پایان نامه ارشد درباره حرکت جوهری، علت فاعلی، واجب الوجود

دانلود پایان نامه ارشد

همارے نزدیک دوسری حرکتوں سے زیاده واضح اور آشکارهے طبیعتاً اسی کو انتخاب کرتے هیں اور دوسری حرکات کے لئے پیمانه قرار دیتے هوئے تقریبا تمام حرکتوں کا اسی کے ذریعے اندازه لگاتےهیں جو حس میں زیاده تکرار هونے کی وجه سے همارے ذهن میں جانشین هوا هے گویا اس کام کے لئے اس حد تک تعین ذاتی پیدا کیا هے که فکر اور خیال کے سائن بورڈ پر اس کے لئے ایک مستقل ، اهم ، بے آغاز و انجام وجود ، اس خط کی مانند جس کے دونوں سرے ازل اور ابد کی گهرائی میں ڈوب چکے هو، تصویر بنی هوئی هے حوادث کی اس کی طرف نسبت دیتے هیں یهاں تک که اس کی مدح اور ذم میں گفتگو کرتے هیں اورگن گاتے هیں۔
یه خیال اس قدر همارے تخیل میں جائیگزین هوا هے یهاں تک که همارے بهت سارے متفکرین اور محققین واجب الوجود کے وجود کو جو تغییر کے طوفان اور حوادث کے جنجال سے پاک هے بغیر زمان کے تصور نهیں کر سکتے علاوه براین، خود زمان جو که طبیعی حرکت کی پیداوار هے اور اسی طرح کائنات کے لئے بھی آغاز زمانی فرض کرتے هیں۔ یهی صورتحال مکان کے بارے میں بھی هے ۔ همارا ذهن اس قدر مکان اور فضا سے آشنا هوا هے که هر نظر آنے والی جسمانی چیز کے لئے فضا فرض کرتا هے، اور هر موجود یهاں تک که واجب تعالی اور عالم مجرد کے لئے بھی عالم طبیعت کی فضا سے باهر ایک فضا فرض کرتا هے۔ ایک ماهر فلسفی هی سختی اور رنج و الم کے ساتھ ان موضوعات کو جیسا که هونا چاهئے تصور کر سکتا هے اور سمجھ سکتا هے۔
اس پیمانے کی حقیقت کےبارے میں هونے والی گفتگو سے معلوم هوتا هے که حقیقت میں کائنات میں موجود حرکتوں کی تعداد کے برابر زمان بھی وجود رکھتا هے۔ اگرچه همارا ذهن ان میں سے صرف ایک معروف زمان سے زیاده آشنائی رکھتا هے۔ لیکن طبیعت کے جوهر میں موجود حرکت جوهری کے ثابت هونے کے بعدزمان ایک جدید مفهوم کے ساتھ جو تعین کا پهلو رکھتا هے اور کسی مدرِک کے ادراک سے مخفی نهیں ره سکتا ، روشن هوجاتا هے اور وه “جوهری زمان” هے۔
حقیقت میں ایسا هی هےکیونکه هم میں سے هر ایک اپنے ذهن کو تمام حرکات سے خالی کریں اور دل کی آنکھوں سے طبیعت کے چهرے کی طرف نگاه کریں پھر بھی سیّال امتداد کا مشاهده کریں گے جو وهی جوهری زمان هے جسے هم اپنے اندر محسوس کرتے هیں۔
گذشته بیان سے مندرجه ذیل نتائج لے سکتے هیں:
1 – زمان حرکت کی مقدار هے یعنی ایک ایسا امتداد جو ایک معین رفتار میں حرکت کرنے سے وجود میں آتا هے۔دوسرے لفظوں میں زمان حرکت کا تعین هے چنانچه جسم تعلیمی جسم طبیعی کا تعین هے۔
2 – کائنات میں موجود حرکات کی تعداد کے برابر زمان فرض کرسکتے هیں لیکن ان میں سے معروف زمان نے قراردادی بنیاد پر تعین پیدا کیا هے جبکه جوهری زمان نے طبیعی بنیاد پر تعین پیدا کیا هے۔
3 – زمان کائنات کے سیال وجود کی پیداوار هے اور زمان کا تحقق کائنات کی پیدائش سے پهلے یا اس کے بعد متناقض هونے کے علاوه ایک فرض اور خیال کے سوا کچھ نهیں هے۔
4 – چونکه زمان کے مفروضه اجزاء حقیقت میں وهی حرکت کے اجزاء هیں اسی بناپر ان اجزاء کے درمیان ایک قسم کا تقدم اور تاخر موجود هے جو تغییر پذیر نهیں هے۔ چنانچه زمان کے مفروضه اور معروف اجزاءمثلا”آج” “کل” کے بعد اور “آنے والےکل” سے پهلے هے اور کبھی بھی یه ترتیب تغییر پذیر نهیں هے۔
5 – حرکت کی تیز رفتاری اور سست رفتاری کو ناپنے کے اسباب میں سے ایک زمان هے۔
اس مطلب کی وضاحت یه هے که مثلا اگر ایک مشخص اور معین مسافت کو حرکت مکانی میں دو مختلف حرکتوں 1 اور 2 کے ذریعے فرض کریں اور حرکتوں کے آغاز کو ایک زمانی مبداء پر منطبق کریں۔ مثلا حرکت نمبر 1 مسافت کے آخر تک پهنچ جاتی هےجبکه حرکت نمبر 2 ابھی تک مسافت کے درمیان میں هےاور زمان کا پیمانه (مثلا ایک گھنٹه ) اس پر منطبق هوتا هے اور حرکت نمبر 2 پر مذکوره پیمانه دو مرتبه منطبق هوتا هے۔اور حرکت نمبر 2 (ایک گھنٹه ضرب 2 ) کے مساوی هوجاتی هے۔اس طرح دو مخصوص حالتیں سامنے آتی هیں:
الف) حرکت نمبر 1 ایک گھنٹے میں تمام مسافت کے مساوی هے جبکه حرکت نمبر 2 ایک گھنٹے میں نصف مسافت کے مساوی هے۔
ب) حرکت نمبر 1 کی پوری مسافت ایک گھنٹے کے برابر هے جبکه حرکت نمبر 2 کی پوری مسافت دو گھنٹوں کے برابر هے۔اس تناسب کا نتیجه یه هے که حرکت نمبر 1 حرکت نمبر 2 کے دو برابر هے۔ اس نتیجه گیری میں زمان اور مسافت میں سے ایک پیمانه کے طور پر استعمال هوتا هے۔ لهذا مذکوره پیمانے کے ذریعے دونوں حرکتیں ایک دوسرے پر منطبق آکر حرکت نمبر 1 کے امتداد کا ایک جزء حرکت نمبر 2 کے امتداد کے دو جز ءکے برابر هو جاتا هے یعنی حرکت نمبر 2 زیاده تقسیم پذیر هوتی هے اور زیاده جز ءپیدا کرتی هے۔ هم حرکت کے اجزاء کی نسبی کثرت کو “بطؤ” (سست رفتار) اور نسبی قلت کو “سرعت” (تیز رفتار) کا نام دیتے هیں۔ البته یه سرعت اس سرعت کا غیر هے جو سائنس میں مطلق جریان اور سیلان کے معنی میں استعمال هوتا هے۔ یهیں سے ایک اور نتیجه بھی لے سکتے هیں که اگر کسی حرکت کے اجزاء کی اکائیاں جو تقسیم کے ذریعے حاصل هوئی هیں ایک اور تقسیم کو قبول کرے تو اس کا نتیجه “حرکت میں حرکت کا پیدا هونا”هوگا۔
6 – زمان، آغاز اور انجام( پهلا اور آخری جز) نهیں رکھتا هے کیونکه زمان حرکت کا تعین هے اور اگر حرکت جز اول رکھے تو یا سیّال هوگی پس اس صورت میں تقسیم پذیر اور اجزاء کا حامل هوجائے گی ۔ یا سیّال نهیں هوگی یعنی امکان اور فعلیت دونوں ایک دوسرے میں مخلوط نهیں هےپس فرض کے خلاف هو جائے گا ۔ لیکن زمان اور حرکت کے لئے، آغاز اور انجام بمعنای نسبی سکون یا اپنے سے باهر ایک ثابت نقطه کی شکل میں ممکن هے۔
خاتمه
توضیح نمبر 1
قدیم فلاسفرز کهتے هیں که حرکت کے لئے چھ چیزیں لازمی هیں: آغاز ، انجام، مسافت ، موضوع، فاعل اور زمان۔
چونکه متقدمین کے نزدیک حرکت جوهری کا تصور نهیں تھا اور حرکت کو صرف کیفیت ، کمیت ، وضع اور این (جسم کی مکان کے ساتھ نسبت) میں قبول کرتے تھے ، حرکت کے بارے میں ان امور کی تطبیق ساده اور آسان تھی۔ مثلا اگر کسی جسم کو ایک نقطے سے دوسرے نقطے کی طرف حرکت دیں تو حرکت کے آغاز کا نقطه “مبداء” اور انجام کا نقطه“منتهی” اور حرکت کا مکان “مسافت” اور خود متحرک جسم“موضوع”اسی طرح حرکت دینے والا“فاعل” اور حرکت کی مدت “زمان ” کهلائے گی۔
اسی طرح سائنسی نظریوں اور فرضیوں کی بنیاد پر ان موارد میں جهاں حرکت کو بسیط اور مفرد نهیں لیتے هیں هم آسانی کے ساتھ مذکوره چھ چیزوں کو پیدا کرسکتے هیں۔ مثلا فیزکس کے نظریے کے مطابق کها جاتا هےکه :
1 – “ماده پیوسته اور همیشه حرکت میں هے”
2 – ماده، توانائی جو خود حرکت هے، کے تراکم اور جمع هونے سے پیدا هوتا هے”
چونکه کائنات کسی بھی وقت مجموعاً ایک ساده حرکت جو عقیم اور نازا هے کی حالت میں نهیں رهی هے اور همیشه ماده (توانائی کا تراکم) هستی سے بهره مند رها هے اور همیشه عمومی جاذبه ، حرکت عمومی کو مختلف شکلوں کے ذریعے رفتار اور سمت سے دور کرتا هے۔پس حرکت کی هر نئی شکل کا آغاز، حرکت کا آغاز اور اس کا انجام، حرکت کا منتهی اور اس کا مکان، حرکت کی مسافت اور ماده ، حرکت کا موضوع (جیساکه پهلے تذکر دے چکے هیں که آج کے سائنسدانوں نے اعراض اور حرکات کے مجموعے کو جوهر اور موضوع کا نام دیا هے) اور زمانی بُعد حرکت کا زمان کهلاتا هے ۔ چنانچه مقاله نمبر 9 میں بیان هوا حرکت ایک عمل کا نام هے اور هر عمل کے لئے عامل کی ضرورت هوتی هے وهی عامل حرکت کی علت فاعلی هے۔
لیکن بسیط حرکات میں اگر انهیں تنها فرض کریں تو گزشته تمام چھے چیزوں کی وضاحت نهیں کرسکتے هیں۔ مثلا اگر کهیں که کائنات حرکت مکانی کا نام هے یا تحول کی حالت میں هے یا کهیں که نور هر سیکنڈ میں تقریبا تین لاکھ کیلومیٹر مسافت طے کرتا هے اور نور وهی توانائی هے اور توانائی حرکت کا دوسرا نام هے۔ ان مثالوں میں موضوع کا تصور اشکال سے خالی نهیں هے۔ مذکوره دونوں مثالوں میں کهنا پڑے گا که “کائنات” کے نام سے ایک حرکت موجود هے اور ایک حرکت “تین لاکھ کیلو میٹرفی سیکنڈ” کی شکل میں موجود هے۔
اسی طرح حرکت جوهری کے نظریے کے مطابق جس کی توضیح دی گئی حرکت کے موضوع کا تصور یعنی حرکت جوهری کا متحرک اشکال سے خالی نهیں هے۔
پس تھوڑی سی دقت کے ساتھ کائنات کی جوهری حرکت جو پانی کے ایک نهر کی مانند اپنے امواج، اعراض اور خواص کے ساتھ همیشه جاری هے “ کی اس طرح وضاحت کی جاسکتی هے:
پهلا اور دوسرا”آغازاور انجام”: چونکه کائنات ایک سیال جوهر هے “جس کے جواهر اور اعراض ” نامی مختلف حصے هیں ۔ لهذا اس کے هر حصے کے لئے آغاز اور انجام فرض کیا جا سکتا هے۔ لیکن اگر اس حرکت کو متصل اور مجموعی طور پر فرض کریں تو اس کا مبداء” خالص اور بے فعلیت امکان” اور اس کا منتهی “بے امکان فعلیت” هوگا۔ جیساکه پهلے هم نے اشاره کیا هے۔
تیسرا “فاصله”: البته حرکت کی بحث میں مسافت سے مراد زمینی مسافت اور اس کے مانند جسمانی ابعاد (خط، سطح، حجم) سے مطابقت رکھنے والی کوئی چیز نهیں هے، بلکه اس سے مراد ایک ایسا پیمانه هے جو خود تقسیم هو کر حرکت کے چند افراد کو وجود میں لاتاهے جیسے حرارت پر حرکت کرنےوالے جسم کی صفر سے 100 درجه حرارت کے درمیان مسافت۔اسی طرح نور کی ایک سے 100 شمع کے درمیان روشنی میں حرکت اور اسی طرح حرکت مکانی میں حرکت کا نطقه آغاز اور انجام کے درمیان فاصله۔ هر حالت میں مسافت ایک ایسی چیز هے جو اگرچه تصور کے لحاظ سے ثابت هے لیکن خارج کے لحاظ سے همیشه تغییر کی حالت میں هے۔ یهاں سے واضح هوجاتا هے که حرکت جوهری کی مسافت بھی خود جوهر هے۔
چوتھا “موضوع” : موضوع ایسی چیز هے جس کے لئے حرکت صفت واقع هوتی هے اور اس کے لئے ثابت هوتی هے۔ جس طرح اعراض میں حرکت کا موضوع جوهر هے اسی طرح جوهر میں بھی حرکت کا موضوع جوهر هے؛ کیونکه جوهر اپنے لئے ثابت هے پس حرکت بھی هے اور متحرک بھی۔
پانچواں “فاعل”: علت فاعلی کا اثبات مقاله نمبر 9 میں گزر گیا وهاں پر کی گئی بحث سےمندرجه ذیل نظریه واضح هوجاتا هے:
“محرک کبھی بھی عین متحرک نهیں هوسکتا”
چھٹا”زمان”: زمان-جیساکه زمان کی بحث میں گزر گئی- حرکت کا تابع اور حرکت کے لوازمات میں سے هے۔
توضیح نمبر 2
کچھ عرصے سے “جهش” کا موضوع سائنسدانوں کے درمیان معروف هوا هے اور باوجود اس کے که اس نام کو بهت هی اهمیت سے لیا جاتا هے، اس کی تفسیر میں اس اهمیت کو ملحوظ خاطر نهیں رکھا گیا هے۔ مختلف بحثوں میں جهاں “جهش” کے موضوع پر گفتگو هوئی هے هر مورد میں نسبتاً ایک سطحی تعبیر کے ساتھ تعریف کی گئی هے۔ جو چیز ان متفرقه بیانات کے مجموعے سے حاصل هوتی هے یه هے که جهش ایک “ناگهانی حادثے کی پیدائش “ کو کهتے هیں۔ چنانچه طبیعت اپنی فعالیتوں کے ساتھ تدریجی طور پر کچھ حوادث کو یکے بعد دیگرے جنم دیتی هے۔ کبھی مذکوره تدریجی عمل رک جاتا هےاور ناگهانی طور پر ایک حادثه وجود میں آتا هے جو حرکت کو ایک نئے راستے پر ڈال دیتا هے جس طرح طبیعت اپنی فعالیت اور حرکت کے دوران ایک راسته چھوڑ کر دوسرے راستے کو اپناتی هے۔
مثلا پانی حرارت کی وجه سے گرم هونے لگتا هے اوربتدریج حرارت کی سطح بڑھتے هوئے اپنی اشتدادی حرکت کو جاری رکھتی هے لیکن جیسے هی درجه حرارت 100 ڈگری تک پهنچ جاتا هے ناگهان حرارت اپنے تدریجی سفر کو ختم کر کے بخار میں تبدیل هوجاتی هے یعنی “کمّی حرکت “،” کیفی حرکت” میں تبدیل هوجاتی هے۔
دوسری مثال: …سنه عیسوی آفریقه میں عادی حالت میں زندگی کرنے والی بھیڑوں کے ریوڑ میں ایک بھیڑ کے جسم میں موجود اون ناگهانی طور پر ریشم کی طرح بهترین اون(Merino) میں تبدیل هوا اور اس کے بعد اس کی نسل سے بهت زیاده بھیڑ یں وجود میں آئیں۔
البته “ناگهانی” کا مفهوم کچھ مشخصات اور خصوصیات رکھتا هے:
الف) ناگهانی موجود عادت کے لحاظ سے قابل پیشن گوئی اوراس کی سابقه حالت کو ملاحظه کرتے هوئے اس کا وقوع متوقع نهیں هے؛ یعنی کائنات کی ابتدائی حرکات جس تدریجی نظام کے ذریعے آگے بڑھتی هیں اس تک نهیں پهنچتی هیں۔اس بنا پر کها جاتا هے که “جهش میں

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره حرکت جوهری، وجود خارجی Next Entries منابع پایان نامه درمورد کودک و نوجوان، ادبیات کودکان، ادبیات کودک و نوجوان، کودکان و نوجوان