پایان نامه ارشد درباره حرکت جوهری

دانلود پایان نامه ارشد

سے ملاحظہ کریں گے تو دیکھیں گے که مذکوره وحدت اور تغیر ان تمام مکانوں تک سرایت کرتی هے اور مجموعا ایک سیّال اکائی کو تشکیل دیتے هیں۔(1)

ان دو نظریوں کا نتیجه یه هوا که وه تمام مکان جسے جسم حرکت کے وقت گھیرتا هے ایک متصل اور تدریجی طور پر وجود میں آنے والی شئ هے۔ پس دو طرح کے مکان قابل فرض هیں ایک ثابت الوجود اور دوسرا تدریجی طور پر وجود میں آنے والا مکان هے۔ مکان ایک قسم کا امتداد اور تقسیم کی قابلیت رکھتا هے اس طرح که ذهن قدرت رکھتا هے که اسے اجزاء کی طرف تجزیه کرے جن میں سے بعض بعض پر تقدم رکھتے هیں۔ اپنے سے متاخر اجزاء کی نسبت بالقوه هے ۔یعنی بعد کا جز پهلے جز کے همراه نهیں هے۔ مکان کی یه قسم درعین وحدت ایک قسم کی کثرت بھی رکھتا هےاور عین موجود هونے کے ساتھ معدوم بھی هے؛ یعنی هر مرتبه بعد کے مرتبے میں معدوم هے۔ دوسرے لفظوں میں وحدت کے لحاظ سے موجود هے اور کثرت کے لحاظ سے معدوم؛ کیونکه هر مرتبه بعد کے مرتبےمیں معدوم هے۔
بدیهی هے که یه قاعده مکان کے ساتھ مختص نهیں هے بلکه هر قوه سے فعلیت کی طرف خارج هونے والے مورد میں یه قاعده جاری هے۔ یعنی چونکه همیشه امکانات اپنے حامل کے ساتھ متحدہیں اور حامل اور محمول دو جداگانه امر نهیں هیں ۔بلکه متحد الوجود هیں۔ جس طرح هر مبهم متعین کے ساتھ اور هر مطلق مقید کے ساتھ متحد هے چونکہ هر امکان بعد کی فعلیت کے ساتھ متحدہے اور مجموعاً ایک شئ کو تشکیل دیتے هیں۔ پس ان کی کیفیتیں اور کمیتیں یهاں تک که شئ کے حرکت کی حالت میں طے کرنے والے جوهری مراتب بھی مجموعاً کیفیت یا کمیت یا جوهرکی ایک اکائی هیں ۔ لیکن ایسی اکائی جو متصل، زمانے کی وسعت کے ساتھ ممتد، لچکدار اور تدریجی طور پر وجود میں آتی هے۔
(1) یه جوہم کهتے ہیں که تدیجی طور پر وجودمیں آنے والے مکان کے مراتب میں سے هر مرتبه دوسرے مرتبه کے همراه نهیں هے ان مرتبوں میں سے هر ایک مرتبه کے ساتھ بھی صحیح هے۔پھر ان مراتب میں سے هر ایک دوسرے مرتبوں میں تجزیه اور تقسیم هوتے هیں۔ ان کے بارے میں بھی صحیح هے۔ بالآخر تدریجی طور پر وجود میں آنے والے مکان کے ایک ٹکڑے کو بھی نهیں پاؤگے جو مراتب کی طرف تجزیه اور تقسیم نه هوتے هوں یا پهلا مرتبه بعد کے مرتبه سے فاقد نه هو۔

ان مکانوں کے جس حصے کو بھی فرض کریں اگر چه مجموعی طور پر ایک اکائی سے زیاده نهیں هے بعد کا حصه پهلے حصے کے ساتھ نهیں هے ۔(یعنی فعلیت کے حساب سے) لیکن اس کا امکان بعد کے حصے میں اور بعد کے حصے کا امکان اس میں موجود هے۔آسان تعبیر میں تمام مفروضه مکانات ایک ممتد اکائی کو تشکیل دیتے هیں جس میں امکان اور فعلیت ایک ساتھ وجود اور عدم کی شکل میں مخلوط هے۔(1)

یه سلسله جتنا بھی آگے بڑے یه قاعده برقرار رهے گا۔اس مقدار لاحق کا سابق میں نفوذ نه رکھنا اور اس قدر ایک شئ کے اجزاء کے درمیان معیت نه هونا اس کے ساتھ که هر سابق کی نسبت لاحق کے ساتھ امکان اور فعلیت کی نسبت هے سیلان کے مفهوم کو وجود میں لاتا هے۔ یعنی کهہ سکتے هیں که تدریجی طور پر وجود میں آنے والے مکان ایک ممتد اور لچکدار اکائی هونے کے باوجود رواں اور سیال بھی هے۔
(1)یه که امکان اور فعلیت مخلوط هے اور ان کامخلوط هونا لازم اور ضروری هے۔ یعنی دو جداگانه وجود نهیں رکھ سکتے هیں، اس فعلیت کے بارے میں بھی صحیح هے جو امکان کا حامل هے اور اس فعلیت کے بارے میں بھی صحیح هے جس کی طرف امکان متوجه هے۔یهاں مراد اصلی دوسری شق هے۔ اسی وجه سے هم مدعی هیں که امکان کا فعلیت میں بدلنا ارسطو ، ابن سینا اور ان کے پیروکاروں کے برعکس، دو طرح کے نهیں هیں: دفعی اور تدریجی ، بلکه تدریجی میں منحصر هے اور حرکت کی صورت میں هے ۔ یه خود“ حرکت جوهری کے اوپر” ایک مستقل دلیل هے ۔ اور یه که جوهری تغییرات اور تبدیلیاں “کون و فساد” (اس کی وضاحت بعد میں آئیگی)کی شکل میں نهیں هے بلکه حرکت کی شکل میں هے۔صدر المتالهین جو که حرکت جوهریه کے ماهر هیں نے حرکت جوهریه کے اوپر بهت ساری دلیلیں لائی هیں اور مختلف راستوں کو طے کیا هے۔ لیکن مذکوره راستے سے استفاده نهیں کیا هے لیکن دوسرے مقامات پر ان کے بعض کلمات سے یه سمجھ میں آتا هے که کسی حد تک اس نکته کو حاصل کیا تھا ۔هم بعد میں اس کے بارے میں بحث کریں گے۔
امکان کا فعلیت کے ساتھ اور عدم کا وجود کے ساتھ مخلوط هونا اس جهت سے هے که جس قدر ذهن ایک تدریجی طور پر وجود میں آنے والی شئ کو اجزاء میں تجزیه اور تقسیم کرے مزید تقسیم اور تجزیه کا امکان رہتاهےاور کوئی ایسی حد موجود نهیں هے جهاں تقسیم کا یه سلسله رک جائے۔ اور مفروضه اجزاء میں سے هر ایک بعد کے جز کی نسبت امکان اور پهلے کی نسبت فعلیت هے اوربعد کے جز کی نسبت عدم اور اپنی نسبت وجود هے۔ البته وجود اور عدم کے مخلوط هونے کی خاصیت امتداد سے پیدا هوگئی هے خواه وه ممتد شئ تدریجی طور پر وجود میں آنے والی هو یا نه هو۔ لیکن امکان اور فعلیت کا مخلوط هونا حرکت اور تدریجی وجود سے پیدا هوگئی هے کسی اور سے نهیں ۔

کیونکه هر مفروضه جز اس جز کا امکان رکھتا هے جو اس کے بعد هے اور بعدکاجز ءجب اپنی فعلیت کو پهنچتا هے تو اسی امکان کے عدم کا حامل هوتا هے۔پس اس امتداد کا مجموعه اپنے وجود اور عدم پر مشتمل هے۔ اور چونکه ایک اکائی سے زیاده نهیں هے ضروری هے کها جائے که یه اکائی وجوداور عدم سے مخلوط هے۔
دوسرے نقطه نظر سے یه متغیر ڈھانچه جسم کی نسبت جس کے وسیلے سے دوسرا مکان چاهتا هے ، فعلیت هے جو حرکت سے پهلے نهیں تھی لیکن دوسرے مکان کی نسبت اس کا قوه اور امکان موجود هے۔(1)

(1)بعد میں بتائیں گے که کوئی بھی حرکت غایت اور هدف کے بغیر نهیں هوتی هے ۔ یعنی هر جسم جس قسم کی بھی حرکت کرتا هے کسی هدف اور مقصد کو تلاش کرتا هے اور چاهتا هے اس حرکت کے ذریعے اس هدف اور مقصد تک پهنچ جائے ۔ دوسرے لفظوں میں همیشه متحرک شئ کے لئے حرکت وسیله هے نه هدف۔لهذا اگر ایک جسم کی حرکت کو ایک هی ساتھ دیکھیں اور اسے حرکت کے مقصد اورهدف کے مقابل میں قرار دیں تو وه خود ایک فعلیت هے جو حرکت کے شروع هونے سے پهلے نهیں تھی صرف اس کا امکان موجود تھا ۔ یهی فعلیت اصلی اور آخری هدف کی نسبت قوه اور امکان هے ۔ یه جو کهتے هیں که ایک شئ کی حرکت اس شئ کا کمال هے لیکن نه ایسا کمال جو جود کمال مطلوب هو بلکه ایسا کمال جو کمال اور فعلیت هونے کے ساتھ اس کی حقیقت اور ماهیت حقیقت طلب هے نه مطلوب۔ طلب ، طلب هونے کی جهت سے بالقوه اور بالفعل دونوں هو سکتا هے ۔ بدیهی هے که طلب بالفعل طلب بالقوه کی نسبت ایک قسم کا کمال اور فعلیت هے باوجود اس کے اس کمال اور فعلیت کی طبیعت یه هے که چاهنے والے کا مطلوب نهیں هے بلکه اس کا مطلوب کوئی اور چیز هے۔یه وهی بات هے جو کهتے هیں “حرکت کمال اول هے نه کمال ثانی ”۔ اسلامی حکماء معتقد هیں که حرکت کی متعدد تعریفوں میں سے سب سے دقیق تعریف ارسطو کی تعریف هے ۔
ارسطو کی تعریف میں ایک جمله آیا هے جس کا مفهوم یه هے که “الحرکة کمال اول لما بالقوه من حیث انه بالقوة” یعنی حرکت کمال هے لیکن کمال اول یعنی- ایسا کمال هے جو وسیله هے نه هدف – بالقوه امر کے لئے اس جهت سے که بالقوه هے۔

اس بیان – یا اس سے ملتے جلتے بیان – کو هر اس جدید فعلیت کے بارے میں جاری کیا جا سکتا هے جهاں جسم اپنی پرانی فعلیت کو چھوڑ کر جدید فعلیت میں تبدیل هوتا هے جس کے نتیجے میں هم امکان کو ثابت کرکے دو فعلیتوں کو ایک فعلیت کی تحویل میں دیتے هیں اور ایک فعلیت کا دوسری فعلیت میں بدلنے کے معنی کو واضح کرتے هیں۔(1)
طبیعی کائنات میں رونما هونے والی تغیرات اور اس میں موجود اتصال جو امکان و فعلیت کی وجه سے پیدا هو تاهےکی جانچ پڑتال کرنے سےمندرجه ذیل نظریے کا احتمال دے سکتے هیں:“طبیعی کائنات میں رونما هونے والی تمام تبدیلیاں حرکت کی وجه سے پیدا هوتی هیں”(2) بنابراین، حرکت کی حقیقت اور اس کے مفهوم کی تحقیق اورجانچ پڑتال ناگزیر ہے۔

(1)اس کے بعد جب معلوم هوا هر فعلیت اپنے بعد کی فعلیت کی نسبت امکان هے اور پهلے امکان کی نسبت فعلیت هے، دو مطلب واضح هوجاتے هیں : ایک یه که جب هم کهتے هیں که امکان فعلیت میں تبدیل هوا تو حقیقت میں ایک فعلیت دوسری فعلیت میں بدل گئی هے ۔ دوسرا یه که وه فعلیت جو تبدیل هوئی هے اور وه جو وجود میں آئی هے مجموعاً ایک فعلیت کو تشکیل دیتی هیں جس کے دونوں سرے ایک دوسرے سے متفاوت هیں۔ یعنی ان کے درمیان تقدم وتأخر اور امکان و فعلیت کی نسبت حاکم هے۔دو فعلیتوں کا اتحاد وهاں سے معلوم هوتا هے امکان اور فعلیت کے درمیان “عدم” فاصله نهیں هوتا هے۔
(2) جیسا که هم نے پهلے بیان کیا طبیعی کائنات کی تبدیلیوں مخصوصا جوهری تبدیلیوں کے بارےمیں دو نظریے هیں:
الف) کون و فساد
ب) حرکت جوهری
کون و فساد کے نظریے کے مطابق جب ایک شئ بالقوه حالت سے بالفعل حالت میں آتی هے تو ماده اپنی ابتدئی صورت کو چھوڑ دیتا هے۔ پس ابتدائی صورت ختم اور تباه هوجاتی هے پھر بعد کی صورت وجود میں آتی هے جیسا که کوئی اپنی قمیص کو اتارتا هے اور دوسری قمیص پهن لیتا هے۔ اسی طرح پهلے کا امکان بھی معدوم اور ختم هوجاتا هے اور ایک فعلیت اس کے جانشین هوجاتی هے ۔ پس حقیقت میں هر جوهری تبدیلی میں صورت تبدیل هوتی هے ایک صورت اپنی جگه چھوڑتی هے ایک اور صورت اس کی جگه لے لیتی هے۔ ایک امکان معدوم هوجاتا هے اور ایک فعلیت اس کی جانشین هوتی هے۔
حرکت کیا هے؟ حرکت کے وقت کیا چیز انجام پاتی هے اور حاصل هوتی هے؟
حرکت خصوصاًحرکت مکانی ان چیزوں میں سے هے جس سے همارا هرروز کا سروکار هے اور کبھی بھی ہماری آنکھوں سے شاید اندیشه اور فکر سے بھی دور نهیں هے۔ اسی وجه سے هم اس سے پوری طرح آشنا هیں۔ ایک جسم کو فرض کرتے هیں جو ایک معین نقطے سے دوسرے نقطے کی طرف جو 100 میٹر کے فاصلے پر هے حرکت کرتا هے۔ مفروضه جسم پهلے نقطے(مبداء) میں ساکن تھا جس طرح آخری نقطے(مقصد) میں ساکن هے۔ البته یه سکون جو که حرکت نه کرنا هے نسبی هے۔ کیونکه جیساکه بتائیں گے طبیعی کائنات میں ساکن مطلق یعنی هر جهت سے ساکن موجود وجود نهیں رکھتا۔وه حرکت جسے جسم نقطه مبداء اور مقصد کے درمیان انجام دیتاهے ایک مسافتی امتداد رکھتا هے اور ایک زمانی۔(1)

اس جهت سے قهراً اور لازمی طور پر پهلے کی صورت اور بعد کی صورت میں ایک قسم کی جدائی موجود هے جس طرح پهلے کے امکان اور اس فعلیت کے درمیان جو اس کی جانشین بن گئی هے جدائی موجود هے۔
لیکن حرکت جوهریه کے نظریے کے مطابق “تبادل” نهیں هے جبکه “تبدل” هے۔ یعنی حقیقت میں اس کا لازمه یه هے که پهلے کی صورت اور بعد کی صورت میں وحدت اور اتصال هو اسی طرح پهلے کے امکان اور بعد کی فعلیت کے درمیان بھی اتصال اور وحدت۔
اگر یه مدعی ثابت هوجائے که امکان اور فعلیت کے درمیان فاصله نهیں هو سکتا هے اور فعلیتیں مجموعاً ایک فعلیت کو تشکیل دیتی هیں تو ثابت هوگا جو چیز بھی کائنات میں رونما هو رهی هے حرکت کی وجه سے هے۔
(1) حرکت کی تعریف کرنے کے لئےاس کی ایک خاص قسم کو جس سے هم زیاده اور بهتر آشنا هیں یعنی حرکت مکانی ، مورد بحث قرار دیتے هیں اور ایک عقلی تجزیه اور تحلیل کے ذریعے اس کی عمارت میں موجود عناصر کو تشخیص دیں گے پھر حرکت مکانی کی تعریف کرنے کے بعد حرکت کی ایک کلی تعریف کرینگے۔

جس کا مثلا گھڑی کے ذریعے اندازه لگایا جاسکتا هے – امتدادرکھتاہے۔ البته یه دونوں امتداد (یا دو مقدار ) ایک دوسرے سے مختلف هیں کیونکه اسی جسم کی اسی مسافت میں حرکت کےلئے رفتار میں تیزی اور سستی کے اعتبار سے دو مختلف زمان قابل تصور هیں جس طرح ایک معین زمان میں رفتار کا اختلاف دو مختلف فاصلے (طویل اور کوتاه) طے کرنے کا باعث بنتا هے۔مفروضه جسم حرکت کے دوران زمان کے هر حصے میں ایک خاص اور جدید مکان رکھتاهے جسے بعدکے حصے میں چھوڑ دیتاهے۔

هم ایک ایسےجسم کو مورد توجه قرار دیتے هیں جو ایک نقطے سے دوسرے نقطے کی طرف جو اس سے 100 میٹر کے فاصلے پر هے

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره عالم مجردات Next Entries پایان نامه ارشد درباره شگفت انگیز