پایان نامه ارشد درباره شیخ اشراق، وحدت وجود، امکان استعدادی، حقیقت وجود

دانلود پایان نامه ارشد

خارجي اجزاء ؛ اس معني ميں که هر جسم خارج ميں دو واقعي جز تک منتهي نهيں هوتا هے که ان ميں سے ايک صرف ماده هو جو اپني ذات ميں کسي بھي صورت سے خالي هے اور دوسرا صورت ؛ بلکه جس طرح زمان اور حرکت کے اجزاء اور جسماني بعد لامتناهي اور بے نهايت چھوٹےاجزاءمیں تقسيم هونے کی قابلیت رکھتے هیں ۔ اسي طرح جوهر جسمانی کی حقيقت بھي قوه اور فعل کي طرف بے نهايت ذهني تقسيم کی قابلیت رکھتی هے۔جسم کي يه خاصيت اس وجه سے پيدا هوئي هے که حرکت جوهر جسمانی کے وجود کو قوام بخشتي هے۔
جسم کا ماده اور صورت سے مرکب هونے اور نه هونے اور مرکب هونے کے فرض کی بناء پر اس ترکيب کي کيفيت کیاهے؟ آيایه ترکیب اتحادي هے يا انضمامي؟ايک لمبي گفتگو هے جس کے متعلق بهت سارے فلسفی اشکالات اور اعتراضات کئے هيں ۔ لهذا هم اس بحث ميں پڑنا نهيں چاهتے هيں۔
لیکن قوه اور استعداد کی اعتباري هونے کا نظريه ، يهاں بحث نسبتا اهميت کا حامل هے که استعداد يا امکانِ استعدادي ايک وجودي امر يا ايک موجوده حقيقت نهيں هو سکتی هے بلکه ضروري هے که صرف ايک اخذي اور اعتباري مفهوم رکھتی هواس بيان کے ساتھ:
گذشته بيان کي روشني ميں کسي بھي حادث اور جديد وجود کيلئے بغير استثني کے پهلے قوه اور استعداد کا هونا ضروری هے۔ لہذاخود قوه اور استعداد ايک موجود يا حادث نهيں هو سکتی کيونکه لازم آتا هے که وه خود بھي اس قانون ميں شامل هو يعني لازم آتا هے که کسي بھي استعداد کے موجود هونے کيلئے پهلے کوئي اور استعداد هو اور وه استعداد بھي اپنے سے پهلے ايک استعداد رکھتی هو اسي طرح يه سلسله بے نهايت چلتا رهے۔ پس اگر انسان موجود هونا چاهے تو ضروري هے که بے نهايت استعداد رکھتا هو۔ ان ميں سے ايک خود انسان هونے کي استعداد هے اور اگر وه استعداد امر موجود هو تو لازم آتا هے که اس کے لئے بھی ایک استعداد هو اسی طرح اگر وه استعداد بھی واقعیتِ موجود هو تو ضروری هے که اس کے لئے بھی ایک استعداد هو۔ اس طرح سلسله بڑھتا حائے گا اور کسی نقطے پر اختتام پذیر نهیں هو گا۔ علاوه براین ان استعدادوں ميں سے هر ايک کے لئے ايک مخصوص “حامل” کا هونا ضروری هے حالانکه هم بدیہی طورپرجانتے هيں که کوئی بھی موجود مانند انسان اور درخت وغيره بے نهايت استعداد نهيں رکھتا هے۔
شيخ اشراق نے ان امور کے اعتباري هونے پر ايک کلي قاعدے کو ذکر کیاهے: “هر وه چيز جس کے موجود هونے سے اس کا وجود تکرار هونا لازم آئے وه اعتباري امر هے ”۔ شيخ اشراق کے عقيدے کے مطابق مثلاً وحدت ايک اعتباري امر هے؛ يعني وه اشياء جو وحدت کي صفت کا حامل هيں حقيقت رکھتي هيں ليکن خود وحدت ایک اعتباري اور اخذي امرهے؛ کيونکه اگر وحدت وجود رکھتی هو تو ضروري هے که یا واحد هو یاکثير؛ اگر وحدت واحد هو يعني صفت وحدت کا حامل هو تو ضروري هے که اس وحدت کي وحدت بھي موجود هو۔ پس يهاں پر دو وحدت موجود هيں؛ ايک اس مورد نظر شئ کي وحدت دوسری اس شئ کي وحدت کي وحدت ۔ گفتگو اس شئ کي وحدت کي وحدت کی طرف منتقل هوگی وه وحدت بھي همارے فرض کے مطابق موجود اور واحد هے۔ پس وه بھی کوئي وحدت رکھتي هے۔ فرض کي بنا پر هر وحدت وجود رکھتي هے۔ اس وحدت کي وحدت بھي وجود رکھتي هے۔ اسي طرح يه سلسله بے نهايت چلتا رهے گا۔ ليکن اگر فرض کريں که خود وحدت واحد نهيں ہے بلکه کثير هے تو اشکالات اور اعتراضات میں مزید اضافه هوگا ؛ کيونکه اولاً بديهي کے خلاف هے ثانيا هر کثير، چند واحد کا مجموعه هے۔ پس وحدت کے وجود سے چند واحد کا وجود لازم آتا هے ۔ پھر ان واحدوں ميں سے هر ايک وحدت رکھتا هے اور هر وحدت کثير اور چند واحدوں کا مجموعه هے۔ پس ان واحدوں ميں سے هر ايک کے وجود سے چند واحد کا وجود لازم آتا هے۔ اسي طرح سلسله بے نهايت چلتا رهے گااور بے نهايت اور لامتناهي سلسلے وجود ميں آئیں گے۔پس وحدت ان امور ميں سے هے جس کے وجود سے اس کا تکرارهونا لازم آتا هے؛ چونکه اس کا تکرار محال هے پس وحدت کا وجود بھي محال هے۔ پس وحدت ايک اعتباري امر هے۔
شيخ اشراق18 اسي دليل کي بنياد پر وجود کو بھي اعتباري امرگردانتا اور مدعي هے که وجود کا موجود هونےسےهر شئ کے وجود میں بے نهايت تکرار لازم آتا هے جو که محال هے ۔ اب جبکه یه کلی قاعده واضح هوگیا تو کهیں گے که استعداد کا موجود هونا بھی استعدادی وجود کے تکرار کا لازمه هے اور چونکه وجود کا تکرار جیسا که بیان هوا محال هے پس استعداد اور امکان استعدادی بھی موجود نهیں هے اور ایک اعتباری امر هے۔
جواب یه هے که هم شیخ اشراق کے اس کلی قاعده کو اسی کلی شکل میں قبول کریں گے یعنی اگر فرض کریں کسی چیز کے وجود سے اس کا تکرار لازم آئے تو وه چیز حقیقی موجود نهیں هو سکتی لیکن جیسا که صدرالمتالهین نے تحقیق کی هے وجود اور وحدت جیسی چیزوں کے حقیقی هونے سے تکرار لازم نهیں آتا هے۔ شیخ اشراق نے گمان کیا هے که هر موجود کا ماهیات کی سنخ سے هونا ضروری هےیعنی اس کا وجود اپنی ذاتی نهیں هو بلکه غیر کی طرف سے عطا شده هے ۔ حالانکه ممکن هے که کسی چیز کے وجود اور اس کی ذات میں عینیت برقرار هو اور مذکوره اشکال وارد نه هو ۔وجود اور اس کی حالات مانند وحدت، کثرت، تقدم، تاخر، قدم و حدوث اور قوه و فعل کا تعلق بھی اسی سنخ سے هے ۔یه چیزیں موجود هیں اس معنی میں که یا عین حقیقت وجود هیں یا وجود کے مراتب میں سے ایک مرتبه هیں۔ نه اس معنی میں که ان کا تعلق سنخ ماهیت سے هے اور وجود ان پر عارض هوا هو۔
جیساکه مقاله نمبر 9 میں بیان هوا ماده کسی صورت کے رکھنے کے ساتھ دوباره اسی صورت کو قبول نهیں کرسکتا (تحصیل حاصل محال هے) اس بات کا بیان ضروری هے که یه وجودی نسبت یا صفت ایک مطلوب شکل یا صورت پیدا کرنے تک اپنے وجود کو جاری رکھتی هے اور اس مطلوب شکل و صورت کے حاصل هونے کے بعد اس کا امکان ختم هوجاتا هے؛ کیونکه کسی صورت کے هونے کے ساتھ اس صورت کا طلب اور قبول کرنا معنی نهیں رکھتا ۔
مثلا سیب سیب هونے کے بعد دوباره سیب نهیں بن سکتا مگر یه که موجوده سیب اپنی صورت کو کھو دے اور دوباره ارتقائی حرکت کے ذریعے سیب کی صورت حاصل کرے۔(1)

قوه اور استعداد کو امر وجودی کهنا اس معنی میں هے که قوه اور استعداد مستعد کے وجودسے خارج نهیں هیں اور ماده کے ایک خاص مرحله اور مرتبه سے اخذ هوتے هیں نه اس معنی میں که استعداد ایک صفت هے جو ماده پر عارض اور اس سےملحق هوتی هے جس طرح رنگ، بو، حالت اورمحاذات (عوارض) جو جسم پر عارض هوتے هیں۔یهاں سے معلوم هوتا هے که قوه اور استعداد کے بارے میں فلاسفرز نے جو بحثیں کی هیں که آیا یه مقوله کیف میں سے هے یا اضافه یا کسی دوسرے مقولے سے اس کا تعلق هے ، کس قدر بے جا اور نادرست هے ؛ کیونکه قوه اور فعلیت مقولات کے باب میں داخل هی نهیں هے تاکه یه بحث پیش آئے ۔ زیاده سے زیاده یه کهہ سکتے هیں که استعداد اور ماده کی نسبت جسم تعلیمی اور جسم طبیعی کےدرمیان موجود نسبت کی مانند هے یعنی مبهم اور لامتعین کی نسبت متعین کےساتھ۔ جیساکه هم جانتے هیں که مبهم اور متعین خارج میں ایک هیں اور ان دونوں کا اختلاف ذهنی اعتبار سے هے اورهر متعین مبهم کا تحلیلی عارض هے نه خارجی عارض لیکن فلاسفرز جب قوه اور استعداد کی ماهیت سے بحث کرتے هیں تو ایسا محسوس هوتا هے گویا وه لوگ عرض خارجی کے بارے میں بحث کررہےهیں۔
(1) گذشته گفتگو سے ثابت هوا که همیشه هر چیز کےوجود سے پهلے اس کا امکان موجود هوتا هےجس طرح تعین کا وجود متعین کے ضمن میں هوتا هے ۔ اب ضروری هے که هم جان لیں که امکان کب تک اپنے وجود کو دوام دیتا هے۔ آیا اس چیز کے موجود هونے اور فعلیت تک پهنچنے کے بعد بھی امکان اور استعداد باقی رهتی هے یا نهیں؟

هم اس وجودی صفت کو “قوه “اور بعد میں آنے والی وجودی صورت کو “فعل” نام رکھتے هیں۔کبھی ان دو ناموں(قوه اور فعل) کی جگه لفظ امکان اور فعلیت کو بھی بروئے کار لایا جاتا هے، مثلا جب هم کهتے هیں بیچ درخت کی صلاحیت(قوه) اور امکان رکھتا هے اس کا مطلب یه هے که درخت فعلیت تک پهنچنے کے بعد یعنی درخت بننے کے بعد اس میں موجود قوه ختم هوجاتی هے یا امکان، فعلیت میں بدل جاتی هے۔ اسی طرح یه بھی بدیهی هے که درخت کی حتمی شکل معرض وجودمیں آنے کے بعد جس طرح درخت درخت بننے کا امکان ختم هوجاتا هے اسی طرح بیچ کی صورت جس کے همراه درخت بننے کی “قوه”موجود هوتی هےنیز ختم هوجاتی هے۔(1)

مذکوره بالا سوال کا جواب نفی میں هے کیونکه حقیقت میں کسی چیز کی فعلیت کا آغاز اس کے قوه اور استعداد کا انجام اور اختتام هوتاهے۔ بدیهی هے که اگر فرض کریں که فعلیت میں آنے کے بعد بھی اس فعلیت کی قوه اور استعداد باقی رهے تو لازم آتا هے که استعداد کسی حاصل شده چیز کی استعداد هو اور چونکه حاصل شده چیز کا حاصل کرنا محال هے لهذا اس کے استعداد کا باقی رهنا بھی محال هے۔ پس کسی چیز کے فعلیت تک پهنچنے کے بعد اس کی استعداد اور امکان ختم هوجاتا هے ۔ لیکن کیسے یه امکان ختم هوتا هے ، آیا ایسا هے که ایک موجود ختم هوجائے اور کوئی اور موجود اس کی جگه لے لےیا کچھ اور هے؟ یه ایک ایسا مطلب هے جس کےبارے میں متن میں توضیح دی جائیگی۔
(1) ایک اور بات جس کا واضح هونا ضروری هے یه هے که جس طرح “فعلیت” میں آنے کے بعد اس کا “امکان”ختم هوجاتا هے، اسی طرح اس کی پهلی صورت (جوامکان کے ساتھ تھی )بھی ختم هوجاتی هے یا نهیں ؟

گذشته بیان سے هم مندرجه ذیل تنائج لے سکتے هیں:
1 – “قوه” اور “امکان”کے نام سے ایک وجودی نسبت موجود هے ۔19

مثلا آیا انسانیت کا امکان جو نطفه میں موجود تھا انسانیت کے فعلیت میں آنے کے بعد ختم هوجاتا هے اسی طرح نطفه کی خاص صورت جو کچھ خاص آثار کا سرچشمه تھی، بھی ختم هوجاتی هے یا نهیں؟البته پهلے والی صورت سے مراد پهلے والی شکل اور هیئت نهیں هے بلکه اس سے مراد ایک خاص فعلیت هے جو اس شئ کے آثار کامنبع، شئ کی ذات کو وجود میں لانے اور دوسری اشیاء سے تشخیص دینے کا باعث بنتی هے۔اس بات میں کسی شک و شبه کی گنجایش نهیں هے که گذشته بعینه (100%)آئنده میں موجود نهیں هے۔ مسلماً نطفه جو که انسان بن گیا هے ابھی نطفه کی حالت میں نهیں هے اور اپنے آثار کے کچھ حصے کو کھو چکا هے ۔ انڈا چوزا بننے کے بعد اپنی پهلی حالت اور کچھ آثار کو کھو چکا هے۔اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شک نهیں هے که گذشته 100% آئنده میں معدوم نهیں هوتا اور گذشته کا کچھ حصه آئنده میں باقی رهتا هے۔ جو چیز گذشته اور آئنده میں باقی رهتی هے اور مختلف شکلوں کو قبول کرتی هے فلاسفرز کی اصطلاح میں اسے ماده کهتے هیں جو که مختلف صورتوں کی استعداد رکھتا هے۔

– قوه اور امکان کسی فعلیت کا محتاج هے جو انهیں محفوظ رکھ سکے چنانچہ ایسی فعلیت کا تقاضا کرتے

بحث اس میں هے که آیا بعد کی صورت آنے کے بعد پهلی صورت ختم هوجاتی هے یا نهیں؟ اس میں بھی کوئی اختلاف نهیں هے کیونکه بعد والی صورت آنے کے بعد پهلی صورت اپنی شان اور مقام کو بعنوان صورت اور کسی چیز کی حقیقت اور ماهیت کا معرّف هونے کی حیثیت سے محفوظ نهیں رکھ سکتی۔اس کی وجه یه هے که اگر پهلی صورت اپنا پهلے والا مقام محفوظ رکھے تو لازم آتا هے که ایک هی شئ ایک هی وقت میں دو جداگانه ماهیت رکھتی هو۔لیکن یه دیکھنا ضروری هے که آیا پهلی صورت جو که اپنے مقام سے معزول هوتی هے اور بعد کی صورت اس کی جگه لیتی هے کلی طور پر معدوم هوجاتی هے اور جدید صورت مکمل طور پر جدید صورت هے یا صرف اپنے مقام سے معزول هوتی هے لیکن معدوم اور ختم نهیں هوتی بلکه شئ کے مادے کا جز بن جاتی هے؟
یهاں پر دو نظریے هیں: قدماء مانند ابن سینا20 کا معروف نظریه یه هے که پهلی صورت کلی طور پر معدوم هوجاتی هے۔ مثلا نطفه جب حیوان بن جاتا هے تو اس صورت اور فعلیت کو جو نطفه هونے کا معیار اور ملاک تھا کھودیتاهے اور مکمل طور ایک جدید صورت کو مادے کے لئے عطا کرتا هے۔ جو چیز طبیعت میں رونما هوتی هے “خلع اور لبس”(اتارنا اور پهننا) هے؛ یعنی ماده ایک لباس کو اتار کر دوسرے لباس کو جو

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره شهید مطهری، امام خمینی، علامه طباطبائی، انقلاب اسلامی Next Entries پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی، ترکیب اتحادی