پایان نامه ارشد درباره شهید مطهری، امام خمینی، علامه طباطبائی، انقلاب اسلامی

دانلود پایان نامه ارشد

ی بحث اس قدر جالب هوتی تھی که علامه دقت سے سنتے تھے اور ان کی گفتگو سے جوم اٹھتے تھے۔ شهید مطهری کبھی علامه کے مطالب کو جدید پیرائے میں بیان کرتے تھے جوباعث بنتی تھی که اس میں حاضر دوسرے حضرات دقت سے سنیں۔7
علمی اور تبلیغی فعالیتیں
حوزه علمیه میں طالب علمی کے آغاز سے هی ان کی تبلیغی فعالیتوں کا آغاز هوتا هے ۔ آپ کے بھائی کے مطابق 1322ه۔ش (1943ء) میں شهید مطهری نذر کرتے هیں که اگر خدا نے توفیق دی تو بغیر کسی رقم کے وه دین کی تبلیغ کرے گا۔ اسی سال کچھ رقم مل جاتی هے جس کی وجه سے وه تبلیغ کے لئے دیهاتوں میں چلے جاتے هیں ۔ 5 سال کی مدت تک اراک، همدان اور نجف آباد میں دین اسلام کی تبلیغ کے لئے سفر کرتے رهے۔ قم میں ان کی پهلی تقریر ایام فاطمیه کے حوالے سےتھی اسی طرح ایک عشره حضرت محمد (کی بعث اور رسالت کے بارے میں تھا جسے لوگوں نےکافی پسند کیا۔
آیت الله بروجردی کے قم آنے کے بعد شیراز سے ان کو رپورٹ ملتی هے که شیخ محمد اخباری نامی کسی شخص نے آباده شیراز میں اخباریوں کی تبلیغ شروع کی هے ۔ شهید مطهری جو اخباریوں کے سخت مخالف تھے اور ان کو متحجر جانتے تھے ، آباده میں جاکر 15 دن تقریریں کرکے اس شخص کے باطل افکار کے منفی اثرات کو ختم کرتے هیں۔8
شهید مطهری حوزه میں تحصیل کے دوران تبلیغی فعالیتوں کے علاوه ادبیات ، فلسفه(شرح منظومه) ، منطق(شرح مطالع)، کلام(شرح تجرید)، مکاسب اور کفایه پڑھاتے تھے ۔ اس دوران تحصیل و تدریس کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات جیسے جدلیاتی ماده پرستی کا مطالعه فرماتے تھے ۔9
ازدواجی زندگی
شهید مطهری 1329ه۔ش (1950ء) میں خراسان کے ایک عالم دین کی بیٹی سے شادی کرتے هیں۔ جس کے نتیجے میں 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں متولد هوتیں هیں۔ ان کے بیٹوں میں علی مطهری دو بار ایرانی پارلمنٹ میں تهران کا نمائنده رها هے جبکه محمد مطهری نےدینی طالب علم هونے کے ساتھ ساتھ کینڈا سے فلسفه میں پی ایج ڈی کیا هے اوراب تک اجتماعی اور ثقافتی موضوعات پر مختلف مقالات لکھ چکے هیں۔
کتاب حاضر کا درس
1329ه۔ش (1950ء) میں علامه طباطبائی جدید مسائل کی خصوصی کلاسیں شروع کرتے هیں10۔ ان کی کلاسوں نے بعد میں “اصول فلسفه و روش رئالیسم” نامی کتاب کی شکل اختیار کی جو شهید مطهری کی فکری محوریت میں تالیف هوئی هے۔ان کلاسوں کے بارے میں چند اقوال هیں، آیت الله سبحانی فرماتے هیں که 1329ه۔ش (1950ء) کو امریکی سفارت خانے کی طرف سے “نگهبان سحر و افسون” نامی ایک کتاب شایع هوتی هے۔ یه کتاب جدلیاتی ماده پرستی کی بنیاد پر لکھی گئی تھی جس میں دین کو استعمار کا عامل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت موجب بنی که علامه طباطبائی جمعرات اور جمعه کو اس کتاب میں پیش هونے والے شبهات کا جواب دینے کے لئے کلاسیں برگزار کریں۔ایک اور قول کی بنا پر ائمه علیهم السلام کے دور کے ملحدوں کے نظریات کی بررسی کے لئے ایک جلسه منعقد هوتا تھا ۔ علامه کے کسی شاگرد نے علامه کو ان جلسات کے بارے میں بتایا اورآپ سے ان جلسات میں اس موضوع کے حوالے سے درس دینے کی خواهش ظاهر کی جسے علامه نے قبول کیا۔ یه جلسات خود علامه کے گھر پر منعقد هوتے تھے۔ آگے جاکر ان کلاسوں میں موضوع بحث بالکل تبدیل هوا یعنی ملحدوں کے مقابلے میں ائمه کے اقوال کی بررسی کے بجائے ماده پرستوں خصوصا جدلیاتی ماده پرستوں کے شبهات کا جواب دینا شروع کیا ۔ کچھ مدت بعد یه ابحاث علامه کے توسط سے 14 مقالوں کی شکل میں مرتب هوئیں اور شهید مطهری نے مرور زمان کے ساتھ اپنے حاشیوں کے ذریعے کتاب کو تکمیل کیا۔ان دروس میں شرکت کرنے والے دوسرے افراد میں آیت الله حسن زاده آملی، آیت الله جوادی آملی، صانعی زنجانی، شیخ عباس یزدی، عباس ابوترابی، سید محمد خامنهای، سید محمد حسین بهشتی،آیت الله ابراهیم امینی، ابراهیم خسروشاهی، امام موسی صدر، آیت الله جزائری اور آیت الله قدوسی شامل هیں۔11
یونیورسٹی میں معلمی
1333ه۔ش (1954ء) کو معقولات اور منقولات کالج کے پرنسپل نے فیصله کیا که ان دروس کو پڑھانے کے حوالے سے کچھ علماء سے کام لیا جائے۔ آئین کے مطابق ڈگری نه رکھنے والے حضرات کو چائیے تھا که کچھ امتحانات میں حصه لیں۔ شهید مطهری خود امتحانات میں شامل هونا نهیں چاهتے تھے لیکن بھائی کے کهنے پر امتحانات میں شامل هوگئے۔ٹسٹ میں پاس هونے کے بعد انٹرویو کے لئے بلایا گیا۔ انٹرویو کے لئے تین اساتید جنابان حسین علی راشد، سبزواری اور جواد تارا مقررهوئے تھے ۔ مرحوم راشد نے کتاب منظومه کے ایک صفحه کو کھول کر شهید مطهری سے ترجمه اور تشریح کرنے کی درخواست کی تو شهید نے منظومه کے مطالب کو کتاب اشارات اور اسفار کی روشنی میں تشریح کیا ۔ مرحوم راشد جو که شهید کی علمی قابلیت کے معترف هوگئے تھے کهنے لگے تھوڑی دیر صبر کریں همارے پاس 20 سے زیاده نمبر نهیں هیں یه کهه کر 20نمبر دیتے هوئے شهید مطهری سے درخواست کرتے هیں که مطالب کو جاری رکھیں تاکه هم آپ سے استفاده کریں۔اس طرح شهید مطهری مهر ماه کی تیسری تاریخ 1334 ه۔ش(15ستمبر1955ء) کو اس یونیورسٹی میں معقولات اور منقولات کے استاد کے طور پر مشغول هوگئے۔12
ثقافتی فعالیتیں
قم سے تهران جانے کے بعد شهید بهت سارے ثقافتی کاموں میں مشغول هوتے هیں۔ یونیورسٹی اور مدرسه مروی میں تدریس کے علاوه بعض جرائد جیسے مکتب تشیع اور مکتب اسلام کے ساتھ تعاون کرنا شروع کرتے هیں۔ 1336ه۔ش(1957ء) میں مکتب تشیع کی تاسیس کے ذریعے اس میں کام کرنے والوں کی فکری تربیت کرنا شروع کرتے هیں اور ساتھ ساتھ روح کی اصلیت ، قرآن اور حیات ،توحید اور تکامل جیسے موضوعات پر اسی جریدے میں مضامین شایع کرتے هیں۔ 1337ه۔ش(1958ء) سے جب مکتب اسلام نامی حریده شائع هونا شروع هوا تو اس مجله کے بورڈ آف رایٹرز کے ساتھ تعاون شروع کیا اور نهج البلاغه کی سیر اور اسلام اور غرب میں جنسی اخلاق جیسے مضامین آپ کے قلم سے اس مجلے میں شایع هونے لگے۔ تقریبا 1338 ه۔ش(1959ء) میں اسلامی ڈاکٹروں کی انجمن قائم هوئی جهاں هر دو هفتے میں ایک جلسه هوا کرتا تھا اور شهید مطهری ان جلسات کے مقرروں میں سے تھا اور توحید، نبوت، معاد، حجاب کا مسئله، اسلامی میں غلامی، ربا، بینک اور انشورنس جیسے موضوعات پر ان جلسوںمیں سیر حاصل بحث کرتے تھے ۔ اس انجمن میں تقریر کے علاوه سوال و جواب کا سلسله بھی هوا کرتا تھا اور انجمن کے اعضاء شهید کے ساتھ بحث و مباحثه کرتے تھے۔ اس کے علاوه انهوں نے ماهانه دینی انجمن اور یونیورسٹی آف اسلامک ٹیچرز میں بھی بهت ساری تقریریں کی هیں۔
سیاسی فعالیتیں
شهید مطهری تهران میں قیام کے دوران علمی اور ثقافتی فعالیتوں کے ساتھ ساتھ مخفی طور پر سیاسی سرگرمیوں میں بھی مشغول رهے۔ شهید مطهری اکثر اوقات سیاسی نظریات کو دینی مسائل کے ضمن میں بیان کرتے تھے ۔ 15 خرداد 1342ه۔ش(1963ء)کی اسلامی تحریک میں جب امام خمینی گرفتا هوئے تو شاهی کارندوں نے شهید مطهری کو بھی گرفتار کیا اور 40 دن تک جیل میں رهے۔ جیل سے رهائی کے بعد آپ اپنی سیاسی فعالیتوں کو جاری رکھتے هیں ۔ مسجد هدایت میں آپ کی تقریریں بطور غیر مستقیم امام خمینی کی تحریک کو روشناس کراتی هیں۔ هیئت موتلفه نامی تنظیم نے ایک فقهی اور سیاسی شورای تشکیل دیتی هے جس میں هیئت کی تجویز پر امام خمینی نے جنابان بهشتی ، انواری اور مولائی کے ساتھ شهید مطهری کو بھی اس شورای کا رکن مقرر فرمایا ۔ شهید مطهری همیشه اس شورای کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ تھے اور همیشه یه سفارش کرتے تھے که ان کی سمت درست اور منطقی هونی چاهئےاور منحرف تحریکوں سے متاثر نهیں هونا چاهئے۔”انسان اور سرنوشت” نامی کتاب شایع هونے سے پهلے اسکے مضامین پمفلٹ کی شکل میں منتشر اور اس تحریک کے کارکنوں میں تقسیم هوتے تھے اور ان کو اس کی تدریس هوتی تھی۔13
شهید مطهری 1355 ه۔ش (1976ء) کو نجف اشرف جاکر امام خمینی سے حوزه علمیه قم اور اسلامی تحریک کے بارے میں تبادله خیال کرتے هیں ۔ اسی سال چند دوستوں سے ملکر جامعه روحانیت مبارز کی بنیاد رکھتے هیں۔ 1355 سے 1357 ه۔ش(1976ء -1979ء) تک انقلاب اسلامی کو درپیش مسائل اور مشکلات میں گرفتار رهے۔ ایک طرف سے امام خمینی(رح) کے ساتھ رابطه اور دوسری طرف سے انقلابی تحریک پر نظارت رکھتے تھے۔ انقلاب سے چند ماه قبل جب امام خمینی پیرس میں تشریف فرما تھے تو وهاں جاکر امام سے ملاقات کی۔ امام خمینی(رح) شهید مطهری کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ یهاں تک که جب شهید بات کرنے لگتے تھے تو امام خمینی(رح) نهایت هی دقت سے سنتے تھے۔ اسی سفر میں امام نے شورای انقلاب کی تشکیل کی ذمه داری ان کو سونپتے هیں۔14
شهادت
50 کی دهائی کے بعد شهید مطهری منحرف تحریکوں کے خلاف سرگرم تھے ۔ بعض گروه مانند مجاهدین خلق شهید کے نظریات کے مخالف تھے۔ آخری سالوں میں “فرقان” نامی ایک اور گروه سرگرم عمل هوا جو شهید مطهری جیسوں کو اپنے اهداف کی راه میں بهت بڑی رکاوٹ تصور کرتے تھے ۔ مخصوصا “علل گرایش به مادیگری” نامی کتاب کے مقدمے میں “ایران میں ماده پرستی” کے عنوان سے کچھ مطالب ذکر کئے جن میں گروه فرقان کے منحرف اور غلط عقاید اور قرآن سے متعلق ان کی غلط تفسیر کو رد کیا تھا۔ آخر کار اس گروه نے آپ کو شهید کرنے کی ٹھان لی اور 11 اردیبهشت ماه 1358ه۔ش (یکم مئی 1979ء)کو رات 10 بجکر 20 منٹ پر شهادت کے عظیم رتبے پر فائز هوگئے۔15
روحی تبدیلی
شهید مطهری اگرچه عالم جوانی میں بھی ایک شب زنده دار طالب علم تھے لیکن 50 سال کی عمر میں ایک خاص روحانی تبدیلی ان میں نمایاں هوگئی ۔ جب شهید مطهری نے سیر و سلوک کے راستے کو انتخاب کرنے کا اراده کیا تو اپنے استاد علامه طباطبائی کے مشورے سے آیت الله سید محمد حسینی تهرانی کو بطور استاد عرفانی اختیار کرتے هیں۔آیت الله تهرانی آپ کی شهادت کے بعد آپ کے بارے میں یوں رقم طراز هیں: محترم دوست جناب مرحوم آیت الله شهید مرتضی مطهری جو میرے لئے سگے بھائی سے بھی زیاده مهربان تھے ۔ هم تقریبا 35 سال سے بھی زیاده عرصے سے ان کے ساتھ آشنا تھے۔ فلسفه اور دوسرے علوم میں ایک عمر تک درس و بحث ، تدریس وتحقیق ، اور تقریر، کتابت، موعظه کے بعد عمر کے ان آخری ایام میں یه جان چکے تھے که خداوند منان سے باطنی رابطه اور اتصال کے بغیر فیوضات ربانیه سے خاطر خواه اطمنان اور آرامش انسان کے لئے نصیب نهیں هوتی هے۔ 16
شهید کے علمی آثار
شهید مطهری نے تقریبا ۱۳۲۵ ه۔ش سے قلم هاتھ میں لیا اور مختلف فلسفی,اجتماعی, اخلاقی, فقهی اور تاریخی موضوعات پر کتابیں لکھی هیں۔ امام خمینی نے بغیر استثنی شهید کے تمام آثار کو مفید قرار دیا هے ۔
شهید مطهری کی کتابیں عام فهم ، موضوعات میں تنوع اور وسعت اور معاشرے کی ضرورت کے عین مطابق هونے کی وجه سے مختلف زبانوں میں کئی بار شایع هو چکی هیں ۔ شهید کے کچھ علمی آثار مندرجه ذیل هیں:
1.
اسلامی علوم کا تعارف(۱-۲-۳)
2.
اخلاق کا فلسفه
3.
قرآن کا تعارف(۱ الی ۱۲)
4.
جنسی اخلاق
5.
اسلام اور زمانے کے تقاضے(۱-۲)
6.
انسان اور سرنوشت
7.
الغدیر اور وحدت اسلامی
8.
امامت و رهبری
9.
انسانی زندگی میں غیبی امداد
10.
انسان کامل
11.
حماسه حسینی(۱-۲)
12.
بیس کهاوتیں
13.
استاد کے جوابات
14.
پیامبر امی
15.
انقلاب اسلامی کے بارے میں
16.
شرح منظومه
17.
اسلام میں تعلیم و تربیت
18.
انسان کا سماجی تکامل
19.
الهی اور مادی آیڈیالوجی
20.
حق اور باطل
21.
علی علیه‌السلام کا جاذبه اور دافعه
22.
حکمتیں اور نصیحتیں
23.
داستان راستان (۱۳۴۴ ه۔ش کو یونسکو سے میڈل یافته)
24.
جهاد
25.
فلسفه کے اصول اور حقیقت پسندانه طریقه(۱الی۵)
26.
خاتمیت
27.
جان اور جهان کا خدا
28.
ختم نبوت
29.
اسلام اور ایران کے متقابل خدمات
30.
توحید
31.
جمهوری اسلامی کی بارے میں
32.
عرفان حافظ
33.
سیرة ائمه اطهار علیه‌السلام
34.
سیرةنبوی
35.
نهج البلاغه کی تعلیمات
36.
دس گفتار
37.
ایران اور مصرمیں کتاب سوزی
38.
فطرت
39.
ماده پرستی کی طرف

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره علامه طباطبائی، شهید مطهری، حوزه علمیه، نهج البلاغه Next Entries پایان نامه ارشد درباره علامه طباطبائی، شهید مطهری، قضا و قدر، ادراکات اعتباری