پایان نامه ارشد درباره اصالت الوجود، حرکت طبیعی، حرکت جوهری

دانلود پایان نامه ارشد

زمان بھی جو که طول اور امتداد رکھتا هے امتداد سے عاری لمحات کے مجموعے سے مرکب هے ۔ حرکت بھی جو مسافتی اور زمانی امتداد رکھتی هے سکون کے چھوٹے ذرات جو که امتداد سے خالی هے سے مرکب هے اور سکون میں سے هر ایک، هر لمحه پر اور جسم کے ذرات میں سے هر ذره هر لمحه میں مسافت کے هر ذره پر منطبق آتی هے۔
لیکن یه نظریه باطل هے ۔ “ جز ءلا یتجزّی “ کے بطلان پر موجوددلائل اسی طرح اس مقاله میں امکان اور فعلیت کی وحدت اور اتصال پر جو دلائل قائم کئے گئے هیں اس نظریے کو مکمل طور پر رد کرتے هیں۔حقیقت یه هے که حرکت ایک متصل اکائی هے جو مسافت اور زمان سے ممتد اکائیوں پربھی صدق آتا هے۔

جسم کی حرکت مکانی ایک جسم کی مکانی نسبت کاتبدل اور سیلان کی صفت اختیار کرنا هے اس طرح که اگر امکان کو وحدت کے محفوظ رکھنے کے ساتھ زمان کے دو لمحوں میں موازنه کریں تو مکان لمحه اول میں لمحه دوم (وحدت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ) کا غیر هے۔(1)
سیلان، جریان اور تدریجی تغیر اور تبدل سے مراد یهی هے جیساکه بیان هوا۔ امکان اور فعلیت یهاں پر مخلوط هیں اور حرکت کے مفروضه اجزاء ایک لمحه میں ایک ساتھ کبھی جمع نهیں هو سکتے۔

(1) گذشته بیانات سے واضح هوا که “حرکت” موجودات (پدیده) کے مجموعے سے هٹ کر کوئی چیز نهیں هے۔ بلکه اس سے مراد یه هے که جسم کی صفات میں سے ایک صفت (مثلا مکانی نسبت فلسفه کے اصطلاح میں “این” ) اپنی ثبات کو تبدل اور سیلان کی صفت میں بدل دے ۔ البته نه اس معنی میں که “این” مکانی نسبت اپنے وجود پر زائد ایک صفت رکھتی هے اور اسے بدلتی هے۔ بلکه اس معنی میں که وجود کا ایک قسم وجود کے کسی اور قسم میں بدل جاتا هے ۔ ثابت وجود سیال میں بدلتا هے ۔ جیسا که هم جانتے هیں که وجود ایک ذات کی عین وجود اور واقعیت هے نه کسی وجود یافته ذات کے لئے ایک حالت هے۔ اگر اس بارے کلمه صفت استعمال کریں تو جاننا چاهئے که باقی تمام صفات کے ساتھ جو ذات اور واقعیت کے تحقق کا فرع هے فرق کرے گا۔
یهاں سے حرکت کی بهترین تعاریف حاصل کر سکتے هیں۔ “حرکت سے مراد تدریجی طور پر وجود میں آنے والی شئ کا طرز وجود هے” دوسرے لفظوں میں “حرکت وجود کا تدرج هے”۔ یه تعریف اصالت الوجود کے اصل کی بنا پر هے۔ اصالت الماهیت کی بنا پر ایسی تعریف ممکن نهیں هے۔ اور حقیقت یه هے که حرکت سوائے اصالت الوجود کے قابل تعریف، تفسیر اور توجیه نهیں هے۔
حرکت کی بهت تعریفیں کی گئی هیں۔ (مراجعه کریں کتاب طبیعیات الشفاء چاپ قدیم، تهران، صفحه 35، اور اسفار کے جلد اول ، چاپ قدیم، صفحه 215) بهترین اور جامع ترین تعریف یهی تعریف هے ۔ صدر المتألهین نے خود اس فصل میں جو حرکت کی تعریف سے مربوط هے ، اس تعریف کو ذکر نهیں کیا هے لیکن حرکت کی ماهیت کے بیان میں موجود ان کے کلمات سے یهی تعریف حاصل هوتی هے۔
حرکت کےمفهوم کی وسعت
حرکت کے لئے جس مفهو م کو هم نے بیان کیا هے اگر چه اس کا تعلق جسم کی مکانی حرکت سے هے۔ لیکن تھوڑی بهت دقت کے بعد هم یه حکم لگا سکتے هیں که جسمانی تغییرات اور تبدیلیوں کے تمام موارد میں جسے هم “جسم کے مادی حالات میں تبدیلی” کے عنوان سےدیکھتے ہیں اور انهیں هم “وحدت” کی صفت سے متصف کرتے هیں، حرکت کا مفهوم صادق آتا هے۔ مانند حرارت، روشنائی کی سطح کا بڑھنا، بو اور رنگ کا تبدیل هونا ، جسم کی جسامت کا بڑھنا ، اجسام کی جاذبیت اور پائیداری کا بڑھنا، خلاصہ هر وه تغییر جو جسم کے لئے صفت اور حالت بن سکتی هے، مذکوره تعریف کے زمرے میں آ سکتی هیں۔
اگر هم ان تمام میں یا هر ایک میں واقعی وحدت کو اثبات کرسکیں تو حرکت کا مفهوم اس کے تدریجی تغییر کےساتھ قابل انطباق هو جائے گا۔
پس نتیجے میں یه کهنا ضروری هے که : “ هر وه تدریجی تغییر جو جسم کی کسی صفات یا حالات میں رونما هوتی هے حرکت کهلاتی هے” (1)۔
اسی طرح تھوڑی بهت دقت سے معلوم هوتا هے که اگر مادی دنیامیں جوهری صورتوں کا ایک سلسله جو کسی دن نهیں تھا اور ایک دن وجود میں آئے گا فرض کریں تو حرکت کی مذکوره تعریف ان موارد پر بھی قابل انطباق هے۔ یهاں سے ایک کلی قانون سمجھا جا سکتا هےکه:

(1) اس کائنات کی اشیاء میں رونماہونے والی تغییرات اور انتقالات صرف مکانی انتقالات اور تغییرات نهیں هیں بلکه کیفی ، کمی ، وضعی اور جوهری تغییرات بھی وجود رکھتی هیں۔ مانند سطح حرارت کا بڑھنا(کیفی تغییر)، جسامت کا بڑھنا (کمی تغییر) ، ایک جسم کا اپنے گرد گھومنا( وضعی تغییر) ایک جسم کا ایک قسم سے دوسری قسم میں منتقل هونا (جوهری تغییر) ۔ وه تمام چیزیں جو مکانی تغییر میں بیان هوئی هے ان تغییرات میں بھی جاری هے ۔ جس طرح مکانی تغییرات سوائے حرکت اور سیلانی ممتدوجود کے ممکن نهیں هے باقی تغییرات میں بھی ایساهی هے۔
“حرکت طبیعی کائنات کے تمام شعبوں اور حالات میں حاکم هیں” یا مختصر عبارت میں “طبیعی کائنات حرکت کے مساوی هے”فی الحال اس کلی قانون کے بارے میں اسی مقدار بحث پر اکتفاء کرتے هیں آگے چل کر مزید اس پر گفتگو کریں گے۔
نیز گذشته بیان سے واضح هوا که حرکت کے مورد میں وجود اور عدم دونوں جمع هوتے هیں لیکن یه گمان نه کریں که یه نظریه اجتماع نقیضین کے امتناع کےقانون کو نقض کرتا هے ۔ کیونکه عدم اور وجود هماری اس بحث میں تدریجی عدم اور وجود هے جبکه وه عدم اور وجود جن کا اجتماع بدیهی الامتناع هے عدم اور وجود مطلق هے۔ یه بحث بھی تھوڑی بهت دقت سے واضح هوجاتی هے۔(1)

یهاں دو مطلب هیں : ایک یه که آیا واقعا وه جسے کیفی یا کمی یا جوهری تغییر کهتے هیں اشیاکی کیفیت یا کمیت یا جوهر کی جهت سے وجود میں آتا هے؟ یا تمام کیفی، کمی اور جوهری تغییرات سائنسی جهت سے مکانی تغییر کے علاوه کچھ نهیں هے؟ دوسرا یه که فرض کریں هم ان تغییرات کو ایک اور قسم (حرکت مکانی کے علاوه)جان لیں تو آیا مقوله حرکت سے هے یا نهیں؟
جو چیز اس مقاله میں ثابت هوِئی هے دوسرا مطلب هے لیکن مطلب اول جدید سائنسی اصولوں کے مطابق اس کا اثبات اشکال سے خالی نهیں هے۔ میکانیکی فلسفه کے مطابق تمام تغییرات اصل اور ریشه کے حساب سے مشینی اورمکانیکی هیں۔
هم بعد میں خاص طور پر جوهری تغییرات کے بارے میں بحث کریں گے اور بتائیں گے که دنیا کو صرف مشینی نگاه سے توجیه نهیں کرسکتے ۔ جو تغییرات اور تبدیلیاں دنیا میں رونما هوتیں هیں ان میں سے بعض جوهری تبدیلیاں هیں یه جو متن میں بصورت تردید بیان هوا هے “ اگر مادی دنیا میں جوهری صورتوں کا ایک سلسله هوجو ایک دن معدوم تھا اور ایک دن وجود میں آئیں گی…” مشینی فلاسفرز کی طرف اشاره هے جو جوهری تبدیلیوں کے منکر هیں۔
(1) اسی مقاله میں هم بعد میں اس کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ پهلے مقاله نمبر ایک اور دو میں بھی مختصر گفتگو هوئی هے۔
حرکت اورارتقاء
ارتقاء، کمال کا قبول اور حاصل کرنا هے اور کمال وهی فعلیت هے جسے جسم اپنی فعالیت کے دوران حاصل کرتا هے ۔ ساده الفاظ میں کمال اس افزائش اور اضافے کو کهتے هیں که ایک موجود اپنی هستی اور وحدت کے گردو پیش جس تک پهنچ جاتا هے۔(1)

(1) تکامل کی بحث فلسفه کی اهم ترین مباحث میں سے هے۔ یه بحث خصوصا جدید فلسفه میں ایک بلند مقام رکھتی هے ۔ انسویں صدی میں بعض فلاسفرز مانند هربرت اسپنسر31نے اپنی فلسفی تحقیقات کی بنیاد کو اصل ارتقاء قرار دیا۔ برگسون32 فرانسوی بھی اصل ارتقاء کے لئے نہایت اهمیت کا قایل تھا۔ حیاتیات میں انواع کے تکامل اور تبدل اور عمرانیات میں اجتماع کےارتقاء کا انکشاف سبب بنا که ارتقاء فلسفه اور سائنس میں بھی بلند مرتبه حاصل کرے۔ اسلامی فلسفه میں جو لوگ حرکت جوهریه کے قایل هیں اصل تکامل کے لئے بلند مرتبه کے قایل هیں ۔ اب دیکھنا یه هے که تکامل کی حقیقت کیا هے ۔ آیا تکامل ایک عمومی قانون هے ؟ یا ایک ایسا حادثہ (پدیده) هے جو بعض موجودات کے ساتھ مخصوص هے؟

مثلا نومولود بچه جو بڑوں کے تمام استقلالی فعالیتوں سے محروم هے اور دوسروں کی سرپرستی میں زندگی بسر کررها هے جب بھی چلنے ، بولنے اور غور و فکر کرنے لگے اور منظم انداز میں اپنی زندگی کا آغاز کرے تو گویا وه ایک کامل انسان بن چکا هے، یعنی وه فعالیتیں جو اپنے وجود میں نهیں رکھتا تھا اب اس سے ملحق هوگئی هیں جو مجموعی طور پر ایک کامل انسان کو تشکیل دیتی هیں۔

بعنوان مقدمه اس بات کی یاد دهانی ضروری هے که اس مقاله کےگذشته مباحث دو مطلب کے گرد گھومتے تھے۔1 – قوه اور فعل2 – حرکت ۔ همارے فکر کا نقطه آغاز یهاں سے تھا که هم نے واضح اور شفاف الفاظ میں اور بغیر کسی شک کے کها که یه جهاں ساکن اور جامد اور ثابت نهیں هے۔ اشیاء اپنی ابتدائی حالت پر باقی نهیں رهتی۔ ایک حالت سے دوسری حالت اور ایک مرحله سے دوسرے مرحلے میں بدلتی رهتی هیں۔ جو چیز اس کائنات میں هےتبدیلی کے سوا کچھ نهیں هے۔یهاں سے گذشته اور آئنده کے بارے میں رابطے کا پته چلتا هے جسے هم نے قوه اور فعل کا نام رکھا هے۔ اس کے بعد هم نے ثابت کیا که اشیاء کا بالقوه حالت سے بالفعل حالت میں بدلنا تدریجی صورت (دفعی اور آنی کے مقابلے میں) کے علاوه ممکن نهیں هے۔ یهاں سے هم اصل حرکت کو ایک عمومی اصل کا عنوان دے سکتے هیں۔ اب هم چاهتے هیں که ایک دوسرے مرحلے میں داخل هو جائیں اور تیسرے مفهو م کی بحث شروع کریں جو تکامل کا مفهوم هے ۔ اب دیکھنا یه هے که آیا حرکت تکامل کے مساوی هے یا نهیں؟ دوسرے لفظوں میں جس طرح هم نے اصل تغییر اور شدن (واقع هونا) سے قوه اور فعل کے قانون کو ایک عمومی قانون کےعنوان سےتسلیم کیا هے اور اصل قوه اور فعل سے حرکت کے قانون تک پهنچے هیں آیا هم اصل حرکت سے تکامل کے قانون کو ایک عمومی قانون کے طور پر انکشاف کر سکتے هیں یا نهیں؟تکامل کیاهے؟ تکامل یعنی نقص سے کمال میں بدلنا۔نقص اور کمال کیا هے؟ “نقص “ کبھی تمام اور کبھی کمال کے مقابلے میں لایا جاتا هے ۔ کمال کے مقابلے میں نقص سے مراد شئ کا اپنے بعض اجزاء کو نہ رکھنا ناقص کتاب یعنی ایسی کتاب جو اپنے بعض ابواب اور اوراق کو نه رکھتی هو ۔ تمام کتاب یعنی وہ کتاب جو اپنےتمام ابواب اور اوراق پر مشتمل هو ۔ اسی طرح هے ناقص عمارت اور تمام عمارت ، ناقص نماز اور تمام نماز۔ پس ناقص تمام کے مقابلے میں اس وقت کها جاتا هے که شئ اپنے بعض اجزاء رکھتی هو اور بعض کو نه رکھتی هو۔ لیکن نقص کمال کے مقابل میں ایک دوسرا معنی رکھتا هے اور وه یه هے که ایک شئ نےجن تمام مراحل کو طے کرنا تھا طے نهیں کیا هے ۔ اور وه تمام امکانات جسے طبیعت نے اسے فراهم کیا هےحاصل نهیں کیا هے ۔ مثلا ایک بچه اپنے جسم کا ایک حصه نهیں رکھتا هو تو وه ناقص الخلقة هے ۔ اس معنی میں که تام الخلقه نهیں هے ۔
یهاں سے معلوم هوتا هے که حرکت کا مفهوم جس طرح هم نے وضاحت کی هے تکامل کے معنی پر قابل انطباق هے کیونکه حرکت کے اجزاء کے جس جز کو بھی فرض کریں ، مفروضه جز بعد کے جز کا امکان رکھتا هے اور اس امکان کی فعلیت کو جو مفروضه جز کا کمال هے قبول کرتا هے۔

لیکن ایک تمام الخلقه بچه چونکه ممکن هے چلنے ، بولنے اور عالم هونے کے مراحل کو بعد میں طے کرے اور ابھی ان مرحل کو نهیں رکھتا هے وه ایک ناقص انسان هے اس معنی میں که اپنے ممکنه کمال تک نهیں پهنچا هے ۔ پس دو سلسلے هیں پهلا یه که ایک چیز اپنے اجزاء کے اعتبار سے ناتمام هے ۔ دوسرا یه که اس شئ کے لئے ترقی کے مراحل موجود تھے جسے حاصل نهیں کیا هے۔
اسی وجه سے مفهوم کمال میں مفهوم “ارتقاء”پوشده هے مفهوم تمام کے برعکس۔ پس جب هم مثلا نماز پڑھتے هیں یا گھر بناتے هیں تو نماز یا گھر “تمام” کی طرف جاتے هیں لیکن جب هم بچے تھے اور بڑے هو جاتے هیں یا جب هم تعلیم حاصل کرتے هیں تو “کمال”کی طرف جاتے هیں۔ شاید اس آیه شریفه میں فرماتے هیں: “ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي”33 کلمه “کمال” بھی استعمال هوا هے اور کلمه”تمام” بھی۔ یه اسلئے هے که دونوں مفهوم صحیح اور درست هے۔ ایک طرف سے خود دین نے جو ایک کمال طلب

پایان نامه
Previous Entries پایان نامه ارشد درباره کے، هے، میں، سے Next Entries پایان نامه ارشد درباره ناسازگاری، عالم ماده