پایان نامه ارشد درباره شیخ اشراق

دانلود پایان نامه ارشد

بتدریج اتصال سے انفصال اور وحدت سے کثرت کی طرف تمائل پیدا کیا هے ۔ لهذا جسم ایک متصل شئ نهیں هے بلکه غلیظ توانائیوں کا مجموعه هے۔
اب اس اشکال سے مراد جس کی طرف متن میں اشاره هوا واضح هو جاتا هے که : امکان اور فعلیت میں اتصالی رابطے کا نظریه اور یه که صورتیں وهمی اور خیالی هیں نه حقیقی سائنسی حقائق کے ساتھ سازگار اور مناسبت نهیں رکھتا هے۔
جواب یه هے وه تمام نظریات جن کی اوپر توضیح دی گئی هے صورت جسمیه سے مربوط هیں نه صورت نوعیه یا اعراض سے۔ صورت جسمیه کے باب میں بھی ایسی واقعیت کا وجود جو اپنی ذات میں امتداد، جذابیت اور کشش رکھتی هو وهی واقعیت هے جوخارجی فضا کو وجود میں لاتی هے۔ فضا ، مکان اور ان چیزوں کا موجود هونا جو فضا ، مکان اور ابعاد کا لازمه هیں مانند حرکت مکانی ، قابل انکار نهیں هے۔
بهر حال یه جو کهتے هیں “امکان اور فعلیت کے درمیان کوئی فاصله نهیں هے” اجسام کی وحدت اتصالیه کے مسئلے کے ساتھ کوئی ربط نهیں رکھتا هے۔ جو چیز مسلم هے یه هے که هم خارج میں کچھ واقعیتوں کو بنام انسان، مرغ اور بھیڑ بکریاں وغیره مشاهده کرتے هیں۔ ان میں سےهرایک خارج میں ایک هی واقعیت رکھتی هے خواه ان کے جسم کو تشکیل دینے والے مواد وحدت اتصالی رکھتے هوں یا نه رکھتے هوں یہ واقعیتیں ثابت اور یکساں نہیں ہیں۔ ہمیشہ ان کی حالات اورکیفیات تغیر کی حالت میں ہوتی ہیں ۔ اشیاء همیشه ایک بالقوه حالت سے بالفعل حالت میں بدلتی رهتی هیں اس انداز میں که ان کی جوهری حالت بدل جاتی هے جمادات نباتات بن جاتی هیں اور نباتات حیوان اور حیوانات انسان بن جاتے هیں یا ان کی عرضی حالت بدل جاتی هے جس طرح اشیاء کی کیفیت یا کمیت میں یا کم از کم مکان اور وضعی نسبت میں کچھ تبدیلیاں رونما هوتی هیں۔
چنانچه اگر ہم جسم کو ان مکانوں کے چند مجموعے کے ساتھ فرض کرتےہوئے مفروضه مکانوں کو ترتیب وار ایک دوسرے کے پهلو میں رکھیں تو مفروضه مکانوں میں سے هر ایک پهلے مکان میں موجود امکان کے ذریعے (یه امکان گذشته مکان کی فعلیت یعنی”جسم گذشته مکان میں” جس امکان کا وہ حامل اور بعد کے مکان کے فعلیت کے ساتھ متحدہے اور جسم بھی فرض کے بنا پر مکان سے خالی نهیں هے

گذشته جوهر آئنده جوهر کےساتھ گذشته کیفیت آئنده کیفیت کے ساتھ گذشته مقدار آئنده مقدار کے ساتھ اور گذشته مکانی یا وضعی نسبت آئنده کی مکانی یا وضعی نسبت کے ساتھ متصل هے اور مجموعاً ایک چیز هے۔ جس طرح امکان اور فعلیت ایک فلسفی مسئله هے اسی طرح اتصال اور وحدت کو کشف کرنا بھی فلسفه کی ذمه داری هے نه سائنس کی کیونکه حسی علوم کے لئے اس حریم اورحدودمیں کوئی راه نهیں هے۔
یهاں ایک اور اشکال پیش آتا هے جو کتاب کے متن میں ذکر نهیں ہواهے اور ایک لحاظ سے یه اشکال اهم بھی هے وه یه هے که قوه اور فعل کے تمام مباحث اشیاء کے حدوث و فنا اور موجود و معدوم هونے کی بنیاد پر هے۔ کیونکه قوه اور فعل کا پهلا قدم یه هے که هر حادث کا مقام اور مرتبه اس کے امکان اور استعدادکےبعد هے پس خود حدوث مسلم اورقطعی فرض کیا گیا هے- حدوث یعنی عدم کے بعد وجود- پس ضروری هے اس طرح فرض کریں که اشیاء پهلے نهیں تھیں اور بعد میں وجود میں آئیں هیں اورآئیں گی اسی طرح یه سلسله همیشه چلتا رهے گا۔ لیکن آج کی سائنسی تحقیقات خصوصاً کیمسٹری نے ثابت کیا هے که کوئی بھی موجود معدوم نهیں هوسکتا اور کوئی بھی معدوم موجود نهیں هو سکتا۔ اگر ایسا هو تو حدوث ، امکان اور فعلیت نامی کوئی شئ موجود نہیں ہوگی تاکه امکان اور فعلیت کی اتصال اور انفصال کی بحث چھڑ جائے۔
جواب یه هے که اگر هم فلسفی دیدگاه سے دیکھیں تو مذکوره بیان مغالطه کے سوا کچھ بھی نهیں هے۔ یه جو کهتے هیں که موجود معدوم نهیں هو سکتا فلسفی نقطهنظر سے ایک صحیح مفهوم رکھتا هے اور ایک غلط مفهوم۔ صحیح فلسفی مفهوم مقاله نمبر 1 میں بیان هوا هے اور وه مفهوم اشیاء کے حدوث اور فنا کے ساتھ منافات نهیں رکھتا۔

اور مکان کی فعلیت بھی امکان اور قوه سے خالی نهیں هے) اس پهلے والے مکان کے ساتھ اتصال پیدا کرےگا

لیکن غلط مفهوم یه هے که هم گمان کریں که جو چیزهے وه همیشه سے هے اور همیشه رهے گی۔ جدید سائنس اس بات کی تائید نهیں کرتی اور یهی غلط مفهوم هے جو اصل حدوث اور اصل قوه و فعل کا ضد هے۔جو چیز اس گمان کا سبب بنی که جدید سائنس معدوم کے موجود اور موجود کے معدوم هونے کا منکر هے ، یه هے که اٹھارویں قرن میں معروف کیمیاگر لاوازئر29 تجربوں کے ایک سلسلے کے بعد اس نتیجے تک پهنچتا ہےکه کائنات میں موجود اجسام ثابت وضع اور حالت رکھتے هیں اور ان میں کمی بیشی نهیں هوتی یعنی جب لکڑی کو جلایا جاتا هے تو اس سے تھوڑی سی راکھ باقی رہ جاتی هےاور ایسا لگتا هے که لکڑی نهیں هے اور معدوم هوگئی هے درحقیقت ایسا نهیں هے وه تمام مواد جس نے لکڑی کو وجود میں لائے تھے کهیں نهیں گئے هیں صرف اپنی صورت اور جگه بدل دئے هیں۔کائنات کی تمام جسمی اور کیمیائی تغیرات اور تبدیلیوں کی حقیقت، ایک صورت سے دوسری صورت میں بدلنا هے ۔پس نیستی کے بعد موجود هونا اور موجود هونے کے بعد معدوم هونا دوسرے لفظوں میں حدوث و فنا نام کی کوئی چیز نهیں هے۔بعد میں اس نظریے کی تکمیل اور اصلاح هوئی اور معلوم هوا که کائنات کے تمام اجسام کبھی توانائی کی صورت اختیار کرتے هیں جیسے جیسے یه توانائی بڑھتی جاتی هے جسم کی حالت اختیار کرتی هیں اسی طرح ثابت هوا که تمام مواد اور توانائیاں ثابت اور یکساں حالت رکھتی ہیں اور کسی قسم که کمی بیشی نهیں هوتی۔
اولاً: جو چیز مجھے ابھی تک مجهول ره گئی هے یه هے که کهتے هیں که قدماء کی نگاه میں کائنات میں پیش آنے والی تحولات کے دوران کچھ اشیاء معدوم هوتی هیں اور کچھ موجود یه مطلب اجمالا صحیح هے لیکن ابھی تک فلاسفرز کی گفتگو میں یه بات دیکھنے میں نهیں آئی هےکه اشیاء کےحدوث اور فنا کو اس کی صورت جسمیه کے میزان اور مقدار کی جهت سےاوراس چیز کی جهت سے جو اجسام کے وزن کا مبداء اور منشاء هے مورد بحث قرار دیا هو ۔ قدماء کی نظر اشیاء کی صورت نوعیه کی طرف هے جو اس کی حقیقت اور نوعیت شمار هوتی هے یا اشیاء کی کیفی، مقداری، وضعی، مکانی اور نسبی اعراض کی طرف هے۔
اور مجموعاً ایک اکائی کو تشکیل دے گا ایک ایسی اکائی جس کا ایک سرا دوسرے سرے سے مختلف هے اور ایک دوسرے کا غیر هے۔(1)

ثانیاً: فرض کریں لاوازئر کا نظریه کائنات کے اجسام کے حوالے سے ایک جدید نظریه هے جو زیاده سے زیاده یه ثابت کرتا هے که کائنات کی عمارت کی پهلی اینٹ کے ذرات اور اجرام همیشه کے لئے ایک هی حالت میں باقی رہتے هیں ۔ کائنات کی باقی تمام شکل اور بناوٹ کے بارے میں کیا کهیں گے؟ آیا کهه سکتے هیں که اشیاءکی ہستی اور اس کی کامل شکل اور بناوٹ اجرام اور ذرات کا حکم رکھتی هے جو اشیاء کی عمارت کا ماده اور مرکز کو تشکیل دیتے هیں؟ مگر یه که هم کهیں جهان هستی ان اجرام کے علاوه کوئی اور شکل اور بناوٹ نهیں رکھتی ہے۔
حقیقت یه هے که کائنات میں ایک ایسا نظریه بھی پیدا هوا جودنیا کو ایک مشینی دیدگاه سے دیکھتا تھا اور گمان کرتا تھا اشیاءکی هستی اور اس کی شکل و بناوٹ سے مراد ابتدائی ذرات اور اجرام کے علاوه ان کے درمیان ایک مشینی رابطه هے۔ آج کی دنیا میں اس نظریه کے حامی بهت کم هیں اور هم آئنده کی بحثوں میں اپنے فکری اور فلسفی اصول کی رو سے اس کے بطلان کو ثابت کریں گے۔
(1) ساده ترین اور واضح ترین حادثه جسے هم مشاهده اور محسوس کرتے هیں اور ناقابل انکار هے حرکت مکانی هے۔ یعنی جسم کا ایک جگه سے دوسری جگه منتقل هونا ۔
مکان کی حقیقت کے متعلق دو بنیادی نظریے هیں :
1 – بعض معتقد هیں که مکان جسم سے جدا ایک ثابت اور ناقابل تغییرحقیقت هے ۔ یه وهی حقیقت هے جو فضا کو تشکیل دیتی هے جس میں اجسام غوطه ور هیں۔ اور هر جسم اپنی جسامت کے حساب سے فضا کا ایک حصه گھیر لیتا هے اور حرکت کے ذریعے اس حصے کو چھوڑ کر دوسرے حصے کو گھیر لیتا هے۔

یعنی یه اکائی ایک ایسا امتداد اور تقسیم رکھتی هے جس کے ذریعے پهلا جزء بعد کے جزء کا امکان رکھتا هے فعلیت نهیں رکھتایعنی اس اکائی میں بعد کا جز پهلے جز ءکے همراه نهیں هے۔

اگر فرض کریں ایک محدود جسم کے علاوه کوئی بھی جسم وجود نه رکھتا هو یعنی فرض کریں که کائنات کے تمام اجسام معدوم هوجائیں اور صرف ایک جسم باقی ره جائے تواس جسم کے لئے مکان کی جهت سے حرکت ممکن هے کیونکه ممکن هے فضا کے جس حصے کو اس نے گھیرا هے چھوڑ کر کسی دوسرے حصے کی طرف منتقل هوجائے ۔ ( اس بات سے قطع نظر کرتے هوئے که خلا اور خلا میں حرکت محال ہے یا نہیں)
2 – فضا اور مکان اجسام سے جداگانه وجود نهیں رکھتے هیں ۔ هر جسم اپنی جسامت کے حساب سے فضا کے ایک حصے کوتشکیل اور وجود میں لاتاهے ۔ کیونکه اجسام ایک دوسرے کے نزدیک، ایک دوسرے پر احاطه اور تسلط رکھتے هیں۔ خواستهیاناخواسته ان کے درمیان دوری اور نزدیکی، وصل و فصل اور محیط اور محاط وغیره کی نسبت هوتی هے ۔ جسم ساکن هو یا متحرک دوسرے اجسام کے ساتھ ایک قسم کی نسبت رکھتا هے۔ سکون کی صورت میں وه نسبت ثابت اورحرکت یا متحرک کی صورت میں وه نسبت متغیر هے۔ اس نظریے کے مطابق حرکت مکانی سے مراد اس نسبت کا پے در پے تغییر هونا هے ۔
اسلامی فلسفه کی کتابوں میں نظریه اول کی نسبت اشراقی اور دوم کی نسبت مشائی فلاسفرز کی طرف دی گئی هے لیکن ظاهرا اس نسبت کا منشاء شیخ اشراق هے۔ٖ“بعد مجرد” یا“فضا مجرد” کا نظریه بھی ظاهراً شیخ اشراق نے دیا ہے۔ان کے دیگر بهت سارے نظریوں کی طرح اس نظریه کو بھی اس طرح فرض کیا گیا هےکه یه نظریه انهوں نے افلاطون30 سے اقتباس کیا هے۔

یعنی باوجود اس کے که تمام اجزاء مل کر ایک اکائی کو تشکیل دیتے هیں بعد کے جز ءکے نه هونے کو پهلے جزء سے اخذ کرتے هیں۔

لیکن هم نے کسی اور جگه پر ثابت کیا هے که یه نظریات افلاطون سے کوئی ربط نهیں رکھتا هے۔اتفاق سے اس نظریے کے بارے میں بو علی سینا نے الهیات شفا میں مُثل افلاطونی سے مربوط بحث میں تصریح کی هے که افلاطون فضا مجرد کے منکر تھے ۔ بهر حال “بعد مجرد” کے نظریے کے مطابق جب جسم حرکت کرتا هے اور دوسرے مکان کی طرف منتقل هوتا هے تو واقعا فضا کے ایک حصے کو چھوڑ دیتا هےاور دوسرے حصے کو گھیر لیتا هے، لیکن دوسرے نظریے کے مطابق حرکت کے وقت متحرک، عین فضا هے اور جس میں حرکت واقع هو رهی هے وهی نسبتیں هیں جو بیان هوئیں۔
اس نظریے کے مطابق اگر تمام اجسام معدوم هوجائیں اور صرف ایک جسم باقی ره جائے تو اس کے لئے ایک جگه سے دوسری جگه حرکت کرنا ممکن نهیں هے یعنی کوئی مکان موجود نهیں رهتا جس میں وه حرکت کرے۔هم خواه فضا کو جسم سے مجرد مانیں یا نه مانیں۔ جب جسم حرکت کرتا هے مذکوره نسبتیں تغییر کرتی هیں۔ یعنی نسبتوں کے تغییر کرنے میں کوئی اختلاف نهیں هے اسی کو متن میں مسلم اورمفروضه قرار دیا گیا هے۔ بهر حال مکان کی هم جس طرح سے بھی تفسیر کریں جسم حرکت کرتے وقت ایک مکان کو چھوڑ دیتا هے اور دوسرے لمحے میں دوسرے مکان کو گھیرلیتا هے جهاں وه پهلے نهیں تھا اور بعد کے لمحے میں اس مکان کو بھی چھوڑتا هے اور ایک جدید مکان کو گھیر تا هے۔ ان مکانوں میں سے هر ایک کو گھیرنا ایک ایسا عمل هے جس کا وجود اس مکان کے گھیرنے سے پهلے نهیں تھا اس مکان کے گھیر نے کے بعد وجود میں آیا هے۔ جگه گھیرنے سے پهلے اس کا امکان موجودتھا لیکن جگه گھیرنے کے بعد وه امکان فعلیت میں بدل جاتا هے۔یهی صورت حال ان تمام مراحل میں بھی هے جن میں جسم حرکت کرتا هے اور ایک فاصلے کو طے کرتا هے۔ هم نے پهلے ثابت کیا هے که هر امکان اس فعلیت کے ساتھ جو اس امکان کا حامل هے متحد هے۔ حامل اور محمول دو جداگانه امر نهیں هے۔ اسی طرح یه بھی ثابت هوا که هر امکان فعلیت بعدی کےساتھ ایک متصل شئ کو تشکیل دیتا هے یعنی پهلے کا امکان اور بعد کی فعلیت دو جداگانه امر نهیں هے۔

جب ہم مذکورہ تمام مکانوں کی نسبت اس نقطه نظر

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی، ترکیب اتحادی Next Entries پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے