛ یعنی ذهن اسے چند اجزاء میں تجزیه کرتا هے اور هر جز کو دوسرے جز سے مختلف اعتبار کرتا هے لیکن واقع اور حقیقت میں نه کوئی جز رکھتا هے اور نه کثرت بلکه ایک هی وجود هے۔
بالقوه اور بالفعل شئ بھی مجموعاً ایک واقعیت کو تشکیل دیتی هی اس فرق کے ساتھ که جسم کے اعضاء ایک دوسرے کے ساتھ تشابه کی نسبت رکھتے هیں لیکن واقعیت کے اجزاء اور مراتب جو بالقوه اور بالفعل سے تشکیل پاتے هیں تشابه کی نسبت نهیں رکھتے اس لئے که ایک ، دوسرے کا بالقوه هے اور دوسرا اس کا بالفعل۔ممکن نهیں که ایک فرد کےبالقوه جز کواس کا بالفعل جز اعتبار کیا جائے۔ (اس تفصیل کے ساتھ جو بعد میں آئےگی)

مثلا سیب کا بیچ جو سیب کی فعلیت کی طرف رواں دواں هے اپنے سفر میں کسی ایسے نقطے یا جگه تک نهیں پهنچے گا جهاں نه سیب کا امکان موجود هے نه اس کی فعلیت؛ بلکه امکان کا پایان اور انجام اس کی فعلیت کا آغاز هے۔ پس سیب کا امکان اور فعلیت مجموعاً ایک متصل شئ کو تشکیل دیتی هیں اور اسی طرح سیب کا بیچ (وه صورت جو اپنے حساب سے سیب کے امکان اور فعلیت کو محفوظ کرتی هے) اور سیب کے امکان کے درمیان کم و بیش وجودی یا عدمی فاصلے کو فرض نهیں کیا جا سکتا کیونکه مذکوره فرض کا لازمه یه هے که ماده بغیر صورت کے وجود میں آئے یه خود محال هے۔

اگر آئنده حال اور گذشته سے جدا اور منقطع هوتا اور ان کے درمیان کثرت واقعی حاکم هوتی تو ممکن نهیں تھا که ان کے درمیان نسبت اور رابطه برقرار هوجائے بنابراین ، گذشته اور آئنده کے درمیان نه صرف فاصله نهیں هے اور واقعی کثرت حاکم نهیں هے بلکه گذشته اور آئنده ایک وجود کے دو مرتبے هیں اور ان کے درمیان واقعی اتحاد حاکم هے۔
پس گذشته اور حال اور حال اور آئنده کے درمیان رابطه اس رابطه کی طرح نهیں هے جو دو جداگانه اشیاء کے درمیان هوتا هے بلکه اس رابطے کی طرح هے جودو شئ کے درمیان هے جو واقع میں ایک شئ هے۔
یهاں پر اس مطلب کی طرف

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی، ترکیب اتحادی Next Entries پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے