پایان نامه ارشد درباره تاریخ فلسفه، مفهوم عقلی

دانلود پایان نامه ارشد

آتی هے”
یه بحث حرکت کی فاعلی علت سے مربوط هے جو خود متعدد مسائل پر مشتمل هے هم بعد میں ان کےبارے میں گفتگو کریں گے۔ یهاں پر صرف حرکت اور تغییر کی ایجاد اور تولید میں تضاد کے کردار پر گفتگو کریں گے۔
حکماء الهی کے مطابق کائنات میں پیش آنے والی تغییرات اور تحولات میں تضاد ایک مؤثر کردار رکھتا هے ، لیکن حکماء کی نظر میں تضاد کا کردار اس شکل میں هے که تضاد اور صورتوں کا ایک دوسرے کے اوپر مخالف تأثیر سبب بنتا هے که ماده ایک خاص حالت اور صورت کے انحصار سے باهر آجائے اور جدید صورت اور حالت کے لئےراسته فراهم هوجائے یعنی مانع رفع هوجائے اور کائنات پر حاکم مؤثر قواعد و ضوابط کے ذریعے فیض پهنچانے کا زمینه مهیا هوجائے ۔ اگر تضاد نه هو تو ماده ایک معین صورت اور حالت کے انحصار میں باقی ره جاتا هے ۔ یه تضاد دو قسم کا هے: خارجی اور داخلی۔ بسائط اور مرکبات اولیه خارجی تضاد کا نتیجه هیں۔ یعنی خارجی متضاد اور مخالف عوامل هیں که موجوده مادی حالتوں اور صورتوں کو زائل اور انهیں جدید حالت اور صورت کے لئے تیار کرتے هیں۔ لیکن مرکبات عالیه میں یعنی ایسے مرکبات جو ساده مرکبات کے ایک سلسلے سے وجود میں آئے هیں مانند نباتات، حیوانات اور انسان ، خارجی تضاد کے علاوه داخلی تضاد کا ایک سلسله بھی موجوده حالتوں کے تغییر اور زوال میں مؤثر هے۔یعنی اس طرح کے مرکبات اندر سے بھی منهدم هوجاتے هیں لیکن بهر حال اضداد کا کردار مانع کا دور کرنااور ماده کو آماده کرنا هے نه که اسے آگےبڑھانا هے۔79
اسفار کی جلد 2 کے فن چهارم اور گیارهویں فصل میں اس مطلب کے بارے میں ایک خوبصورت بیان هے بهتر هے مراجعه اور نقل هوجائے۔80
تغییر اور تحول میں تضاد کا کردار براه راست نهیں هے یعنی تضاد کا اثر صرف پهلے والی حالت کو خراب اور نابود کرنااور مادے کو آزاد کرنا هے لیکن ماده آزاد هونے کے بعد اپنے لئےایک جدیدحالت کواختیار کرنے کےلئےخواه ناخواه ایک دوسرے عامل کا محتاج هے پس تضاد کو حرکت اور تحول کا اصلی، بنیادی اور منحصر عامل تصور نهیں کیا جا سکتا۔ بعد میں خود متن میں بھی اس مطلب کے بارےمیں گفتگو هو گی۔
پانچواں اصل81: حرکت کی ماهیت یا مثلث “تز، اینٹی تز اور سنتز” یه وهی مطلب هے جس کے بارے میں متن میں گفتگو هوئی هے اور حاشیے میں بھی توضیح دیں گے۔

طبیعت اور فطرت کے ارتقاء کا جدلیاتی (Dialectic) قانون
جدلیاتی مادیت کے حامیوں نے طبیعت کے ارتقاء اور تحول کے قانون کی ایک اور جهت سے وضاحت کی هے اور کهتے هیں که:خارجی واقعیت جو که “ماده و مکان-زمان” کے مساوی هے چونکه زمان (بعد رابع) پر مشتمل هے لاچار بدل جاتا هے اورنهایةً نفی اور ختم هوجاتا هے۔(1)البته یه نفی اور اختتام نسبی اور اضافی هے اور موضوع کو کلی طور پر معدوم نهیں کرتا ورنه حرکت سے پیش آنے والے حوادث کا رابطه قطع هوجائے گا اور اسی نفی کی بھی نفی هو جائیگی اسی طرح …۔

(1)علت تغییر کی توجیه میں اس بیان کا باطل هونا واضح هے۔ یه بات درست نهیں هے که “خارجی واقعیت چونکه زمان پر مشتمل هے تبدیل هوجاتی هے اور ختم هوجاتی هے” بلکه حقیقت اس کے برعکس هے “خارجی واقعیت چونکه تغییر پذیر هے لهذا زمان پر مشتمل هے” ۔ زمان کے بارے بعد میں بحث هوگی اور اوپر کے ادعا کا بطلان بھی واضح هو جائیگا۔ڈاکٹر ارانی82 جدلیاتی مادیت کے کتابچه کے صفحه 56 پر کهتا هے:
“واقعیت (ماده – زمان – مکان) چونکه زمان پر مشتمل هے لاچار تغییر کے مفهوم کو بھی شامل هوتی هے۔”
پس اگر کسی چیز کو مبداء قرار دیں تو مذکوره چیز پهلےلمحے میں ثابت اور دوسرے لمحے میں نفی هو جائیگی اور تیسرے لمحے میں یه نفی بھی نفی هوجائیگی (نفی نفی) اور نفی کے منفی هونے سے اثبات پلٹ آتا هے۔لیکن چونکه نفی جیساکه بیان هوا نسبی هے۔(1)

اس بیان میں زمان کے لئے تغییر کی نسبت ایک قسم کی فوقیت اور ترجیحی طور پر فرض کیا گیا هےاور اسے واقعیت کو تشکیل دینے والے تین عنصر میں سے ایک فرض کیا گیا هے۔ هم بعد میں ان سب کے بارے میں گفتگو اور ان کے بطلان کو واضح کرینگے۔
(1) یهاں پر نفی کے نسبی هونے سے مراد یه هے که پهلے والا موضوع مکمل طور پر معدوم یا ختم نهیں هوا هے۔ بلکه اس میں سے کچھ چیز ختم اور کچھ چیز باقی هے ۔ اگر فرض کریں که پهلے والا موضوع مکمل طور پر معدوم هوا هے اور جو چیز بعد میں وجود میں آئی هے 100 % ایک جدید چیز هے ۔تو پس کوئی تبدیلی اور تحول وجود میں نهیں آئی هے یعنی کوئی چیز بدل نهیں گئی هے بلکه ایک چیز معدوم هوگئی هے اور ایک دوسری چیز تازه وجود میں آگئی هے اور جو چیز معدوم هوگئی هے اورجو چیز وجود میں آگئی هے کے درمیان کسی قسم کا رابطه نهیں هے۔یه نهیں کهه سکتے که وه اس میں بدل گئی هے یعنی نهیں کهه سکتے هیں که یه وهی هے جو ابھی اس شکل میں هے۔ جس طرح اگر گذشته 100 % اپنے تمام پهلو، حدود اور مشخصات کے ساتھ آئنده میں باقی هو اس صورت میں بھی تغییر اور تبدیلی وجود میں نهیں آتی هے یعنی نهیں کهه سکتے که ایک چیز دوسری چیز میں بدل گئی هے بلکه جو چیز پهلے سے تھی ابھی بھی وهی چیز هے۔ حرکت ، تغییر اور تبدیلی صرف اس مورد میں صحیح هے که ایک طرف سے پهلی چیز کے کچھ پهلو معدوم جائے اور کچھ باقی ره جائے۔

اثبات کو مکمل طور پر نهیں اٹھاتی هے اور نفی نهیں کرتی هے اور اسی طرح نفی نفی بھی نفی کو مطلق معدوم نهیں کرتی اس بنا پر نفی نفی میں اثبات اور نفی دونوں موجود هیں بلکه اس صورت میں اثبات کامل تر شکل میں ظاهر هوتا هے۔
پس “نفی نفی” “اثبات +نفی” کا حاصل جمع هے لیکن الجبرے کے جمع کا حاصل نهیں هے جو صفر کا مساوی هے بلکه جدلیاتی اثبات اور نفی کا حاصل جمع هے جو نفی نفی کے مساوی هے یعنی جدید شرائط اور کامل تر وجود کے ساتھ۔ اسی طرح اگر نفی (دوسرے لمحے میں موضوع) کو مبداء قرار دیں تو اپنے سے بعد کے مرحلے کی نسبت اثبات هے لیکن اس سے بعد کے مرحلے (نفی نفی) کی نسبت اس کی نفی هوگی اور اس مرحلے کے بعد کے مرحلے(چوتھے مرحلے میں موضوع) میں نفی نفی هو گی اور اس ترتیب سے ارتقاء کا سلسله وجود میں آئے گا۔

البته یهاں ایک مطلب یه هے که آیا ضروری هے که متغیر شئ تغییر کے ذریعے اپنے بعض وجودی پهلو کھو دیں یا یه که ممکن هے صرف اپنے حدود اور مشخصات کو کھو دیں درحقیقت کوئی چیز نه کھوئے بلکه کچھ پائے یا حاصل کرے ؟ البته دوسرا فرض صحیح هے هم اس مطلب کے بارے میں بعد میں دوباره بحث کریں گے۔83

یه جاننا ضروری هے که ارتقاء کے ظهور میں “اثبات” اور “نفی نفی” کے درمیان نفی کافاصله آنا ایک لازمی امر هے کیونکه جب تک اثبات کی نفی نه هو،نفی جو که ارتقاء کا مصداق هے ، کی باری نهیں آتی هے اور اثبات اپنی جگه پر قائم رهتا هے۔
مثلا انڈا جو مادی اشیاء میں سے ایک ہے اور تحول و ارتقائی عمل میں سرگرم هے ایک ایسی فعلیت کا حامل هے جو انڈے کی موجوده حالت کو محفوظ کرتی هے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک متضاد قوه پر بھی مشتمل هے جو اپنی فعلیت کے ساتھ چاهتی هے اسے ختم کرکے ایک جدید فعلیت عطا کرے۔ پس اگر انڈے کو مبداء قرار دیں تو انڈا اثبات کی حیثیت رکھتا هے لیکن دوسرے لمحے میں جب چوزا وجود میں آتا هے تو وه حیثیت ختم هوجاتی هے۔84 اور تیسرے لمحے میں چوزا ختم هوکر مرغی میں بدل جاتا هے جو انڈے اور چوزے دونوں کی نفی کرتا هے۔ اسی طرح گندم کا تنا اور گندم کے خوشے بالترتیب اثبات و نفی اور نفی نفی کے مراحل سے گزرتے هیں باقی موجودات کی صورتحال بھی انهی کی طرح هے۔
کهتے هیں فطرت میں اس قانون کے استحکام سے هماری نظروں کے سامنے ایک جدید منظرنمودار هوتا هے اور هم دیکھتے هیں که مادی دنیا میں کوئی بھی چیز عینیت 85اور استقلال نهیں رکھتی اور دیکھتے هیں که وجود اور عدم (جدلیاتی اصطلاح میں ضدین) آپس میں بھر پور آشنائی اور اتحاد رکھتے هیں اور جمع هوتے هیں۔ اس بنا پر آج کی جدید ثقافت عینیت اور استقلال اسی طرح اجتماع ضدین کے محال هونے کے افسانه پر کان نهیں دھرتی هے۔
جدلیاتی مادیت کے حامی اس قانون کو “فطرت میں ارتقاء کا قانون “ سے یاد کرتے هیں اور اس کے تین ارکان کوجسےکبھی “تز، اینٹی تز، سنتز” اور کبھی”اثبات ، نفی، نفی نفی” اور کبھی “حکم ، ضد حکم، حکم مرکب” کا نام دیتے هیں(1)، تین بنیادوں پر استوار کرتے هوئے اسے نهایت اهمیت دیتے هیں اور ان تمام موارد میں جهاں حرکت، پیشرفت، تحول اور ارتقاء کی نمائش هو اس قانون کو اجراء اور قابل تطبیق جانتے هیں:

اور حال هی میں بعض نے “وضع(کتاب منطق الشفا اور جوهرالنضید وغیره کی بحث صناعت جدل میں وضع اور سائل و مجیب کی اصطلاحات کی طرف مراجعه کریں) وضع مقابل ، وضع مجامع” کی اصطلاح سے تعبیر کیا هے86
پهلے هم نے کها تھا که “اثبات (یا تصدیق) ، نفی اور نفی نفی” کی اصطلاح هیگل کے ساتھ مخصوص هے ۔ هیگل سے پهلے مثلث “تز ، اینٹی تز، سنتز “ صرف “موضوع ، ضد موضوع، ترکیب “ کی شکل میں بیان هوتا تھا ۔ هیگل نے اس فرض کی بنا پر که تناقض فکر اور اشیاء کی بنیاد هے اسے “اثبات، نفی اور نفی نفی” کی شکل میں بیان کیا ۔ هیگل کے مطابق “شدن” کا مفهوم عقلی رو سے وجود اور عدم کے مفهوم سے مرکب هے اسی طرح “شدن” کی واقعیت اور حقیقت بھی انهی دونوں سے مرکب هے۔ هیگل کے مطابق هستی هے لیکن ایسا وجود جو مکمل طور پر غیرمشخص اور غیرمتعین هو عدم کے برابر هےکیونکه اس کی تصدیق سے اس کی نفی لازم آتا هے لهذا نتیجةً کهه سکتے هیں که هستی نهیں هے۔ اگلے مرحلے میں نفی کی بھی نفی هوجاتی هے اس ترکیب کا مرحله آپهنچتا هے جس کی بنیاد پر کهه سکتے هیں که هستی شکل پذیز هے۔ 87
هیگل نے اشیاء کی واقعیت اور مفهوم کو تناقض کی بنیاد پر توضیح دینے کی خاطر مثلث کو اس شکل میں پیش کیا هے ۔

مادی جهاں ، فکر ، تمام اجتماعی حالات، اور اسی مناسبت سے هر جدید مادی موجود ، هر پیدا هونے والی نئی فکرمیں اقتصاد، سیاست، مرام، تاریخ اور ان سے متعلقه امور کی اجتماع سے وابسته هر ظهورکو “سنتز “ فرض کرتے هوئے دوسرے دو بنیادی اصول “تز اور اینٹی تز” کی تلاش میں هیں۔(1)

پل فولکیه کتاب مابعد الطبیعه کے صفحه نمبر 308 میں کهتا هے:
“هیگل کے مشهور قول کی بنا پر هر منطقی اور معقول امر ، موجود (واقع) اور هر موجودِ خارجی معقول هے۔ نتیجے میں منطق فکری علم کے معنی میں ، مابعد الطبیعه یا وجود کے بارے میں علم ، کے ساتھ ایک هے۔ اور واقع کو بیان کرنے کے لئے عقلی روش کی پیروی کافی هے۔ عقلی کاوش ، معروف تثلیثی سیر “ وضع، وضع مقابل ، وضع مجامع”کی بنیاد پر آگے بڑھتی هے اسی وجہ سےعقل اپنی فکری حرکت کو غیرمعین وجود(وضع) کے مفهوم سے شروع کرتی هے لیکن غیرمعین وجود“نه یه هے نه وه هے” “لاوجود” کے ساتھ مساوی هے(وضع مقابل)اور صیرورت(هونا) کے ذریعے یه دو متقابل مفهوم آپس میں جمع هوتے هیں (وضع مجامع) کیونکه صیرورت جو که وهی لاوجود سے وجود کی طرف خارج هونا هے وجود اور عدم دونوں سے مفید هے۔”
(1) ول ڈیورنٹ88 تاریخ فلسفه میں هیگل کی دیدگاه کی وضاحت کرتے هوئے کهتا هے۔89
“فکر یا اشیاء کی هر حالت اور کائنات میں موجود هر تصور اور حالت شدت کے ساتھ اپنے ضد کی طرف کھینچتی چلی جاتی هے۔بعد میں اس کے ساتھ متحد هو کر ایک عالی تر اورمستحکم مجموعے کو تشکیل دیتی هے۔ یه جدلیاتی حرکت هیگل کی تمام تحریروں میں دکھائی دیتی هے۔ قطعی طور پر یه ایک قدیمی نظریه تھاجس کی انباذقلس نے بنیاد رکھی ہےاور ارسطو “حد وسط”کےباب میں اس سے استفاده کرتے
اعتراضات
1 – جب ان تین بنیادی اصولوں“اثبات، نفی و نفی نفی” کی طرف نگاه کرتے هیں اور انهیں خارج سے تطبیق دیتے هیں تو هر ایک کے مد مقابل بعینه خارج میں ثابت پائیں گے نه کوئی اور چیز ۔ مثلا نفی کے مقابلے میں چوزا پائینگے نه که انڈے کی نفی، مقاله نمبر 7 میں هم نے ثابت کیا هے که عدم اور نفی ذھنی تجزیه اور تحلیل کا نتیجه هے جسے ذھن خارجی

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره قضیه سالبه، ناسازگاری، اصل تناقض Next Entries پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے