پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی

دانلود پایان نامه ارشد

ساتھ هے اور مکینک جس کا کام مشینوں اور خام مال کے ساتھ هے اور …
پس هر مادے سے هر چیزنهیں بنائی جا سکتی جس طرح هر راسته هر مقصداورہدف تک نهیں پهنچاتا؛ بلکه ماده اور اس چیز کے درمیان کسی مناسبت کا هونا ضروری هے تاکه وه خاص ماده ایک خاص چیز کی شکل اختیار کرسکے۔یه خصوصیت صرف صنعت میں نهیں هے بلکه صنعت کے علاوه طبیعت میں بھی هے۔(1)

پس اجمالی طورپریه نتیجه لیتے هیں که “ماده” کےوجودکی شرط کے علاوه ہرمصنوعی صورت کےلئے ہرمادہ کافی نہیں ہے۔
(1) جیسا که بیان هوا یعنی کسی مادے کا هونا، اور ایک خاص شکل وصورت کے لئے ایک مخصوص مادے کا هونا نه هر ماده ، صرف صنعت کے ساتھ مختص نهیں هے بلکه طبیعت میں بھی کسی طبیعی شکل و صورت کے وجود میں آنے کے لئے اولاً: کسی مادے کا هونا ضروری هے ثانیاً: هر طبیعی ماده هر طبیعی صورت کے لئے کافی نهیں هے ۔ طبیعی مادے بهت ساری طبیعی صورتوں کو قبول کرنے سےانکارکرتے هیں۔ ان کا یه انکار اس جهت سے نهیں هے که اس کا فاعل (وجود میں لانے والا)موجود نهیں هے یا صلاحیت نهیں رکھتاهے بلکه اس جهت سے هے که ان مواد کی ذات اس صورت کو قبول کرنے سے انکار کرتی هے ۔ مثلا کھجور کی گٹھلی انسان میں تبدیل نهیں هوسکتی لیکن انسان کا نطفه انسان میں تبدیل هو سکتا هے۔یه اس وجه سے نهیں هے که انسان کےنطفے میں انسان کے وجود میں آنے کی تمام شرائط موجود هے لیکن کھجور کی گٹھلی میں نهیں هے۔ فرض کریں وه تمام شرائط موجود بھی هوں کھجور کی گٹھلی انسان میں تبدیل نهیں هو سکتی۔ هاں اگر کھجور کی گٹھلی کوئی دوسرا راسته اختیار کرے جس کا اس میں امکان اور استعداد هو اور بتدریج نطفے میں بدل جائے تو اس صورت میں انسان میں تبدیل هو سکتی هے لیکن یه ایک الگ مطلب هے۔ هماری گفتگو اس میں هے که کھجور کی گٹھلی جب تک گٹھلی هے انسان میں تبدیل هونے کی صلاحیت نهیں رکھتی جبکه انسان کا نطفه جب تک نطفه هے انسان میں تبدیل هو سکتا هے۔

قطعی تجربه اور مشاهده اس بات پر گواه هے که عالم طبیعت میں پیش آنے والے تمام طبیعی تحولات اسی قانون کےپابند هیں۔ سیب کا بیچ صرف سیب کے درخت کی شکل و صورت کو قبول کر سکتا هے نه انار کا بیچ۔ اسی طرح سیب کے درخت سے صرف سیب کا پھل حاصل کیا جاسکتا هے نه کوئی دوسرا پھل۔ اور نه کسی اور درخت سے

کوئی بھی طبیعی ماده کسی بھی طبیعی صورت اختیار کرنا چاهئے تو ضروری هے که اس صورت کے اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا هو یعنی فلسفی اصطلاح میں اس صورت کی قوه اور استعداد کا حامل هو۔صنعت میں اس لئے یه قانون لاگو هے کیونکه صنعت بھی ایک قسم کا طبیعی عمل هے۔ طبیعت کے اس عظیم کارخانے میں همیشه تبدیلیاں رونما هوتی هیں اور ایک چیز دوسری چیز میں تبدیل هوتی رهتی هے ۔ طبیعت میں رونما هونے والے تغیرات اور تبدلات مصنوعی تغیرات اور تبدلات سے قابل موازنه نهیں هیں بعد میں ثابت کریں گے که طبیعت سوائے “هونا” اور “تغییر و تحول” کے کچھ نهیں هے۔ (یعنی طبیعت همیشه تغییر اور تحول کی حالت میں هے )اور جو تغیرات صنعت کے وسیله سے رونما هوتی هیں سطحی هیں۔ اور ناموں اورشکلوں میں تغیر و تبدل کے باوجود طبیعت میں موجود افراد کے درمیان ارتباط اور ان کو منظم کرنے کی حد سے تجاوز نهیں کرتی هیں۔لیکن طبیعی تغییرات اشیاء کے جوهر کی گهرائی تک نفوذ کرتی هیں اور طبیعی تغییرات میں اشیاء اپنی ماهیت میں تبدیلی لاتی هیں اور حقیقتا ایک ذات اور جوهر دوسری ذات اور جوهر میں بدل جاتا هے؛ چنانچه عنقریب توضیح دیں گے۔
طبیعت میں همیشه ایک چیز دوسری چیز میں بدل جاتی هے؛ بلکه طبیعت عین “تبدیل هونا” هے۔ اسلئےضروری هے که کوئی چیز هو تاکه دوسری چیز بن جائے ۔ “تبدیلی” ایک خاص نظام کے مطابق رونما هوتی هے یعنی هر چیز هر چیز میں بدلنے کی صلاحیت نهیں رکھتی بلکه صرف ایک چیز یا چند معین اشیاء میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی هے۔ فلسفی اصطلاح میں هر بالفعل موجودمستقبل میں هر حالت اور صورت میں بدلنے کی صلاحیت نهیں رکھتا؛بلکه ایک معین صورت میں تبدیل هونے کی صلاحیت رکھتا هے۔ مثلا گندم انسان یا مرغی بننے کی صلاحیت نهیں رکھتا صرف گندم کا خوشه بننے کی صلاحیت رکھتا هے۔

جس ماده نے انسان بننا هے ضروری هے پهلے انسان کی صورت کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا هو ورنه انسان وجود میں نهیں آسکتا ؛ پس وجود میں آنے والی هر شکل و صورت کے لئے ضروری هے که کوئی خاص ماده هو جو اس شکل و صورت کے هونے کا امکان رکھتاهو۔

دوسری طرف سےممکن نہیں ہےمستقبل کی هر حالت و صورت بغیر کسی ماده کے وجود میں آئے یا هر مادے سے وجود میں آئے یا هر مادے میں وجود میں آئے۔ مثلا گندم کا خوشه یا انسان کا بچه جو آئنده وجود میں آئیں گے “جو” یا “انڈے” سے وجود میں آنا ممکن نهیں بلکه ان کی پیدائش کسی خاص مادے سے ممکن هو سکتی هے۔
پس هر وه ماده جو کسی صورت کو قبول کرتا هو ایک خاص صفت کا حامل هوتاهے۔ اور وه صفت اس صورت کی صلاحیت اور استعداد هے ؛ چونکه یه صلاحیت مادے کی صفت هےاسلئے ماده کو اس صلاحیت کے”حامل” کا نام دیا جاتا هے کیونکه یه استعداد اور صلاحیت دوسرے مادے میں موجود نهیں هوتی هے۔ جو چیز دوسرے مادے میں موجود هوتی هے وه کسی دوسری چیز کی صلاحیت اور استعداد هے۔
یهاں سے واضح هو جاتا هے که حال اور مستقبل میں رابطه برقرار هے۔ اس کا مطلب یه نهیں هے که موجوده چیز اور آئنده حادث هونے والی چیز کے درمیان کسی قسم کا رابطه نه هو یا موجوده تمام چیزیں حادث هونے والی تمام چیزوں کے ساتھ برابری کی نسبت رکھتیں هوں یا موجوده کوئی بھی چیز آئنده کی کسی چیز کے ساتھ رابطه هی نه رکھتی هو؛ بلکه اس کے برعکس موجوده هر حصے کا آئنده کے هر حصے بلکه موجوده هر فرد کا آئنده کے هر فرد کے ساتھ ارتباط اور خاص مناسبت برقرار هے۔ ایک خاص چیز سے صرف ایک خاص چیز بن سکتی هے نه هر چیز۔ اسی طرح ایک خاص چیز صرف ایک خاص چیز سے وجود میں آسکتی هے جو اس چیز کا زمینه رکھتی هے نه هر چیز سے۔
پس اس کائنات میں اصل “شدن” (یعنی واقع هونا یا موجود هونا) ایک نظام کا پابند هے ۔ یه نظام فلسفی نگاه سے سابقه مادوں اور لاحقه صورتوں کے درمیان برقرار خاص نسبت سے اخذ کیا جاتا هے جسے فلسفے کی اصطلاح میں “ قوه و استعداد” اور کبھی “امکان استعدادی ”سے تعبیر کیا جاتا هے۔

یه امکان خود ایک امر وجودی هے(1) جس کے ذریعے ماده اور صورت کے درمیان ارتباط برقرار هوتا هے۔

(1) گذشته بیان سے معلوم هوا که کوئی چیز استعداد قبلی کے بغیر وجود میں نهیں آسکتی ۔ اور هر چیز کی استعداد اور صلاحیت خود اس چیز پر تقدم زمانی رکھتی هے۔ دوسری طرف سے هم جانتے هیں که “استعداد”ایک جداگانه اور مستقل وجود نهیں رکھتا جو ایک خاص چیز یا مخصوص شخص کی شکل اختیار کر سکےبلکه استعداد ایک صفت هے جو ایک خاص چیز پر صادق آتی هے۔ پس کسی موصوف کی ضرورت هے یعنی استعداد کے لئے مستعد کی ضرورت هے۔ لهذا ایک چیز کا هونا ضروری هے جو فلسفے کی اصطلاح میں “حامل” استعداد هو۔ پس هر موجود کے لئے ضروری هے که اس سے پهلے اس کی استعداد موجود هو۔ اور ضروری هے که اس سے پهلے دوسری چیز هو جو اس استعداد کا حامل هو ۔ حامل استعداد وهی هے جسے اصطلاح میں ماده کهتے هیں۔حکماء کے اس جملے کا معنی بھی یهی هے“کل حادث مسبوق بقوة و مادة تحملها” یعنی هر حادث سے پهلے اس کا قوه اور ماده جو اس قوه کو حمل کرتا هے،هوتا هے۔
اب اس بات کی باری هے که صفت “استعداد” یا “قوه” کی ماهیت اور حقیقت سے بحث کریں۔ یه صفت ایک وجودی اور واقعی صفت هے نه عدمی اور اعتباری، یعنی جو ماده کسی خاص شکل اور صورت کو قبول کرتا هے یه اس وجه سے هے که وه کوئی چیز رکھتا هے اور جو چیز وه رکھتا هے ایک واقعی اورحقیقی امر هے نه اعتباری اور فرضی۔ دوسرے الفاظ میں “استعداد” کا کلمه ایک حقیقت کی نمائندگی کرتاهے جو مادے میں هے ایسا هرگز نهیں هے که یه کلمه مادے کا ایک وجودی امرسے خالی ہونےیا کسی امر اعتباری اور بے اثر چیز کی نمائندگی کرتا هو۔
یهاں پر دو اور نظريے موجود هيں ايک نظريے کے مطابق قوه اور استعداد امرعدمي اور دوسرے کے مطابق اعتباري هے۔
عدمي نظريے کے حاميوں کا کهنا هے که بنيادي طور پر استعداد اور قابليت وجود کے نه هونے سے پيدا هوتی هے۔جس قدر کسي موجود کے کمالات اور تشخصات بڑھ جائے اس کی استعداد اور قابليت اور کسي دوسري چيز ميں تبديل هونے کا امکان کم هوجاتا هے ۔ اسی طرح جس قدر اس کی امتیازی خصوصیات اور وجودي پهلو کم هو کسي دوسري چيز ميں تبديل هونے کا امکان بڑھ جاتا هے۔حقيقت ميں کسي چيز کيلئے پيدا هونے والي هر صورت اور حالت بعد ميں پيدا هونے والي حالات اور صورتوں کيلئے ايک رکاوٹ اور مانع بنتي هے۔اور جس قدر وجودي حالات اور صورتيں پائي جائيں تغير اور تبدل اور جديد حالت کے قبول کرنے کيلئے موانع بھي زياده هونگے۔
پس اگر کوئي موجود اس حد تک پهنچ جائے که تمام کمالات اور صورتيں اس کے اندر پائی جائيں تو اس ميں کسي بھي جديد حالت کے قبول کرنے کےلئے استعداد نهيں هوگی۔ اس کے برعکس اگر کوئي موجود اس حد تک پهنچ جائے که اس ميں بالفعل(حال) کوئي بھي صورت اور حالت موجود نه هو تو اس کے اندر تمام چيزوں کي صورتوں کو قبول کرنے کی استعداد موجود هوگی۔
“هيولاي اولي” (ابتدائي ماده ) وه موجود هے جو اپني ذات ميں کسي قسم کي فعليت نهيں رکھتا اسي لئے اس ميں تمام چيزوں کے هونے کی استعداد موجود هے يعني اپني ذات ميں کسي بھي صورت اور حالت کو قبول کرنے سے انکار اور امتناع نهيں کرتا۔ “هيولاي اولي” کبھي بھي بغير صورت کے نهيں هے اور صورتيں ايک دوسرے کے ساتھ ضديت رکھتيں هيں يعني هر صورت صرف بعض صورتوں کے ساتھ مانعيت اور ضديت نهيں رکھتي باقي تمام صورتوں کے ساتھ مانعيت رکھتي هے۔ پس ديکھنے ميں آتا هے که بعض مادے صرف ايک خاص صورت کی استعداد رکھتے هيں جس کی وجہ سے گمان کيا جاتا هے که يه استعداد ايک وجودي امر هے۔ جبکه يه گمان بے بنیاد اور غلط هے ۔ کسي خاص صورت کی استعداد رکھنے کا معني يه هے که اس چيز کي موجوده صورت اس کے مادے کو جو هر صورت کي قابليت رکھتا هے اس خاص صورت کے علاوه باقي صورتوں کے قبول کرنے سے روکتی هے۔ مثلا گندم کے دانے ميں گندم کا خوشه بننے کی استعداد موجود هے نه جو ، خرما ، انسان اور دوسری چيزوں کا ۔ اگر هم مطلب کي حقيقت تک پهنچ جائے تو معلوم هوگا که گندم کے دانے کي موجوده صورت اس ميں موجود اصلي ماده کو يه اجازت نهيں ديتي که وه جو ، خرما يا انسان بن جائے ؛ يعني گندم کے دانے کي موجوده صورت ماده اصلي کے اوپر گندم هونے کے علاوه دوسرے تمام راستوں کو بند کرتي هے؛ پس تمام استعدادوں کي بازگشت مانع سے خالي هونا هے ۔
يه جو کها جاتا هے که “هيولائ اولي “ ميں بغير استثني اور تفاوت کے تمام چيزوں کي استعداد هے اس معني ميں هے که “هيولاي اولي” وجود اورتشخص نه رکھنے اور تمام فعليتوں کے فاقد هونے کي وجه سے کسي بھي چيز کو قبول کرنے سے انکار نهيں کرتا هے۔ اور يه جو کها جاتا هے که گندم کے دانے يا کھجور کي گٹھلي يا انسان کے نطفے ميں کسي خاص چيز کي استعداد هے اس معني ميں هے که ان ميں سے هر ايک ميں صرف ايک خاص صورت کے علاوه باقي تمام صورتوں کي نسبت مانع اور رکاوٹ موجود هے۔
يه نظريه قابل قبول نهيں هے اس نظريے کي بنياد يه هے که اجسام اپني انتهائي اورحتمی تحليل ميں دو جز پر تقسیم هوتے هيں ۔ ان ميں سے ايک قابليت کي فعليت کے سوا کوئي فعليت نهيں رکھتا هے جسے اصلي ماده اور هيولاي اولي کها جاتا هے۔ اور دوسرا جز جسم کي صورت جسمیہ هے جس کي حقيقت طول و عرض (بعد و امتداد) هے۔ ارسطو17 کا معروف نظريه “پنچگانه جواهر” بھي اسي اساس اور بنياد پر موقوف هے۔ معروف برهان “فصل و وصل” بھي اسي مدعا کو ثابت کرنے کيلئے هے۔
ليکن هم اس عقيدے کو صحيح نهيں سمجھتے هيں ۔همارے عقيدے کے مطابق جسم ماده اور صورت ميں تجزيه اور تحليل نهيں هوتا ، ماده اور صورت جسم کے اجزاء تو هيں؛ ليکن تحليلي اجزاء هيں نه

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره شهید مطهری، امام خمینی، علامه طباطبائی، انقلاب اسلامی Next Entries پایان نامه ارشد درباره امکان استعدادی، ترکیب اتحادی